کیا کسی کے جنازے پر تبصرہ کرنا درست ہے؟
یقینا یہ بات قابل اعتراض ہے،کہ جو شخص اس دارفانی سے کوچ کر گیا۔
وہ کسی بھی طرح کے اعتراضات کا متحمل نہیں۔
مگر جو شخص امت کا رہنما ہو،کثیر تعداد میں لوگ اس کے نقش قدم پر چلتے ہوں۔
تو ایسے شخص کے جنازے،پر جانا
یا اس کی بخشش کے لیے سوال کرنے والوں کو جواب دینا
اور امت کو اس کے فتنے سے بچانا اشد ضروری ہے ۔
حال ہی میں سلیمان ندوی کا انتقال ہوا۔
نیچے میں اپ کو سلیمان ندوی کے کتاب سے ماخوذات پیش کیے دیتا ہوں
جو شخص 1400 سال پہلے گزری ہوئی ہستیوں پر اپنی زبان کو لگام نہ دے سکے
تو اس کے مرنے پر اگر کوئی اعتراضات کرے تو اپ اسے ہرگز سمجھا نہیں سکتے
کیونکہ اس کام کی ابتدا وہ خود ہی کر کے گیا ہے۔
ائیے سب سے پہلے سلیمان ندوی کی لکھی گئی کتاب کا جائزہ لیتے ہیں
پھر اس کے بعد ہم دارالعلوم دیوبند کے فتوے سے اگاہ کرتے ہیں
سلمان ندوی زندیق العصر کے گمراہ کن عقائد و نظریات کا مختصر خلاصہ درج ذیل ہے جو کہ اس کی اپنی کتب اور تقریروں سے ظاہر و باہر ہے
(1) خلافت ہتھیانے کے چکر میں حضرت ابوبکر و عمر ( رضی اللہ عنہما ) نے آخری وقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کھل کر مخالفت کی۔ ملخصاً
(علماء اہلسنت سے چند سوالات صفحہ 11)
(2) ثقیفہ بنو ساعدہ کے وقت ابوبکر و عمر ( رضی اللہ عنہما ) نے حضرت علی و عباس ( رضی اللہ عنہما ) کو دھوکا دیا۔ ملخصاً
(علماء اہلسنت سے چند سوالات صفحہ 12)
(3) تمام صحابہ ( رضی اللہ عنہم ) نے حضرت علی ( رضی اللہ عنہ ) کے تعلق سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو ٹھکرادیا۔ ملخصاً
(علماء اہلسنت سے چند سوالات صفحہ 10)
(4) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کے حقدار حضرت ابوبکر و عمر ( رضی اللہ عنہما ) نہیں بلکہ حضرت علی ( رضی اللہ عنہ ) تھے۔ ملخصاً
(علماء اہلسنت سے چند سوالات صفحہ 10,11,12)
(5) حضرت علی ( رضی اللہ عنہ ) کے خلاف خروج کرنے والے تمام صحابہ ( حضرت عائشہ ، زبیر ، طلحہ ، مغیرة ابن شعبہ ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہم وغیرہ ) فاسق اور مردود الروایہ والشہادہ ہیں۔ ملخصاً
(لفظ صحابہ کے بارے میں غلط فہمیاں صفحہ 18)
(6) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف قتال کرنے والے تمام صحابہ باغی ، طاغی ، عاصی ، مجرم ، قاتل ، ظالم اور فاسق ہیں۔
(متعدد تقریروں میں یہ بات ریکارڈ ہے)
(7) حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سرکاری مولوی تھے اور بہت سی احادیث گول کرگئے ہیں۔
(ویڈیو تقریر )
(8) چند سابقین اولین اور خاص صحابہ ( رضی اللہ عنہم ) کے علاوہ باقی سارے صحابہ ( رضی اللہ عنہم ) مشکوک منافق تھے۔ ملخصاً
(اللہ کے بے لاگ قوانین اور فیصلے صفحہ 31 تا 50)
(9) تمام صحابہ ( رضی اللہ عنہم ) مخلص نہیں تھے اور حوض کوثر سے بھی بعض صحابہ ( رضی اللہ عنہم ) کو بھگا دیا جائے گا۔
(تہذیب علوم الحدیث صفحہ 269)
(10) ہر صحابی ( رضی اللہ عنہم ) کی عدالت اسی طرح چیک کی جائے گی جس طرح بعد کے لوگوں کی کی جاتی ہے۔ ملخصاً
(لفظ صحابہ کے بارے میں غلط فہمیاں صفحہ 17,18)
سلمان ندوی کے بارے میں دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم
حضرت مفتی راشد صاحب اعظمی دامت برکاتہم نے
بذریعہ کال تفتیش کی اور یہ معلوم کیا تائب ہوئے کہ نہیں کچھ نادم ہوئے کہ نہیں۔ تو سامنے والے صاحب کی جانب سے جواب آیا کہ عبرت کی موت واقع ہوئی۔ کوئی ندامت نہیں تھی کوئی شرمندگی نہیں تھی
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں گندی زبان استعمال کرنے کو جائز سمجھتے رہے اور اسی حال میں دنیا سے چلے گئے
حضرت نے فرمایا کہ اگر توبہ وغیرہ کرلیے ہوتے تو ایصال ثواب کردیا جاتا
بار بار کہتے رہے کہ کاش توبہ کرلیتے۔ کاش توبہ کرلیتے
مجھے بڑا انتظار تھاکہ۔ سلیمان ندوی توبہ کریں گے
مگر خیر۔
اور ایصال ثواب نہیں کرایا اور فرمایا کہ ...شیعوں سے زیادہ اس نےدین کو نقصان۔ پہنچایا
جن مفتیان کرام نے دعائے مغفرت کی ہے وہ اب تو رجوع کریں
استاذ محترم حضرت مولانا مفتی امین صاحب پالنپوری شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند سے درس کے بعد بذریعہ پرچی سوال کیا گیا
کہ سلمان ندوی صاحب کے لیے دعائے مغفرت کرسکتے ہیں ؟
حضرت نے واضح طور پر فرمایا کہ جس کی زندگی سب صحابہ اور گستاخی صحابہ میں گذری ہو اسکے لیے دعائے مغفرت نہیں کر سکتے
میں یہ کہتا ہوں صرف انا للہ وانا الیہ رجعون پر اکتفاء کریں اور خاموش رہیں
اگر بزرگی کو شرطِ احترام کہو تو جمیع امت کے سب سے بڑے بزرگ حضراتِ صحابہؓ ہیں۔
اگر علمی قابلیت کو معیارِ تکریم بناؤ تو امت کے سب سے بڑے علماء حضراتِ صحابہؓ ہیں۔
اگر مقبولیت کو پیمانۂ عزت قرار دو تو قطعی طور پر عند اللہ مقبول حضراتِ صحابہؓ ہیں
ہمارا یہ اعلان ہے
صحابہ کا جو غلام ہے
ہمارا وہ امام ہے
طوفان احمری