🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

آج کے اس دورِ پُر فتن میں ایک نہایت نازک اور قابلِ غور رویّہ تیزی سے ہمارے معاشرے میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔ وہ یہ کہ ہم نے اپنے علماءِ کرام، اکابرینِ امت اور اہلِ علم حضرات کو اُن کے اصل مقام سے ہٹا کر محض ایک تصویری یادگار بنا دیا ہے۔ گویا اُن کی عظمت، اُن کی صحبت، اُن کی نصیحت اور اُن کے علم کا خلاصہ اب صرف ایک تصویر یا ویڈیو میں سمٹ کر رہ گیا ہو۔

حالانکہ علماء کا مقام اس سے کہیں بلند ہے۔ وہ انبیاءِ کرام کے وارث ہیں، وہ دین کے محافظ ہیں، وہ ہدایت کے چراغ ہیں۔ ان کی صحبت، ان کی مجلس، ان کی خاموشی تک انسان کے باطن کو جلا بخشتی ہے۔ مگر افسوس! ہم نے ان عظیم ہستیوں سے فیض حاصل کرنے کے بجائے، ان کے ساتھ ایک تصویر کھنچوانے کو اپنی کامیابی سمجھ لیا ہے۔

آج بعض لوگ یہ گمان کرنے لگے ہیں کہ اگر ہماری کسی بڑے عالم، کسی معروف بزرگ یا کسی اکابر شخصیت کے ساتھ تصویر موجود ہے، تو گویا ہم بھی کسی بڑی حیثیت کے حامل ہو گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تصاویر انہیں معاشرے میں ایک خاص مقام عطا کر دیں گی، اور لوگ انہیں بھی اہلِ علم یا اہلِ نسبت میں شمار کرنے لگیں گے۔
یہ ایک خطرناک فکری مغالطہ ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اب علماء کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز کا مقصد صرف یادگار نہیں رہا، بلکہ یہ شہرت، نمود و نمائش، اور سوشل میڈیا پر فالوورز بڑھانے کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ دین کی نسبت کو دنیا کی زینت بنانے کا یہ رجحان نہایت تشویشناک ہے۔ اخلاص جو دین کی روح ہے، وہ کہیں پیچھے رہ گیا ہے، اور اس کی جگہ دکھاوا اور خود نمائی نے لے لی ہے۔
یوں تو یہ عاجزہ کسی فردِ واحد کو مطمحِ تنقید نہیں ٹھہراتی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ امت میں یہ روش تیزی سے پھیل رہی ہے۔

اب حال یہ ہے کہ:
علماء سے ملاقات ہو تو تصویر
مصافحہ کریں تو تصویر
ساتھ بیٹھ جائیں تو تصویر
حتیٰ کہ کھانے کی مجلس ہو، تب بھی تصویر

گویا ہر لمحہ کیمرے کی نظر میں ہے، اور ہر تعلق کو منظرِ عام پر لانا ضروری سمجھ لیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ لوگ علم و عمل کی دولت سے محروم رہ جاتے ہیں، مگر سوشل میڈیا کی زینت ضرور بن جاتے ہیں۔

ہم نے تو ان اللہ والوں کو بھی دیکھا ہے جو خاموشی کے ساتھ علماء کی صحبت میں بیٹھتے ہیں، ادب کے ساتھ سنتے ہیں، اخلاص کے ساتھ سیکھتے ہیں، اور بغیر کسی نمود کے وہاں سے اٹھ جاتے ہیں۔ نہ کوئی تصویر، نہ کوئی اعلان، نہ کوئی دکھاوا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ زیادہ فیضیاب ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں میں علم کا نور اترتا ہے، ان کے اعمال میں برکت آتی ہے، اور ان کی زندگیاں سنور جاتی ہیں۔
وہ دنیا کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں، مگر اللہ کے ہاں مقبول ہو جاتے ہیں۔

علماء کی قدر ان کے ساتھ تصویر بنانے میں نہیں، بلکہ ان کی باتوں پر عمل کرنے میں ہے۔
ان کی عظمت ان کے قریب کھڑے ہونے میں نہیں، بلکہ ان کی تعلیمات کو اپنانے میں ہے۔

ان کی صحبت کا حق اس وقت ادا ہوتا ہے جب انسان اپنے اندر تبدیلی پیدا کرے، نہ کہ صرف ایک تصویر اپنے پروفائل پر سجا لے۔

لہٰذا ہمیں اپنے طرزِ عمل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
کیا ہم واقعی علماء سے فیض حاصل کرنے جاتے ہیں؟
یا محض ایک تصویر کے ذریعے اپنی پہچان بنانے؟
اگر نیت درست ہو جائے، تو ایک لمحے کی خاموش صحبت بھی زندگی بدل سکتی ہے۔
اور اگر نیت میں کھوٹ ہو، تو سینکڑوں تصاویر بھی انسان کو کچھ نہیں دے سکتیں۔


اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، ادب، اور حقیقی علمِ نافع عطا فرمائے، اور ہمیں اس ظاہری نمائش کے فتنہ سے محفوظ رکھے۔ آمین۔