*چار کانٹے چبھے نہیں سب ارادے بدل گیے* 

(امتحان کی فروگزاشت)

 ✍🏻*گل رضاراہی ارریاوی* 


    امتحان کا لفظ زبان پر جتنا سہل ہے حقیقت و تعبیر میں یہ اتنا ہی مشکل ہے، اس کا مشاہدہ یا تجربہ زندگی میں تقریبا سبھی انسان کو ہوتا ہے ،امتحان کی نوعیت بھلے ہی الگ ہو مگر فکر ،جدوجہد اور نتیجہ تقریبا سبھی کا ایک جیسا ہوتاہے ،زندگی چونکہ خود بھی امتحان ہے بلکہ ممتحن بھی ہے، اس لیے ہر انسان کو کسی نہ کسی امتحان سے ہمہ وقت گزرتا ہے ، زندگی بھی امتحان لیتی ہے کبھی انسان ہی دوسرے انسان کا امتحان لیتا ہے یہ امتحان انسان کو نکھارتا ہے ،سنوارتا ہے سکھاتا ہے مشاہدہ کراتا ہے جہد مسلسل سعی پیہم کا پیغام دیتا ہے کہ امتحان مشکل ضرور ہے اس سے خوف و گھبراہٹ ضرور محسوس ہوتی ہے ،مگر یہ امید کی ایک کرن ہے ،بننے کا ایک موقع ہے ،سنورنے کا ایک وقت ہے، اگر آپ امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کامیابی آپ کی زندگی کا حصہ بنے گی کیونکہ امتحان انسان کی کامیابی کےلیے بہترین سیڑھی ہے ،تیاری جیسے بھی ہو امتحان ہوتا ہے تو بے فکر ہو کے بھی فکرمند ہونا پڑتا ہے ،وہ شخص جو الفاظ کا ہنر جانتا ہے یہاں پر اس کے الفاظ کا جادو ختم ہو جاتے ہیں جو زبان و بیان کے ستمگر ہیں وہ یہاں پہ بے ستم ہو جاتے ہیں ، مظلومیت کی دوہائی دیتے ہیں ، جو صلاحیت کے پہاڑ کہے جاتے ہیں، امتحان کے وقت وہ بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ کیا بلا ہے؟ امتحان صرف کتاب کا نہیں ہوتا بلکہ یہ امتحان ہوتا ہے آپ کے وقت کا ،آپ کے ذوق کا، آپ کے ہنر کا ،آپ کے فن کا ،آپ کے جذبات کا، آپ کی امیدوں کا ،آپ کی فکر کا ،آپ کی مصروفیت کا، آپ کے محنت کا، آپ کی لگن کا، ایک امتحان سے ہم کتنا پریشان ہیں حالانکہ یہ امتحان تو کچھ بھی نہیں، ابھی راہ میں قدم رکھے ہیں منزل تو بہت دور ہے ٹھوکریں کھانا باقی ہے، کانٹے چبھنا باقی ہے، تجربات ابھی ہوئے نہیں ہیں سارے ارادے بدلنے لگے تو آپ ناکام ہو جائیں گے منزل تک نہیں پہونچیں گے،مسلسل چلنا ہے شناخت لوگوں کی باقی ہے، ایک دوسرے سے مسابقہ کرنا ہے یہ گرچہ گھبراہٹ کا سبب ہے اس گھبراہٹ سے اگر ہم گھبرا کر رک جائیں تو ہم ایک راستے پر رکے رہیں گےتو ترقی ہماری مقدر نہیں بنے گی، اس لیے اس گھبراہٹ سے گھبرانا نہیں ہے، آگے بڑھنا ہے کانٹے چبھیں گے کوئی مسئلہ نہیں ، مشکلیں آئیں گی، ہمت نہیں ہارناہے چونکہ قیام راہ سے صرف راستے نہیں رکتے بلکہ منزل رک جاتا ہے ایک فکر کا قیام ہوتا ہے ،ایک سوچ کا قیام ہوتا ہے، ایک عزم کا قیام ہوتا ہے،ایک مقصد کا قیام ہوتا ہے، ایک ذوق کا قیام ہوتا ہے، ایک صلاحیت کا قیام ہوتا ہے، ایک محنت کا قیام ہوتا ہے ،ایک وجود کا قیام ہوتا ہے، ایک ہنر کا قیام ہے ہوتا ہے اس سے بھی آگے بڑھ کے صدیوں کا قیام ہوتا ہے ،راہ میں کاٹے آئیں گے، اسے دیکھ کررکنا نہیں ،قیام نہیں کرنا بلکہ ذوق عشق کو اور بڑھانا ہے اور منزل کی تڑپ بڑھانی ہے ،تڑپ اور پیدا کرنا ہے مقصد آپ کا عشق ہوجاۓ، منزل آپ کا مجنوں ہو جائیں ،محنت آپ کی لیلی ہوجاۓ ،اسے پانا آپ کا وجود بن جاۓ تو آپ کو کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا ہے،نقوش راہ ثابت ہونے میں کوئی چیز حجر نہیں بن سکتی ،کوئی پہاڑ آپ کے راہ کو روک نہیں سکتا، کیوں کہ آپ شیریں وفرہاد بن چکےہیں اسے پتا ہوجاۓ گا کہ پہاڑ کھود کر دودھ کی نہر جاری کرنے کا عزم آپ کرچکے ہیں -

 آخری بات جو میں کہنے جا رہا ہوں اور ایک شاعر کی بات رکھ رہا ہوں جو انہوں نے مختصرسے لفظ میں سمیٹا ہے

یہ قیام کیسا ہے راہ میں، تیرے ذوق عشق کو کیا ہوا -
ابھی چار کاٹے چبھے نہیں، تیرے سب ارادے بدل گئے