Translation unavailable. Showing original.
غدار اسلام غلام احمد قادیانی
06 مارچ، 2026
مرزا غلام احمدقادیانی
ان دنوں مرزا غلام احمد قادیانی سیالکوٹ ڈی سی آفس میں معمولی درجہ کا کلرک تھا۔ اردو، عربی، فارسی اپنے گھر ہی میں پڑھی تھی، مختاری کا امتحان دیامگر ناکام ہوگیا، غرضیکہ اس کی تعلیم دینی و دنیاوی دونوں اعتبار سے ناقص تھی، چنانچہ اس مقصد کے لیے انگریزی ڈپٹی کمشنر کے توسط سے مسیحی مشن کے ایک اہم اور ذمہ دار شخص نے اس سے ڈی سی آفس میں ملاقات کی، گویا یہ انٹرویو تھا مسیحی مشن کا اور ساتھ ہی یہ شخص انگلینڈ روانہ ہوگیا اور مرزا قادیانی ملازمت چھوڑ کر قادیان پہنچ گیا۔ باپ نے کہا کہ نوکری کی فکر کرو، تو اس نے کہا کہ میں نوکر ہوگیا ہوں، پھر بغیر مرسل کے پتہ کے منی آڈر ملنا شروع ہوگئے۔ مرزا قادیانی نے مذہبی اختلافات کو ہوا دی، بحث و مباحثہ اور اشتہار بازی شروع کردی۔ یہ تمام تر تفصیل مرزائی کتب میں موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کام کے لیے برطانوی سامراج نے مرزا قادیانی کا انتخاب کیوں کیا؟ اس کا جواب مرزائی لٹریچر میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی کا خاندان جدی پشتی انگریز کا نمک خوار، خوشامدی اور مسلمانوں کا غدار تھا۔ اور مرزا قادیانی کے والد نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں برطانوی سامراج کو پچاس گھوڑے مع سازو سامان کے مہیا کیے اور یوں مسلمانوں کے قتلِ عام سے اپنے ہاتھ رنگین کرکے انگریز سے انعام میں جائیداد حاصل کی۔ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے: میرے والد کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدماتِ سرکار میں مصروف رہا۔ ستارۂ قیصریہ صفحہ نمبر :۴ پر اپنے بارے میں لکھتا ہے کہ:
’’ میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنتِ انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا اور میں نے ممانعتِ جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں اس سے بھر سکتی ہیں۔‘‘
غرضیکہ مرزا قادیانی کی گوشت پوست میں انگریز کی وفاداری اور مسلمانوں کی غداری رچی بسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقصد کے لیے انگریز کی نظرِ انتخاب مرزا قادیانی پر پڑی اور اس کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جن حضرات کی مرزائی لٹریچر پر نظر ہے، وہ جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی ہر بات میں تضاد ہے، لیکن حرمتِ جہاد اور فرضِ اطاعتِ انگریز ایک ایسا مسئلہ ہےکہ اس میں مرزا قادیانی کی کبھی دو رائیں نہیں ہوئیں، کیونکہ یہ اس کا بنیادی مقصد اورغرض وغایت تھی، یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو گورنمنٹ برطانیہ کا خودکاشتہ پودا قرار دیا۔
حاجی امداداللہ مہاجرمکیؒ
دارالعلوم دیوبند کے سرخیل حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ نے اپنے نورِایمانی اور بصیرتِ وجدانی سے مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت سے پہلے پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ سے حجازِ مقدس میں ارشاد فرمایاکہ: پنجاب میں ایک نیا فتنہ اُٹھنے والا ہے، اللہ اس کے خلاف آپ سے کام لیں گے، بیعت وخلافت سے سرفراز فرمایا اور اس فتنہ کے خلاف کام کرنےکی تلقین بھی فرمائی۔
تاجدار ختم نبوت زندہ باد