*جھلستی دھوپ تڑپتی انسانیت اور ہماری ذمہ داریاں*
*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
_______________________________
ہمارے ملک ہندوستان کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہر نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور افسوس کے ساتھ ایسی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ گرمی کی شدت کے باعث متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ہمارے ملک میں ایک بڑی تعداد ایسے مزدوروں اور محنت کش افراد کی ہے جن کی روزی روٹی کا دار و مدار روزانہ کی محنت پر ہے۔ یہ لوگ صبح سویرے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں اور تپتی دھوپ میں دن بھر مشقت کرنے کے بعد ہی اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر پاتے ہیں۔ اگر وہ ایک دن بھی کام نہ کریں تو ان کے گھروں میں فاقہ کی نوبت آسکتی ہے۔ رکشہ چلانے والے ٹیکسی ڈرائیور تعمیراتی مزدور اور دیگر محنت کش طبقہ شدید گرمی میں بھی اپنے فرائض انجام دینے پر مجبور ہے۔
مزید برآں ملک کے کئی علاقوں میں اب بھی بجلی کی سہولت مکمل طور پر میسر نہیں۔ جہاں بجلی موجود ہے وہاں بھی غریب طبقے کے لیے پنکھے کولر یا دیگر سہولیات کا حصول آسان نہیں اور اگر یہ سہولیات کسی طرح میسر آ بھی جائیں تو بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ ان کے لیے ایک مستقل پریشانی بن جاتے ہیں۔ مہنگائی کی مسلسل بڑھتی ہوئی لہر نے ان کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔
دوسری جانب معاشرے کا ایک خوشحال طبقہ ایسا بھی ہے جو ایئر کنڈیشنڈ گھروں اور گاڑیوں میں رہتے ہوئے ان مسائل کی شدت کو شاید پوری طرح محسوس نہیں کر پاتا۔ یہ معاشرتی تفاوت ہمیں اس بات کی توجہ کراتا ہے کہ ہمیں اپنے گرد و پیش میں موجود ضرورت مند افراد کی خبرگیری کرنی چاہیے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہیے۔
اگر ہم اس صورتحال کو دینی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سخت گرمی اور سردی دونوں اللہ ربّ العزت کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ ایک حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی جس کے نتیجے میں اسے دو سانس لینے کی اجازت دی گئی ایک گرمی میں اور ایک سردی میں۔ (بخاری شریف رقم الحدیث ۳۲۶۰) اس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی شدید گرمی اور سردی ہمیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس سے سبق حاصل کریں۔
اہلِ ایمان کے لیے یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اللہ ربّ العزت کی طرف رجوع کریں توبہ و استغفار کریں اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ دنیا کی وقتی تکلیفیں ہمیں آخرت کی دائمی حقیقتوں کی یاد دلاتی ہیں اور ہمارے ایمان کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
تاہم صرف ذاتی اصلاح ہی کافی نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ خاص طور پر صاحب حیثیت افراد پر یہ فرض بنتا ہے کہ وہ گرمی کی شدت سے متاثرہ غریبوں اور مزدوروں کی مدد کریں ان کے لیے پانی سایہ اور دیگر ضروری سہولیات کا انتظام کریں اور ان کے حالات کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یہ سب ایک امتحان ہے ایک ایسا امتحان جس میں ہر فرد کو اپنی استطاعت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس آزمائش میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اور کس طرح اپنی آخرت کے لیے بہتر راہ تیار کرتے ہیں۔
اے اللہ ربّ العزت اس شدید گرمی میں ہمیں اپنی رحمت کا سایہ عطا فرما ہمیں ہر تکلیف اور مصیبت سے محفوظ فرما آمین ثم یارب العالمین ۔