*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ*

*احکام رمضان المبارک
*روزے میں خون نکلنے کا حکم:*

(۱) روزے کے دوران جسم کے کسی حصے سے بھی خون نکلے گا تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ البتہ وضو فاسد ہو جائے گا۔ اس لئے روزے کے دوران جسم کے کسی حصے سے بھی خون نکل جائے ، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ مثلا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور خون نکلا یا جسم کٹ گیا، خون نکلا یا نکسیر جاری ہوگئی یا بواسیر سے خون خارج ہوا وغیرہ تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ 

(۲) اگر کوئی روزہ دار دن میں سویا یا نیند سے اٹھا تو اس کے دانت میں خون تھا یہ یقین نہیں کہ سونے کے دوران خون حلق میں گیا یا نہیں تو روزہ فاسد نہیں ہوگا اور اگر یقین ہے کہ خون حلق میں گیا ہے اور خون کی مقدار تھوک سے زیادہ ہے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہو جائے گا ۔ قضا لازم ہوگی ورنہ نہیں۔ 
 (۳) اگر منہ سے خون نکلتا ہے، اس کو تھوک کے ساتھ نگل لیا ہے اور خون کی مقدار تھوک سے زیادہ ہے تو روزہ فاسد ہو جائے گا، ایک دن قضا کر نالازم ہوگا۔ اور اگر خون کی مقدار تھوک سے کم ہے تو اس صورت میں روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ 
(۴) روزے کے دوران اگر کسی مریض کو خون دینے کی ضرورت ہے تو خون دینا جائز ہے ۔ اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، البتہ اتنا خون دینا جس سے کمزوری آجائے مکروہ ہے۔ لیکن روزے پر کسی قسم کا اثر نہیں ہوگا۔ 
(۵) اگر روزے کے دوران خون چڑھانے کی ضرورت ہے تو خون چڑھا سکتے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ (۵)
واللّٰہ اعلم بالصواب
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ