ہمارے والد صاحب کے اندر الحمدللہ سلام میں پہل کرنے کی عادت ہے،
 اور اس کے خوبصورت اثرات ہم سب بہن بھائیوں کی تربیت میں بھی نظر آتے ہیں۔
جب بھی ہم میں سے کوئی باہر سے گھر آتا ہے تو سلام کرتا ہے۔
آنے والے ابو جی ہوں،
امی ہوں،
 بھائی ہوں یا میں خود،
 گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کرنا ہماری عادت ہے۔
اور ایسا بھی نہیں کہ گھر میں کوئی ہم سے بڑا موجود ہو تب ہی سلام کریں گے۔
نہیں،
 چاہے چھوٹا بھائی ہی کیوں نہ ہو، گھر میں جو بھی موجود ہو، اسے سلام کیا جاتا ہے۔
روزانہ والد صاحب دکان سے گھر آتے ہیں تو سلام کرتے ہیں۔
بھائی مدرسے سے پڑھ کر آئیں،
یا  مدرسہ پڑھا کر آئیں یا ہم گھر سے بازار وغیرہ سے واپس آئیں،گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کرتے ہیں۔
یہ نہیں دیکھا جاتا کہ گھر میں کون موجود ہے اور کون بڑا ہے۔ بس گھر میں داخل ہونا ہے تو سلام کرنا ہے۔
اسی طرح فون پر گفتگو شروع کرنے سے پہلے بھی سلام کرنے کی عادت ہے،
الحمدللہ۔
ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ میرے پاس محلے کی ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔
 اسی دوران والد صاحب کی کال آگئی۔ اتفاق سے فون کا اسپیکر آن تھا۔ میں نے کال ریسیو کی تو ابو نے سلام کیا اور ہم نے جواب دیا 
وعلیکم السلام۔ جی ابو جی ۔
اس کے بعد جو بات کرنی تھی، وہ ہوئی اور فون رکھ دیا گیا ۔
فون رکھنے کے بعد وہ عورت حیرت سے مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگی:
"یہ آپ کے ابو تھے؟"
میں نے کہا: "جی۔"
کہنے لگی:
"آپ کے ابو آپ کو سلام کر رہے تھے؟"
میں نے کہا: "جی، اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟"
وہ کہنے لگی:
"حیرت کی تو بات ہی ہے!
ہمارے تو بچے ہی ہمیں سلام نہیں کرتے، شوہر اور باپ تو دور کی بات ہے۔"
انہیں ہمارے سلام کرنے پر حیرت ہوئی،
اور مجھے ان کی اس بات پر تعجب ہوا کہ ایک ایسی چیز جو ہمارے لیے بالکل معمول کی بات ہے، ان کے لیے اتنی حیرت کی بات تھی۔
کچھ دیر بعد ان کی ایک رشتے دار بھی آگئیں تو وہ انہیں بھی بڑے حیرت زدہ انداز میں بتانے لگیں:
"ارے! ان کے ابو کا فون آیا تھا، اور ان کے ابو انہیں سلام کر رہے تھے!"
آپ اسی بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں کتنی حیرت ہوئی ہوگی کہ انہوں نے بعد میں بھی یہ بات دوسروں سے ذکر کی۔
میرے خیال میں ان سب چیزوں کا تعلق تربیت سے ہوتا ہے۔
ہمارے والد صاحب ہمیں صرف اچھی عادتوں کی تلقین نہیں کرتے،
بلکہ خود ان پر عمل کرکے ہمارے سامنے مثال بن کر پیش ہوتے ہیں۔
جب باپ اپنی اولاد کو سلام کرتا ہے
تو اولاد اکثر پہلے سلام کرنے کا سوچتی ہے
دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں سلام میں پہل کرنی چاہیے۔
تربیت صرف زبان سے سمجھانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے عمل سے سکھانے کا نام ہے۔
اسی طرح الحمدللہ، ہم سوشل میڈیا پر کہیں کوئی پوسٹ یا تحریر شائع کرتے ہیں تو کمنٹ باکس میں بھی سب سے پہلے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ لکھتے ہیں۔
کیوں؟
تاکہ "السلام قبل الکلام" یعنی کلام سے پہلے سلام کے اصول پر عمل ہو،
سلام کو عام کیا جائے
 اور دوسروں کو بھی اس خوبصورت سنت کی طرف متوجہ کیا جائے۔
الحمدللہ، میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ میرے اس عمل کو دیکھ کر انہوں نے بھی کمنٹ باکس میں سلام لکھنا شروع کیا۔
 یہ دیکھ کر دل کو بہت خوشی ہوتی ہے کہ ایک چھوٹی سی عادت بھی کسی دوسرے کے لیے نیکی کا سبب بن سکتی ہے۔
اگر ہمارے سلام کو دیکھ کر ایک شخص بھی سلام کو عام کرنا شروع کر دے تو ان شاء اللہ ہمیں بھی اس کے عمل کا اجر ملے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ 🍁