عنوان:سیرتِ طیبہ اور آج کے مسائل

مضمون نگار: محمد حذیفہ 

۔۔۔۔

یہ ایک بھیانک زمانہ تھا۔ اس دور میں خواتین کو آمدنی کا ذریعہ بنا لینا محبوب مشغلہ تھا، فحاشی، عریانی، قتل و غارت، جہالت اپنے عروج پر تھی۔
ظلمتوں کے اس اندھیرے میں اچانک زمین خوشی سے جھوم اٹھی۔
آسمان سے رحمت برسنے لگی۔
ظلم کے بادل چھٹتے نظر آئے۔ سخت سے سخت مزاج سردار نرم پڑنے لگے۔
سبھی اس اچانک تبدیلی پر حیران تھے۔
مفکر و مدبر سر جوڑے بیٹھے تھے کہ دنیا میں یہ تبدیلی کیسی؟
مجوسیوں کی آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی۔
قیصر و کسریٰ لرزاں براندام ہوئے۔
شجر و حجر جھوم اٹھے تھے۔
عبداللہ کے گھر پیدائش ہوئی۔
آمنہ کے لختِ جگر کی آمد نے دنیا بدل دی۔
ابھی تو صرف آمد ہی تھی، نبوت نہیں ملی تھی۔
اتنی تبدیلی!
شیطان بھڑک اٹھا۔
نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی عمر رفتہ رفتہ بڑھنے لگی۔
پھر خدائے لم یزل نے آپ کو شقِ صدر کے مراحل سے گزارا۔
آخرکار وہ لمحہ بھی آپہنچا کہ جب غارِ حرا میں جبرائیلِ امین سے ملاقات ہوئی۔
کتاب نازل ہوئی۔
معصوم فرشتے نے لفظ ’’اقرأ‘‘ پڑھانا شروع کیا۔
اور وہ وقت بھی آ پہنچا کہ جب دعوتِ اسلام دی جانے لگی۔
ابلیس کے پیروکار سازشوں کے جال بننے لگے۔
سازش کرنے والوں کی سازشیں دم توڑتی نظر آئیں۔
دکھنے میں سادہ، معطر خوشبو سے آراستہ، مہتاب سے زیادہ خوبصورت چہرہ، یہ آمنہ کا لختِ جگر، صادق و امین، امام الانبیاء، افضل البشر، خدا کا برگزیدہ بندہ، جسے خدا سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا تھا۔
رحمتیں اس پر برستی رتھیں۔
دعا کے لیے ہاتھ اٹھیں تو کبھی خدا نے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔
ان کے آثار و قربانی دیکھیں۔
خندق کا موقع تھا، دشمن سروں پر آ پہنچا تھا، فاقہ کشی کی حالت تھی۔
ان کے ساتھی بھوک سے نڈھال تھے۔
بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک شخص آیا، کہنے لگا: یا رسول اللہ! بھوک سے بری حالت ہے۔
اس صبر و وفا کے پیکر نے بطن سے کپڑا اٹھایا تو تین پتھر بندھے نظر آئے۔
اس شاہ کے بطن پر پتھر بندھے دیکھ کر آسمان سہم گیا، زمین تھرا گئی، شجر و حجر لرز اٹھے۔ یہ وہ شخص تھا کہ جس کے لیے کائنات وجود میں آئی۔
یہ نبی، امام الانبیاء، احمدِ مجتبیٰ، سرورِ دو عالم، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، رات کی تاریکی میں امت کے لیے تڑپتے رہے، جہنم سے لوگوں کو بچانے کی جدوجہد کرتے رہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟
موجودہ دور میں امت دوبارہ جاہلیت کی طرف لوٹ رہی ہے۔ فحاشی، عریانی، بے حیائی، سبھی کچھ تو ہے جو پایا جا رہا ہے۔ قتل و غارت، ظلم، ناانصافی، بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات، معاشرے کے لیے ایک بڑا المیہ بن چکے ہیں۔
ہمارے چھوٹے بڑے تمام مسائل کا حل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہے۔
ہمارے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسوہ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنائیں ۔

####