*آخرت کو بھول جانے والی زندگی*
*دنیا کی چمک میں کھویا ہوا انسان*
الحمد للّٰہ ربِّ العالمین، نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ، ونعوذ باللّٰہ من شرور أنفسنا ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ اللّٰہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ہادی لہ۔
والصلاۃ والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، رحمۃ للعالمین، نبینا محمد ﷺ، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔
انسان کی زندگی ایک سفر ہے۔ ایک ایسا سفر جس کی ابتدا ماں کی گود سے ہوتی ہے اور اختتام قبر کی مٹی پر۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ قبر اختتام نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کی ابتدا ہے۔ یہی وہ زندگی ہے جسے “آخرت” کہا جاتا ہے؛ وہ زندگی جو کبھی ختم نہیں ہوگی، جہاں نہ موت ہوگی، نہ بڑھاپا، نہ بیماری، نہ دنیا کی فانی مصیبتیں۔ مگر افسوس! انسان نے اسی عارضی دنیا کو اپنی منزل سمجھ لیا، اور ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت کو بھلا بیٹھا۔
آج کا انسان دنیا میں اس قدر کھوگیا ہے کہ اسے اپنے آنے والے انجام کی فکر ہی باقی نہیں رہی۔ اس کی صبح دنیا کے منصوبوں سے شروع ہوتی ہے اور رات دنیا کی فکروں پر ختم ہوتی ہے۔ اس کی خوشی دنیا سے وابستہ ہے، اس کا غم دنیا کے لیے ہے، اس کی محنت دنیا کے لیے ہے، اور اس کی دعائیں بھی اکثر دنیا ہی کے گرد گھومتی ہیں۔
حالانکہ قرآن کریم بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ دنیا چند روزہ زندگی ہے، اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾
“ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تمہیں قیامت کے دن پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ پس جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہی کامیاب ہوا، اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔”
(سورۃ آل عمران: 185)
کتنی عجیب بات ہے! انسان جانتا ہے کہ اسے مرنا ہے، پھر بھی ایسے جیتا ہے جیسے کبھی مرنا ہی نہ ہو۔ وہ قبروں کو دیکھتا ہے، جنازوں میں شریک ہوتا ہے، اپنوں کو رخصت کرتا ہے، مگر پھر بھی اپنی باری کو بھول جاتا ہے۔ گویا موت دوسروں کے لیے ہے، اپنے لیے نہیں۔
آج انسان کی سب سے بڑی غفلت یہی ہے کہ اس نے دنیا کو دل میں بسا لیا ہے۔ دنیا کی محبت نے دلوں کو ایسا گھیر لیا کہ عبادت بوجھ محسوس ہونے لگی، گناہ معمول بن گئے، اور آخرت کی فکر کمزور پڑگئی۔ پہلے لوگ راتوں کو جاگ کر اللہ کے سامنے روتے تھے، آج راتیں موبائل اسکرینوں کی روشنی میں گزرتی ہیں۔ پہلے گھروں میں قرآن کی آوازیں گونجتی تھیں، آج ڈراموں، فضول ویڈیوز، اور بے فائدہ گفتگوؤں نے دلوں کو سخت کردیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> ﴿بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾
“بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر بھی ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی۔”
(سورۃ الأعلى: 16-17)
دنیا کی محبت ایک ایسی بیماری ہے جو آہستہ آہستہ دل کو مردہ کردیتی ہے۔ انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا اور وہ اللہ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسے نماز میں لذت نہیں ملتی، قرآن پڑھنے کا شوق نہیں رہتا، دعا میں آنسو نہیں آتے، نیکی مشکل لگتی ہے، اور گناہ آسان ہوجاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔”
جب دل دنیا میں ڈوب جاتا ہے تو انسان حلال و حرام کی تمیز بھی بھول جاتا ہے۔ رزق کہاں سے آرہا ہے؟ مال کس طریقے سے حاصل ہورہا ہے؟ زبان سے کس کی دل آزاری ہورہی ہے؟ نگاہیں کہاں اٹھ رہی ہیں؟ وقت کن کاموں میں ضائع ہورہا ہے؟ ان سب باتوں کی فکر ختم ہوجاتی ہے!!
آج ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ دنیاوی تعلیم کے لیے ہزاروں خرچ کرتے ہیں، دنیاوی تقریبات کے لیے راتیں جاگتے ہیں، دنیاوی زیب و زینت کے لیے گھنٹوں صرف کرتے ہیں، مگر نماز کے لیے چند منٹ بھی بھاری محسوس ہوتے ہیں۔ قرآن کھولنے کا وقت نہیں، مگر سوشل میڈیا پر گھنٹوں گزر جاتے ہیں۔ یہ سب آخرت کو بھول جانے کی علامات ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگا دے اور پھر اللہ سے امیدیں باندھے رکھے۔”
(سنن ترمذی)
آج کے دور میں انسان کی ایک بڑی آزمائش “نمائش” ہے۔ لوگ دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے جیتے ہیں۔ لباس دوسروں کے لیے، تقریبات دوسروں کے لیے، گھر کی آرائش دوسروں کے لیے، تصویریں دوسروں کو دکھانے کے لیے۔ گویا زندگی اللہ کو راضی کرنے کے بجائے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے گزاری جارہی ہے۔
حالانکہ قبر میں نہ خوبصورت لباس ساتھ جائے گا، نہ قیمتی موبائل، نہ بینک بیلنس، نہ شہرت۔ وہاں صرف اعمال ساتھ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> ﴿يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾
“جس دن نہ مال فائدہ دے گا نہ اولاد، مگر وہ شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا۔”
(سورۃ الشعراء: 88-89)
سوچیے! اگر آج ہمیں خبر مل جائے کہ ہماری زندگی کا صرف ایک دن باقی ہے تو کیا ہماری زندگی یہی رہے گی؟ کیا ہم اسی طرح وقت ضائع کریں گے؟ کیا ہم نمازوں میں غفلت کریں گے؟ کیا ہم لوگوں کے حقوق ماریں گے؟ ہرگز نہیں! بلکہ انسان فوراً توبہ کرے گا، اللہ کی طرف رجوع کرے گا، اپنے گناہوں پر روئے گا۔
مگر افسوس! موت کا وقت مقرر نہیں، پھر بھی انسان غفلت میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
> “اے اللہ! دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر نہ بنا۔”
کیونکہ جب دنیا سب سے بڑی فکر بن جاتی ہے تو انسان آخرت سے غافل ہوجاتا ہے۔ پھر دل میں حسد پیدا ہوتا ہے، دوسروں سے مقابلہ پیدا ہوتا ہے، ناشکری بڑھتی ہے، اور سکون ختم ہوجاتا ہے۔
آج گھروں میں بے سکونی کیوں ہے؟
اولاد نافرمان کیوں ہورہی ہے؟
رشتوں میں محبت کیوں کم ہوگئی؟
دل پریشان کیوں ہیں؟
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری زندگیوں سے آخرت کی فکر نکل گئی ہے۔ ہم نے دنیا سنوارنے میں اتنی محنت کی کہ اپنی قبر کو بھول گئے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی دیکھیے۔ دنیا ان کے قدموں میں آئی مگر دنیا ان کے دلوں میں داخل نہ ہوسکی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اتنے عظیم حکمران تھے مگر کپڑوں پر پیوند لگے ہوتے تھے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بے شمار مال رکھتے تھے مگر راتوں کو قبر یاد کرکے روتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
> “دنیا پیٹھ پھیر کر جارہی ہے اور آخرت سامنے آرہی ہے، پس تم آخرت کے بیٹے بنو، دنیا کے بیٹے نہ بنو۔”
یہی وہ فکر تھی جس نے انہیں عظمت عطا کی۔ ان کی نگاہ دنیا پر نہیں بلکہ آخرت پر تھی۔
آج ہمیں بھی اپنے دلوں کو جگانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے:
میری نمازوں کا کیا حال ہے؟
میں قرآن سے کتنا قریب ہوں؟
میرے دن کا کتنا وقت اللہ کی یاد میں گزرتا ہے؟
اگر آج میری موت آجائے تو کیا میں تیار ہوں؟
میں اپنی اولاد کو دنیا سکھا رہا ہوں یا آخرت بھی؟
یاد رکھیے! دنیا ختم ہوجائے گی۔ یہ گھر، یہ بازار، یہ شور، یہ رونقیں، سب ایک دن خاموش ہوجائیں گی۔ انسان تنہا قبر میں اترے گا۔ وہاں نہ دوست ہوں گے، نہ رشتے دار، نہ مال۔ صرف اعمال ہوں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “بندے کے ساتھ قبر تک تین چیزیں جاتی ہیں: اس کا مال، اس کے گھر والے، اور اس کے اعمال۔ مال اور گھر والے واپس لوٹ آتے ہیں، اور اعمال اس کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔”
(صحیح بخاری)
پس عقلمندی اسی میں ہے کہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کو نہ بھولے۔ دنیا کمائے مگر آخرت نہ گنوائے۔ دنیا سے فائدہ اٹھائے مگر دنیا کو دل میں جگہ نہ دے۔ اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق بنائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں غفلت کی نیند سے جگائے، دنیا کی فریب کاری سے محفوظ فرمائے، آخرت کی سچی فکر نصیب فرمائے، اور ہمیں ان خوش نصیب بندوں میں شامل فرمائے جن کے بارے میں قرآن نے فرمایا:
> ﴿إِنَّ الَّذِينَ هُمْ مِنْ خَشْيَةِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ﴾
“بیشک وہ لوگ جو اپنے رب کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں۔”
(سورۃ المؤمنون: 57)
اور اللہ تعالیٰ ہمیں یہ دعا مانگنے کی توفیق عطا فرمائے:
> ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾
“اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔”
(سورۃ البقرۃ: 201)
وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ ربِّ العالمین۔