حق تعالیٰ کو جو ہم سے محبت ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ ہمارے اندر کوئی خوبی ہے بلکہ اس لئے ہے کہ ہم ان کے بنائے ہوئے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کے قصہ میں ہے کہ آپ نے اپنی قوم پر بددعا کی قوم ہلاک ہو گئی۔ سب کچھ ہو جانے کے بعد حق تعالیٰ کا حکم ہوا کہ فلاں جگہ جا کر چالیس برس تک مٹی کے برتن بناؤ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد حکم ہوا کہ سب کو ایک طرف سے توڑ ڈالو۔ چنانچہ انہوں نے توڑنا شروع کیا مگر دل پر بہت صدمہ تھا۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ توڑنے سے کچھ دل بھی دکھا۔ عرض کیا کہ دل تو بہت دکھا۔ ارشاد ہوا کہ بس ایسے ہی اپنی مخلوق کو ہلاک کرنا ہم کو ناگوار ہوگا جیسے برتن تمہارے بنائے ہوئے تھے اسی طرح بندے ہمارے بنائے ہوئے تھے۔
قارون کے قصہ میں دیکھئے کہ وہ تو کہہ رہا تھا کہ اے موسیٰ مجھ کو بچاؤ اور آپ فرماتے تھے خذ یا ارض کہ اے زمین اسکو پکڑ ۔ یہاں تک کہ بالکل زمین میں دھنس گیا۔ حق تعالیٰ کی طرف سے خطاب ہوا کہ اگر ہمیں ایک دفعہ بھی پکارتا تو ہم فورا بچا لیتے ۔