انسان کے شوق بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں۔

جب بے ذوق لوگ نرم گرم بستروں میں دبکے ہوئے ہوتے ہیں، تو کچھ صاحبِ ثروت میدانوں کا رخ کرتے ہیں۔

کچھ قلم سے رشتہ جوڑتے ہیں۔

کچھ تیراندازی جیسی سنت کو زندہ کرنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں۔

کام سبھی کے مشقت والے ہیں۔

کوئی اسلام کی خاطر دیوانہ وار پہاڑوں کی طرف دوڑتا ہے، تو کچھ دفاع کے لیے بڑے بڑے ٹینکوں کے آگے پتھروں سے مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔

آفرین ہے ایسے جوانوں پر۔

آفرین ہیں ایسے قلم کاروں پر۔

جو اپنے الفاظ کو نہایت ہی حسن سے پیرایۂ سخن میں ضم کر کے اسلوبِ نگارش کو نکھارتے ہیں۔

اس قلم کے میدان میں، جہاں حق گو کالم نگار ہیں، وہیں پر کچھ ضمیر فروش، قلم فروش بھی موجود ہیں۔

جو اپنی رذیل خصلتوں کے سبب اسلام دشمنی پر فخر کرتے ہیں۔

کچھ ایسے میڈیا میں اینکر پرسن بھی ہیں۔

جنہیں گفتگو کی تمیز تک نہیں۔

کچھ ایسے نمائندے بھی موجود ہیں۔

جو اپنی شہرت کے لیے بلا تحقیق خبروں کی نمائش کرتے نظر آتے ہیں۔

یقین جانیے!

موجودہ دور میں میڈیا، قلم، انقلاب کے بہت بڑے حصول کا ذریعہ ہے۔

ہمت کیجیے۔

آپ بھی قلم اٹھائیے۔

انقلاب برپا کیجیے۔
طوفان احمری