استاذ محترم کی خدمت اور ہمارے تأثرات
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قصبہ حسن پور کا نام میرے کانوں میں اس وقت ٹکرایا جب راقم جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ کے اندر عربی چہارم میں زیر تعلیم تھا،سال چہارم وہاں کا پہلا تعلیمی سال تھا،اس لیے اطراف کے علاقےکی معلومات نہ ہونے کے درجہ میں تھی-
سالانہ تعطیل ہوچکی تھی اور بعض احباب رخت سفر باندھ رہے تھے انہیں میں کچھ احباب وہ بھی تھےجو کہہ رہے تھے کہ ہم حسن پور جارہے ہیں ، شنید کہ وہاں تعلیمی ماحول بہتر اور یکسوئی کے ساتھ فراہم ہوتاہے ، طلبہ کسی استاذ کی نگرانی میں خوب محنت کرتے ہیں ،تکرار و مطالعہ ہوتاہے ،ذوق وشوق اور خوب رغبت دلائی جاتی ہے،دعائیں خوب ہوتی ہے ،اتنا سناتھا بس ،پھر راقم گھر چلاگیا اور کچھ ساتھی یہاں(حسن پور)آگیے -
جب راقم عید بعد دیوبند پہونچا تو دیکھا کہ وہ تمام ساتھی پر اعتماد ہیں ، امتحان ہوا اور پھر بہت سے ساتھیوں کا دارالعلوم دیوبند میں داخلہ ہوگیا-
میرا نام نہیں آیا تو میں اپنے سابق مدرسے کا رخ کیا اور سال پنجم پورا کیا اور خواہش تھی امتحان داخلہ دوں، مگر کچھ علالت اور ساتھ ہی دسویں امتحان کی تاریخ نکل آئی اور جس کی وجہ سے امتحان داخلہ سے محروم رہا-
امسال شروع میں ہی میں نے والدہ ماجدہ کو یہ آگہی دے دی تھی کہ اس مرتبہ رمضان میں آپ کے ساتھ نہیں گزاروں گا ، والدہ کو تفصیلات سے مطلع کردیا تو گویا ہوئی کہ کوئی بات نہیں -
خیر سال ہفتم رسما وروایتا پورا ہوا تو استاذ محترم حضرت مولانا مجتبی صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ (مہتمم جامعہ دارالسلام حسن پور امروہہ) سے رابطہ کیا اور دارالعلوم میں داخلہ کی تیاری کےلیے آنے کی خواہش ظاہر کی تو حضرت نے پندرہ شعبان کو آنے کی اجازت مرحمت فرمائی ،پھر چھٹی کے چند روز بعد حسن پور فروکش ہوا-
ابتداء تو یہاں کچھ دشواریاں ہوئی مگر رفتہ رفتہ عادت بن گئی تو اب دشواریاں محسوس نہیں ہونے لگی ،چونکہ مولانا یہاں دل لگانے میں بھی ماہر اور طلبہ کی نفسیات کو بہتر سمجھتے ہیں ،لہذا شروع شروع میں گشت وغیرہ کی رخصت دی ،پھر دل لگنے کے بعد تعلیمی سرگرمی مکمل طور شروع ہوگئی، بعض غیر مطول کتابوں کے اسباق شروع کردیے، تکرار و مطالعہ کا پابند بنادیاگیا، تعلیم میں سختی تھی ،ضیاع اوقات سے منع کرتے تھے ، اور جد وجہد کی رغبت دلاتے رہتے تھے، تعلیم میں کوئی رو رعایت نہیں، مگر طلبہ کے دیگر معاملات میں نہایت نرم دل ، اور خوش مزاج تھے -
ہم طلبہ یہاں پہ ڈیرھ ماہ قیام پذیر رہے ،اس دورانیہ میں بہت کچھ دیکھا سنا ،پڑھا لکھا اور سمجھا بوجھا -
تعلیم وتربیت ،توکل علی اللہ ،صبر و استقامت خود داری وقناعت پسندی ،تلاوت ،عبادت وریاضت ،اوراد و وظائف تواضع و عاجزی، باہمی اتحاد واتفاق ،ایثار علی النفس اور خدمت کا جذبہ کرنے اور دیکھنے کا موقع ملا یہ آسان کام نہیں تھا، مگر اللہ تعالیٰ کی مدد اور مولانا کی سعی پیہم سے یہ ممکن ہوپایا -
رمضان میں تیاری کرنے والے طلبہ الگ الگ ادارے وعلاقے کےہوتے ہیں اور اس ادارے کے بھی طلبہ ہوتے ہیں مگر مولانا سب کے ساتھ یکسانیت کا معاملہ فرماتے بلکہ بعض دفعہ قدیم طلبہ پر سختی کرتے اور جدید طلبہ کو نرمی سے سمجھادیتے -
ہم طلبہ اجنبی تھے، ایک دوسرے سے نا آشنا تھے ،پھر مواخات قائم ہوگیا اور سب ایک دوسرے کے معاون بن گیے -
مولانا نے ہمیں اپنے بچوں کی طرح رکھا ،باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی،مہمانوں کی طرح میزبانی کی ، اپنی اولاد سمجھ کر ہماری خدمت کی اور ضرورت کی چیزوں سے ہمیں آزاد رکھا ،خود تگ و دو کرتے اور پھر وقت پر آکر ہشاش بشاش ہوکےسبق پڑھاتے ،تفریحی جملہ ارشاد کرکے مجلس درس کو لالہ زار فرماتے ،جس سے شرح عقائد جیسی مشکل کتاب آسانی کے ساتھ سمجھ آجاتی ،وقت میں برکت کا یہ عالم تھا کہ شرح عقائد جیسی کتاب کے ڈھائی تین صفحے بآسانی ہوجاتی
-
حتی الوسع مولانا اپنی ضرورتوں پر طلبہ کی ضرورت کو مقدم رکھتے ،اور بہتر سے بہتر انتظام کرنے کی کوشش کرتے ، دعاؤں کا اہتمام خود بھی فرماتے اور طلبہ کو بھی آمادہ کرتے-
الغرض ! مولانا نے وہ تمام کوششیں کی جو ہمارے اور داخلے کے حق میں مفید وبہتر ہوسکتی تھی -
رمضان میں بالعموم دعاؤں کا اہتمام بطورِ خاص ہمارے امتحان میں کامیابی کےلیے ،پھر عید کے موقع پر طلبہ کو یہ محسوس نہ ہو کہ ہم گھر سے دور ہیں ،بہتر سے بہتر کھانے پینے کا نظم ، کئی طرح کے پکوان تیار کراۓ گیے ، دعوتیں کیں اور ہم سب لطف اندوز ہوۓ،اس کے بعد عیدی بھی عنایت فرمائی ، اس طرح فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ میری آنکھوں نےکبھی نہیں دیکھا ،ایک عرصہ بعد مجھے عیدی ملی تھی چونکہ ہم بڑے گیے اس لیے رشتہ داروں نے عیدی دینا چھوڑ دیا، مگر مولانا کی ذرہ نوازی کہ انہوں نے ہمیں عیدی دے کر یہ احساس دلایا کہ تم میرے روحانی بیٹے ہو ،اور یہ تمہارا حق ہے ،اس سے قلبی مسرت ہوئی اور دعائیں بھی نکلی ، یہ خوشی بطورِ خاص ان طلبہ کےلیے زیادہ اہم ہےجن کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا ،اور یہ دکھ مجھ سے بہتر اور کون سمجھ سکتا ہے -
بہرحال !مولانا کی پرخلوص خدمت اور طلبہ کے تئیں ہمدردی ومحبت مثالی اور جذبہ بلالی ہے جو آج کل عنقاء ہے -
اللہ تعالیٰ حضرت والا کی خدمات کو قبول فرمائے اور انکے عزائم اور ہماری تمناؤں کو بامراد بناۓ ، ہم سب کو حضرت الاستاذ کے نقوش کو مزید آگے لے جانے کی توفیق عطا فرمائے
جامعہ دارالسلام کو خوب ترقیات سے نوازے-
آمین ثم آمین