Translation unavailable. Showing original.
ماتم سے تعمیر تک۔ ہندوستانی مسلمانوں کیلئے ایک سوال
10 ستمبر، 2026
*مفتی محمد ابراہیم غفاری*
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
abzghifariedu@gmail.com
کبھی کبھی قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحے آتے ہیں جب آنکھیں ماضی کے ملبے پر ٹھہر جاتی ہیں، دل زخموں کو ٹٹولتا ہے اور زبان بے اختیار شکوہ کرنے لگتی ہے۔
لیکن پھر ایک آواز اندر سے اٹھتی ہے: بس! اب کتنا ماتم کرو گے؟ اب تعمیر کب کرو گے؟
یہ سوال آج ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے بھی کھڑا ہے۔
ہم نے اپنے زخم گنے، اپنی محرومیاں بیان کیں، اپنے حالات پر آنسو بہائے، جلسے کیے، تقریریں کیں، سوشل میڈیا پر پوسٹیں لکھیں؛ مگر کیا ہم نے کبھی پوری سنجیدگی سے یہ سوچا کہ اگلی نسل کے لیے ہم کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟
قرآن ہمیں مایوسی نہیں سکھاتا۔ وہ کہتا ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ . اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔
یہ آیت صرف تلاوت کے لیے نہیں، زندگی بدلنے کے لیے ہے۔
ہم دوسروں سے تبدیلی کی امید رکھتے ہیں، مگر اپنے اندر تبدیلی لانے کے لیے تیار نہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے کامیاب ہوں، مگر ہم ان کے لیے معیاری تعلیم کا انتظام نہیں کرتے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل باکردار ہو، مگر ان کے ہاتھ میں کتاب سے زیادہ موبائل دے دیتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں دین پر قائم رہیں، مگر انہیں مضبوط دینی و عصری تعلیم دینے کے لیے اجتماعی منصوبہ نہیں بناتے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم معاشی طور پر مضبوط ہو، مگر ہنر، تجارت، صنعت اور خود کفالت کے میدان میں ہماری رفتار سست ہے۔
پھر سوال یہ ہے: کیا صرف شکایت سے حالات بدل جائیں گے؟
نہیں!
قوموں کی تقدیر آنسوؤں سے نہیں، علم، کردار، اتحاد اور مسلسل جدوجہد سے بدلتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: المؤمن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف.. طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔
یہ طاقت صرف جسم کی طاقت نہیں؛
یہ ایمان کی طاقت بھی ہے، علم کی طاقت بھی، کردار کی طاقت بھی، معیشت کی طاقت بھی، تنظیم کی طاقت بھی، اور صحیح فیصلے کرنے کی طاقت بھی۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ ہم کون تھے؟ انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ: ہمیں کیا بننا ہے؟
ہمیں ایسے مدرسے چاہییں جہاں قرآن کے ساتھ زمانے کا شعور بھی ہو۔
ایسے اسکول چاہییں جہاں تعلیم کے ساتھ تربیت ہو۔
ایسے تعلیمی مراکز چاہییں جہاں ہمارا بچہ دین سے جڑا رہے اور دنیا کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔
ایسے ادارے چاہییں جہاں ہماری بیٹیاں علم، حیا، اعتماد اور ہنر کے ساتھ پروان چڑھیں۔
ایسے نوجوان چاہییں جو صرف روزگار ڈھونڈنے والے نہ ہوں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔
اور ایسے رہنما چاہییں جو قوم کے جذبات کو صرف بھڑکائیں نہیں، انہیں صحیح سمت بھی دیں۔
کیونکہ قیادت کا مطلب صرف مائیک پر بولنا نہیں؛ قیادت کا مطلب ہے قوم کو منزل دکھانا۔
آج ضرورت ہے کہ ہمارے علماء، دانشور، ائمہ، اساتذہ، سماجی کارکن اور اہلِ ثروت ایک جگہ بیٹھیں اور اپنے آپ سے پوچھیں:
ہماری اگلی نسل کے لیے ہمارا منصوبہ کیا ہے؟ کتنے اسکول؟ کتنے کالج؟ کتنے ہنرمندی کے مراکز؟ کتنے اسکالرشپ؟ کتنے یتیم بچوں کی کفالت؟ کتنے غریب خاندانوں کو خود کفیل بنانے کا منصوبہ؟ کتنی بچیوں کی تعلیم؟ کتنے نوجوانوں کو جدید علوم، ٹیکنالوجی اور کاروبار سے جوڑنے کا نظام؟
یہ سوال شاید تلخ ہے، مگر ضروری ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے آج یہ سوال نہ پوچھا تو کل ہماری نسلیں ہم سے پوچھیں گی: *جب تمہارے پاس وقت تھا تو تم نے کیا بنایا؟*
ہمیں ماضی پر فخر ضرور ہونا چاہیے، مگر ماضی کے سہارے مستقبل نہیں بنتا۔
اقبال نے کیا خوب کہا:
*افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر*
*ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ*
یہ ستارے ہمیں خود بنانے ہوں گے۔
ہر گھر میں ایک کتاب، ہر بچے کے ہاتھ میں علم، ہر نوجوان کے اندر ہنر، ہر دل میں ایمان، ہر ادارے میں دیانت، اور ہر صاحبِ استطاعت کے دل میں امت کا درد یہی تعمیر کا آغاز ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو شکایت کی زبان سے نکال کر تعمیر کی زبان سکھانی ہوگی۔ انہیں یہ نہیں کہنا: "*ہمارے ساتھ بہت برا ہوا ہے*۔" بلکہ یہ کہنا ہوگا: "*جو ہوا، وہ تاریخ ہے*؛*اب جو ہوگا، وہ ہماری ذمہ داری ہے*۔"
اور اے امت کے رہنماؤ! ایک گزارش ہے۔
خدارا! ہمیں صرف جذبات نہ دیجیے، سمت دیجیے۔ ہمیں صرف ماضی کے قصے نہ سنائیے،مستقبل کا نقشہ دیجیے۔
ہمیں صرف یہ نہ بتائیے کہ ہماری کمزوریاں کیا ہیں، یہ بھی بتائیے کہ ان سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔
مسجد کے منبر سے قوم کے ایمان کی حفاظت کیجیے،
مدرسے سے علم کی بنیاد مضبوط کیجیے،
اسکول سے مستقبل سنواریے،
اور معاشرے میں کردار کی حفاظت کیجیے۔
اور اے اہلِ ثروت! پ آپ کے پاس جو کچھ ہے، وہ صرف آپ کا نہیں اس میں یتیم کا بھی حق ہے، طالب علم کا بھی، غریب کا بھی، اور آنے والی نسل کا بھی۔
ایک عمارت بنانے سے زیادہ قیمتی کبھی کبھی ایک انسان بنانا ہوتا ہے۔ ایک بچے کو تعلیم دے دیجیے؛ شاید وہ پوری نسل بدل دے۔ ایک نوجوان کو ہنر دے دیجیے؛ شاید وہ دس خاندانوں کا سہارا بن جائے۔ ایک بچی کو مضبوط تعلیم دے دیجیے؛ شاید وہ آنے والی نسلوں کی معمار بن جائے۔
ہمیں اب یہ طے کرنا ہوگا کہ ہماری گفتگو کا مرکز کیا ہوگا؟ ہر وقت شکایت؟ یا تعمیر؟
ہر وقت ماضی یا مستقبل؟
ہر وقت اختلاف یا اتحاد؟
ہر وقت جذبات یا حکمت؟
وقت ہم سے جواب مانگ رہا ہے۔
اور یاد رکھیے!
قیامت کے دن صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے دنیا میں کیا کھایا، کیا پہنا اور کیا کمایا۔
یہ بھی پوچھا جائے گا کہ *جو ذمہ داری تمہارے پاس تھی، اسے کیسے نبھایا؟*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:كلكم راعٍ وكلكم مسؤولٌ عن رعيته ۔ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
تو پھر ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا سوال سننا ہوگا۔
عالم سے پوچھا جائے گا: تم نے قوم کی رہنمائی کیسے کی؟
استاد سے پوچھا جائے گا: تم نے نسل کیسے بنائی؟
مالدار سے پوچھا جائے گا: تم نے اپنے مال سے کیا تعمیر کیا؟
والدین سے پوچھا جائے گا: تم نے اپنی اولاد کو کیا دیا؟
اور ہم سب سے پوچھا جائے گا: جب تمہیں قوم کی حالت بدلنے کا موقع ملا تھا، تو تم نے کیا کیا؟
آئیے آج ایک عہد کریں۔
ہم ماتم کو دعا میں بدلیں گے، دعا کو عمل میں، عمل کو ادارے میں، ادارے کو تحریک میں، اور تحریک کو ایک بہتر مستقبل میں۔
ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو قرآن سے جڑی ہو مگر زمانے سے بے خبر نہ ہو؛
سنت سے وابستہ ہو مگر دنیا کے میدان سے پیچھے نہ ہو؛
اپنی تہذیب پر فخر کرے مگر دوسروں کے حقوق سے غافل نہ ہو؛
اپنے وطن سے وفادار ہو اور اپنے کردار سے پہچانی جائے۔
تب شاید ایک دن ہماری اولاد پیچھے مڑ کر دیکھے گی اور کہے گی: ہمارے بزرگ صرف اپنے زخموں پر نہیں روئے تھے؛ انہوں نے ہمارے لیے راستے بھی بنائے تھے۔
اور شاید یہی وہ دن ہوگا جب ماتم ختم ہوگا اور تعمیر شروع ہوگی۔
کیونکہ قوموں کی زندگی میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب انہیں فیصلہ کرنا پڑتا ہے:
نوحہ کرنا ہے یا نقشہ بنانا ہے؟
شکایت کرنی ہے یا شروعات کرنی ہے؟
ماضی کے ملبے پر بیٹھنا ہے یا مستقبل کی بنیاد رکھنی ہے؟
اے ہندوستانی مسلمان! یہ فیصلہ اب تمہیں کرنا ہے۔ اور وقت بہت کم ہے۔