*کثرتِ تحریر کا راز اور معمولِ زندگی*

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
_________________________________
مجھ سے ایک ہی سوال بار بار بے شمار لوگوں کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سوال صرف عام افراد نے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے اہلِ علم اور معزز شخصیات نے بھی کیا ہے کہ آخر میں اتنے زیادہ مضامین کیسے لکھ لیتا ہوں؟
آج میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس سوال کے جواب میں اپنی زندگی کا ایک نہایت اہم اور ذاتی پہلو آپ سب کے ساتھ شیئر کروں کیونکہ یہ چیز اب میری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے درسی اوقات کے علاوہ جتنا بھی وقت پاتا ہوں خاص طور پر فجر کے بعد عصر کے بعد اور عشاء کے بعد ان اوقات کو ضائع نہیں ہونے دیتا میں اپنی کوشش کے مطابق ان لمحات کو یا تو خارجی مطالعہ یعنی نصاب سے ہٹ کر کتب بینی میں صرف کرتا ہوں یا پھر کچھ نہ کچھ لکھنے میں مشغول رہتا ہوں۔
یہ معمول اب تو صرف ایک عادت ہی نہیں رہا بلکہ میری زندگی کا ایک مستقل نظام بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کسی دن میں کچھ نہ لکھوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرا دن ادھورا رہ گیا ہو اور ایک بےچینی سی دل میں پیدا ہو جاتی ہے لکھنا میرے لیے صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ ایک ضرورت بن چکا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مسلسل مطالعہ اور لکھنے کی یہی عادت اس بات کا سبب بنی ہے کہ میں کثرت سے مضامین تحریر کر پاتا ہوں۔
 آپ سب سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ ربّ العزت مجھے اس عمل پر استقامت عطا فرمائے اور ہم سب کو اپنی زندگیوں کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ہمیشہ اپنے دین کے لیے قبول فرمائے۔
آمین یا ربّ العالمین۔