نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول، گلشنِ نبوت کے مہکتے ہوئے پھول، قافلۂ حق و صداقت کے سالار، سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ذاتِ اقدس ایسی تابندہ و درخشندہ حقیقت ہے جس کا تعارف کسی قلم، کسی زبان اور کسی بیان کا محتاج نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اس خانوادۂ نبوت کے وہ درِّ نایاب ہیں جس کی بنیاد وحیِ الٰہی پر رکھی گئی، جس کی فضا فرشتوں کے نزول سے معطر رہی اور جس کے در و دیوار پر رحمتِ الٰہی کے انوار شب و روز برستے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے نورِ نظر، شیرِ خدا، فاتحِ خیبر، خلیفۂ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے لختِ جگر اور رحمۃٌ للعالمین، تاجدارِ کائنات، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسے ہیں۔ مؤرخِ اسلام مولانا شاہ معین الدین ندوی رحمہ اللہ نے بجا فرمایا کہ: اس لحاظ سے آپ کی ذاتِ گرامی قریش کا خلاصہ اور بنی ہاشم کا عطر تھی۔ گویا نسب کے اعتبار سے بھی آپ شرف و فضیلت کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے اور حسب کے اعتبار سے بھی عظمت و سیادت کی انتہاؤں کو چھوتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو جن سعادت مند اولاد سے نوازا ان میں حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، حضرت محسن رضی اللہ عنہ، حضرت زینب کبریٰ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا شامل ہیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ان مبارک ہستیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ آپ کا اسمِ گرامی حسین، کنیت ابو عبداللہ اور لقب سید شباب اہل الجنۃ ہے۔ آپ کا نسب نامہ یوں ہے: الحسين بن علي بن أبي طالب بن عبد المطلب الهاشمي القرشي۔ یہ وہ نسبِ پاک ہے جس کی ہر کڑی ایمان، تقویٰ، شرافت، ایثار اور قربانی کی روشن تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
قرآنِ کریم نے اہلِ بیتِ اطہار کی عظمت و رفعت کو قیامت تک کے لیے محفوظ کردیا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی آلودگی دور فرمادے اور تمہیں کامل پاکیزگی عطا فرمائے۔ اسی طرح ارشاد فرمایا: قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰی ۔ ترجمہ: آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے اپنی دعوت پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو۔ یہی وہ آیات ہیں جنہوں نے اہلِ بیتِ نبوی کی محبت کو ایمان کے روشن تقاضوں میں شامل کردیا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔ ترجمہ: حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ یہ صرف ایک فضیلت نہیں بلکہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے صادر ہونے والی وہ سندِ عظمت ہے جس کے بعد کسی اور تعریف و توصیف کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا۔ ترجمہ: یہ دونوں میری دنیا کے دو خوشبودار پھول ہیں۔ اس ایک جملے میں وہ تمام محبتیں سمٹ آئی ہیں جو ایک نانا اپنے نواسوں سے کرسکتا ہے، بلکہ یہ وہ محبت ہے جو نبوت کے مقدس قلب سے پھوٹنے والی محبت ہے۔
حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے خواب دیکھا کہ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ مبارک کا ایک ٹکڑا ان کی گود میں رکھا گیا ہے۔ جب انہوں نے یہ خواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رَأَيْتِ خَيْرًا، تَلِدُ فَاطِمَةُ غُلَامًا فَيَكُونُ فِي حِجْرِكِ۔ ترجمہ: تم نے خیر دیکھی ہے، فاطمہ کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوگا جو تمہاری گود میں پرورش پائے گا۔ چنانچہ جلد ہی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی اور خواب کی تعبیر پوری ہوگئی۔ بعد ازاں حضرت جبرئیل علیہ السلام بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور اس جگر گوشۂ رسول کی مظلومانہ شہادت کی خبر سنائی۔ یہ خبر سن کر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ گویا ولادت کی خوشخبری کے ساتھ شہادت کی خبر بھی آسمانوں سے نازل کردی گئی تاکہ دنیا جان لے کہ یہ بچہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ تاریخِ اسلام کا وہ روشن باب ہے جو اپنے خون سے حق و صداقت کا عنوان رقم کرے گا۔
شعبان المعظم 4 ہجری میں مدینہ منورہ کی پاک سرزمین پر جب یہ نورانی پھول کھلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس تشریف لائے، اپنے دستِ مبارک سے گھٹی دی، لعابِ دہن منہ میں ڈالا، کان میں اذان دی، عقیقہ فرمایا اور حسین نام عطا کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابتدائی طور پر نام حرب رکھا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تبدیل فرماکر حسین رکھا اور اس نام کو قیامت تک کے لیے عظمت و محبت کی علامت بنادیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ان پانچ مقدس ہستیوں میں شامل ہیں جنہیں اصحابِ کساء کا شرف حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو اپنی چادرِ مبارک میں جمع فرمایا اور دعا کی: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي۔ یعنی اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کھیلتے ہوئے دیکھا، انہیں محبت سے پکڑا، سینے سے لگایا، بوسہ دیا اور فرمایا: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا»۔ ترجمہ: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت فرماتا ہے جو حسین سے محبت کرے۔ یہ حدیثِ مبارکہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت کا ایسا بحرِ بے کراں ہے جس کے معانی و مطالب پر جتنا غور کیا جائے اتنا ہی نور حاصل ہوتا ہے۔ حسین مجھ سے ہے، نسبی تعلق کو ظاہر کرتا ہے اور میں حسین سے ہوں دینِ محمدی کی بقا اور حق کی سربلندی میں امام حسین رضی اللہ عنہ کے عظیم کردار کی طرف لطیف اشارہ ہے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں وحی اترتی تھی، جہاں قرآن کی تلاوت گونجتی تھی، جہاں فرشتوں کی آمد و رفت تھی، جہاں اخلاقِ نبوی کے چشمے بہتے تھے اور جہاں عبادت و بندگی کی خوشبو ہر سمت پھیلی ہوئی تھی۔ چنانچہ آپ عبادت، تقویٰ، زہد، ورع، سخاوت، شجاعت، حلم، تواضع، استقامت اور حسنِ اخلاق میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کے فرزند حضرت علی زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ دن رات میں ایک ہزار نوافل ادا فرمایا کرتے تھے۔ آپ کے چہرۂ انور پر خشیتِ الٰہی کے آثار نمایاں رہتے، زبان ذکرِ الٰہی سے تر رہتی، دل محبتِ رسول سے معمور رہتا اور ہاتھ محتاجوں کی امداد کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔
حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم آپ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ تاریخی فرمان آج بھی صحیح بخاری کے صفحات پر جگمگا رہا ہے: ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ۔ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت کے بارے میں آپ کی قرابت کا لحاظ رکھو۔ یہی طرزِ عمل تمام اکابر صحابہ کا تھا۔ وہ اہلِ بیتِ اطہار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت سمجھتے اور ان کی عزت و تکریم کو اپنی سعادت تصور کرتے تھے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے والد ماجد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کا بھرپور ساتھ دیا، ان کی اطاعت کی، ان کے شانہ بشانہ رہے اور ان کی شہادت تک ان کی خدمت میں حاضر رہے۔ پھر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی صلح کو قبول فرمایا اور امت کی وحدت و اجتماعیت کو مقدم رکھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی آپ کا بے حد احترام کرتے تھے، آپ کی خدمت میں عطیات پیش کرتے، محبت و عقیدت کا اظہار کرتے اور آپ کی عزت افزائی کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے تھے۔
بالآخر وہ وقت آیا جب تاریخِ اسلام کے افق پر کربلا کا سورج طلوع ہوا۔ سن 61 ہجری، دس محرم الحرام، یومِ جمعہ، سرزمینِ کربلا میں حق و باطل کا ایک ایسا معرکہ برپا ہوا جس کی مثال تاریخِ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ایک طرف فرزندِ رسول، نواسۂ مصطفیٰ، جگر گوشۂ بتول، امامِ عالی مقام حضرت حسین رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری طرف ظلم، جبر، استبداد اور دنیا پرستی کے نمائندے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے بیعتِ باطل سے انکار کرکے دنیا کو یہ سبق دیا کہ حق کے سامنے سر جھکایا جاتا ہے، باطل کے سامنے نہیں؛ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے؛ اور دین کی سربلندی کے لیے جان، مال، اولاد اور ہر چیز قربان کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے اہلِ خانہ اور جان نثار ساتھیوں کے ساتھ میدانِ کربلا میں ایسی بے مثال قربانی پیش کی جس کی نظیر تاریخِ عالم میں مشکل سے ملتی ہے۔ آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا مگر حق و صداقت کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا۔ اسی لیے آج چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود دنیا کا ہر انصاف پسند انسان امام حسین رضی اللہ عنہ کے نامِ نامی پر عقیدت کے پھول نچھاور کرتا ہے اور ظلم و جبر کی ہر داستان مٹ جاتی ہے مگر حسینیت کا چراغ کبھی بجھنے نہیں پاتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرمائے، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی کے مقاصد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں حق پر استقامت، باطل سے نفرت اور دینِ اسلام پر کامل وفاداری نصیب فرمائے، اور روزِ قیامت ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اہلِ بیتِ اطہار، صحابۂ کرام اور صالحین کے مبارک قافلے میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔