`مفتی محمد ابراہیم غفاری`
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 
abzghifariedu@gmail.com

انسان کی تاریخ کا ایک قدیم مرض یہ ہے کہ وہ اکثر اپنی عزت اس چیز میں تلاش کرتا ہے جس کے انتخاب میں اس کا اپنا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ کوئی اپنے خاندان پر فخر کرتا ہے، کوئی قوم و قبیلے کے نام پر گردن اکڑاتا ہے، کوئی رنگ و نسل کو بزرگی کا معیار سمجھتا ہے۔ حالاں کہ انسان کس گھر میں پیدا ہوگا، کس قوم سے تعلق رکھے گا اور اس کا نسب کیا ہوگا، یہ اس کے اختیار کی چیزیں نہیں؛ یہ سب قدرت کے فیصلے ہیں۔

اسلام آیا تو اس نے عزت کے تمام مصنوعی پیمانے بدل دیے اور اعلان کردیا:

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ

یعنی اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔

یہ ایک آیت نہیں، انسانی عظمت کا منشور ہے۔ اس نے خاندانوں کے غرور، نسلوں کے تفاخر اور قوموں کی خود پسندی کو ایک لمحے میں بے معنی کردیا۔ اسلام نے پوچھا: تم کس کے بیٹے ہو؟ یہ تمہاری پہچان ہوسکتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ تم خود کیا ہو؟

نسب ایک نعمت ہوسکتا ہے، مگر فضیلت کی ضمانت نہیں۔ نیک باپ کی اولاد ہونا سعادت ہے، لیکن باپ کی نیکی بیٹے کے لیے کافی نہیں۔ بزرگوں کے کارناموں پر فخر کرنا آسان ہے، مگر ان کے نقشِ قدم پر چلنا مشکل۔ ہم اپنے اسلاف کے نام تو بڑی محبت سے لیتے ہیں، لیکن کیا کبھی اپنے آپ سے یہ بھی پوچھا کہ ہم نے ان کے ناموں کی لاج رکھنے کے لیے کیا کیا؟

ہمارا ایک بڑا اجتماعی المیہ یہی ہے کہ ہم وراثت میں ملنے والی عزت کو اپنی ذاتی عظمت سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہم خاندان کے نام پر فخر کرتے ہیں، مگر کردار کی اصلاح سے غافل ہیں؛ قوم کی عظمت کے قصے سناتے ہیں، مگر اپنے عمل سے قوم کے لیے کیا کر رہے ہیں، اس کی فکر نہیں کرتے۔

اسلام نے انسانوں کی قدر ان کے خون سے نہیں، ان کے کردار سے کی۔ حضرت بلال حبشیؓ کی عظمت، حضرت سلمان فارسیؓ کی رفعت اور حضرت صہیب رومیؓ کا مقام اس حقیقت کا روشن اعلان ہے کہ ایمان کی دنیا میں وطن، رنگ اور نسل کی دیواریں انسان کی قدر متعین نہیں کرتیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ تمہارا خاندان کتنا بڑا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ تمہارے اعمال کتنے بڑے ہیں۔

قوموں کا معاملہ بھی افراد سے مختلف نہیں۔ کوئی قوم اپنے شاندار ماضی کے سہارے ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ اگر اس کے اندر علم کا چراغ بجھ جائے، دیانت رخصت ہوجائے، عدل کمزور پڑ جائے اور اخلاق زوال پذیر ہوجائیں تو آباؤ اجداد کی عظمت بھی اسے زوال سے نہیں بچا سکتی۔

قومیں اپنے مردہ ماضی پر نہیں، اپنے زندہ کردار پر زندہ رہتی ہیں۔

آج ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے بزرگوں سے محبت کا بہترین طریقہ ان کے ناموں کا شور نہیں بلکہ ان کے کردار کی پیروی ہے۔ اگر ہمارے اسلاف علم والے تھے تو ہمیں علم سے وابستہ ہونا چاہیے؛ اگر وہ دیانت دار تھے تو ہمیں معاملات میں سچا ہونا چاہیے؛ اگر وہ دین کے لیے قربانیاں دیتے تھے تو ہمیں بھی حق کے لیے کچھ قربانی دینا سیکھنا چاہیے۔

ہر انسان کو ایک دن اپنے رب کے حضور تنہا کھڑا ہونا ہے۔ وہاں نہ قوم کا ہجوم ساتھ ہوگا، نہ خاندان کا غرور کام آئے گا، نہ آباؤ اجداد کے نام اعمال کے ترازو کو جھکا سکیں گے۔ وہاں انسان کے سامنے اس کی اپنی زندگی ہوگی، اس کا اپنا ایمان ہوگا اور اس کے اپنے اعمال ہوں گے۔

اس لیے اپنے نسب کو پہچانو، مگر اس پر مغرور نہ ہو۔ اپنی قوم سے محبت کرو، مگر دوسری قوموں کو حقیر نہ سمجھو۔ اپنے خاندان کی عزت کرو، مگر اپنے کردار کو اس خاندان کی عزت بناؤ۔

نسب تمہاری پہچان ہے،
قوم تمہاری نسبت ہے،
مگر اعمال تمہاری اصل حقیقت ہیں۔

یاد رکھیے! انسان کو اس کے باپ کا نام دنیا میں متعارف کرا سکتا ہے، مگر اس کا اپنا کردار ہی اسے عزت کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔

حقیقی عزت نہ قوم میں ہے، نہ نسل میں، نہ خاندان کے دعووں میں؛ حقیقی عزت ایمان، تقویٰ، اخلاق اور صالح اعمال میں ہے۔

اور یہی وہ میزان ہے جس میں ایک گمنام انسان بلند ہوسکتا ہے اور ایک بڑے خاندان کا فرد اپنے اعمال کی وجہ سے پست بھی ہوسکتا ہے۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H