کیا خیال ہے کہ آج ایک غزل ہی ہو جائے
ظالموں پر نہ افسوس کوئی کرے
 قاتلوں پر نہ آہیں کو ئی بھی بھرے
 جن کو مٹی کا پیوند رب نے کیا
 جو ہو مومن اُنہیں آج پرسہ نہ دے!
قاتلو!
ہاں تم ہی ہو نا وہ
 جس نے برسوں تلک
 میرے بغداد اور اُس کے اطراف میں
 میری مظلوم امّت کے ایک دو نہیں
 پورے دس لاکھ بچّوں کا مثلا کیا
 مائوں کی جھولیوں سے اُنہیں کھینچ کر
 بھوک اور مرض کے جال میں بھینچ کر
 کند چھریوں سے اُن کو ذبح کر دیا
کافرو!
پھر تم ہی ہو نا وہ
 جس نے تیموروکشمیروشیشان میں
 جس نے فلپین وصومال و سوڈان میں
 میرے ایک ایک قاتل کو پرسہ دیا
 نیل کے ساحلوں سے ملایا تلک
 ردِّ اسلام کی جو بھی سازش ہوئی
 سر پرستی تمہاری ہی اُس میں رہی
اور کسی نے نہیں
 میری اقصیٰ کو تاراج تم نے کیا
 میرے کعبہ کو گھیرے میں تم نے لیا
 وہ جزیرہ عرب تھا جہاں پر کبھی
 اُترا کرتے تھے جبرائیل لے کر وحی
 اُس کی حرمت کو پامال تم نے کیا
 سرزمینِ حرم ، وہ دیا رِنبی صلی اللہ علیہ وسلم
 جس سے لشکر نکلتے تھے اسلام کے
 اپنے ناپاک قدموں سے روندا اُسے
 اُس کے پانی پہ خشکی پہ قبضہ کیا
 پوری امّت کو نرغے میں ایسے لیا
 اُس کے اڈّوں سے اُڑ اُڑ کے چاروں طرف
 تم نے ہی ٹام،ہاک اور ڈیزی کٹر
 ہم پہ برسائے دن رات شام وسحر
 ہم پہ یورانیم کی جو بارش ہوئی
 تمہارے ہی دستِ ستم سے گری
 یہ تم ہی تھے کہ جس کی ہوَس کی نظر
 کتنی معصوم کلیوں کے دامن ہوئے
 کتنے سجدہ کناں تھے کے جن کے بدن
 آن ہی آن میں چیتھڑے بن گئے
یہ تمہارا ستم در ستم دیکھ کر
 چیخنے تک کی نہ تھی اجازت مگر
 پھر بھی چُپ سادھ کر
 ہم سسکتے،بلکتے،تڑپتے رہے
ہاتھ پر ہاتھ رکھے یوں ہی بے سبب
 آسمانی مدد کو ترستے رہے
 خود پہ ہنستے رہے
 ذلّتوں کا یہ زہرآب پیتے رہے
 روز مرتے رہے روز جیتے رہے
اب مگر قاتلو!
انتہا ہو گئی
 امن کی لو ریاں سن چکے ہم بہت
 وہ کہانی گئی
 وہ فسانہ گیا
 ہر بہانہ گیا
 ہاتھ پر ہاتھ رکھے یوں ہی بے سبب
 آسماں دیکھنے کا زمانہ گیا
“وَاَعِدّ ُلَھُمْ” کی سناء تھام کر
 “تُرْ ھِبُوْنَ بِہِ” کا علم گاڑھ کر
 دامنِ ہند و کش میں برسوں تلک
 ہم نے “اَلْحَمْدُ ” سے لے کر “وَالنَّاسِ” تک
 جو بھی کچھ ہے پڑھا وہ بھلایا نہیں
 ہم پہ روئیں ہماری ہی مائیں صدا
 ہم نے تم کو اگر یوں رُلایا نہیں
روند کر اہلِ ایمان کی بستیاں
 کیسی جنت بسانے کے خوابوں میں ہو
 یہ تو ممکن نہیں عیش سےتم رہو
 اور ملت ہماری عذابوں میں ہو
منتظر اب رہو
ہاتھی والو!
 زرا آسمانوں سے لکھے نوِشتے پڑھو
 بڑھ رہے ہیں تمہارے قلعوں کی طرف
 موت کے کچھ بگولے ، کچھ آتش فشاں
 جُرأتوں کے دھنی ، امّتوں کے نشاں
 کچھ ابابیل ، ایسے شہیدی جواں
 لو تباہی کا اپنی تماشا کرو
 عمر باقی ہے تو زخم دھوتے رہو
 خود پہ روتے رہو!
ظالموں پر نہ افسوس کوئی کرے
قاتلوں پر نہ آہیں کو ئی بھی بھرے
جن کو مٹی کا پیوند رب نے کیا
جو ہو مومن اُنہیں آج پرسہ نہ دے!
منقول 
بس آج اسی صدا کے اندر ایک طوفان برپا ہے