*ایک شخص نے ایک عالمہ خاتون سے نکاح کیا* 😉
شادی کے بعد خاتون نے کہا: "چونکہ میں دین کا علم رکھتی ہوں، اس لیے ہم اپنی زندگی شریعت کے مطابق بسر کریں گے۔"
وہ آدمی یہ بات سن کر نہال ہو گیا کہ چلو بیگم کی برکت سے گھر میں دینی ماحول رہے گا اور زندگی احکاماتِ الٰہی کے مطابق گزرے گی۔ لیکن چند ہی دن گزرے تھے کہ بیوی نے اپنا مطالبہ سامنے رکھ دیا:
"دیکھیے! ہم نے شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کیا تھا، اور شریعت کی رو سے بیوی پر ساس سسر کی خدمت واجب نہیں ہے۔ نیز، شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیوی کے لیے علیحدہ گھر (بیت الخلا اور باورچی خانے سمیت) کا انتظام کرے۔ لہٰذا، آپ میرے لیے الگ گھر کا بندوبست کریں۔"
وہ شخص سخت پریشان ہوا کہ علیحدہ گھر کا انتظام تو ہو جائے گا، لیکن میرے بوڑھے والدین کا کیا بنے گا؟ ان کا سہارا کون ہو گا؟ اسی الجھن میں وہ ایک مفتی صاحب کے پاس پہنچا اور اپنا مسئلہ گوش گزار کیا۔
مفتی صاحب نے تحمل سے بات سنی اور کہا: "بھائی! بات تو وہ بالکل ٹھیک کر رہی ہے۔"
شوہر بولا: "حضرت! میں آپ کے پاس مسئلے کے حل کے لیے آیا ہوں، فتویٰ لینے نہیں۔"
مفتی صاحب مسکرائے اور مشورہ دیا: "ایک طریقہ ہے! جا کر اپنی بیوی سے کہو کہ شریعت کی رو سے مجھے چار شادیوں کی اجازت ہے۔ لہٰذا میں دوسری شادی کر رہا ہوں۔ وہ بیوی میرے والدین کے ساتھ رہے گی اور ان کی خدمت بھی کرے گی، جبکہ تمہارے لیے میں الگ گھر لے دیتا ہوں، تم سکون سے وہاں رہو۔"
جب شوہر نے بیوی یہ کہا تو بیوی یہ سن کر سٹپٹا گئی اور فوراً پینترا بدلتے ہوئے بولی: "ارے چھوڑیے دوسری شادی کو! میں یہیں رہوں گی۔ آپ کے والدین میرے بھی والدین ہیں اور ان کی خدمت تو اکرامِ مسلم کے ناطے ہم پر ویسے ہی لازم ہے۔"
*تھوڑا وقت نکال کر علماء کی صحبت میں بھی بیٹھا کریں، کیونکہ ہر مسئلے کا حل گوگل کے پاس نہیں ہوتا ہے*
منقول