*سفر کے شرعی مسائل*
*محرم، مسافت اور خواتین کے لیے ضروری فقہی رہنمائی*
سفر انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کبھی والدین اور رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے سفر کرنا پڑتا ہے، کبھی تعلیم و ملازمت کے لیے، کبھی علاج و معالجہ کی غرض سے، اور کبھی حج و عمرہ جیسی عظیم عبادت کے لیے۔ آج کے دور میں سفر کے ذرائع پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان، تیز اور محفوظ ہوگئے ہیں؛ چند گھنٹوں میں سینکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ طے ہوجاتا ہے۔
لیکن ایک مسلمان کے لیے سفر صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ سفر میں بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی ضروری ہے۔
خصوصاً خواتین کے لیے سفر کے کچھ ایسے شرعی مسائل ہیں جن سے روزمرہ زندگی میں بار بار واسطہ پڑتا ہے۔ کتنے فاصلے پر سفرِ شرعی کے احکام جاری ہوتے ہیں؟ محرم کسے کہتے ہیں؟ کیا دیور یا جیٹھ محرم ہے؟ کیا ٹرین اور ہوائی جہاز کا حکم بھی وہی ہے؟ کیا عورت ملازمت یا تعلیم کے لیے دوسرے شہر اکیلی جاسکتی ہے؟ سفر میں نماز اور روزے کے کیا احکام ہیں؟ اور کسی دوسرے شہر میں کتنے دن ٹھہرنے سے قصر نماز ختم ہوجاتی ہے؟
ان مسائل کا جاننا ہر مسلمان خاتون کے لیے مفید ہے۔
*سفر کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی ہدایت*
رسول اللہ ﷺ نے عورت کے سفر کے سلسلے میں محرم کی معیت کی تاکید فرمائی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ»
’’عورت تین دن کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔‘‘
(صحیح البخاری، 1086)
ایک دوسری حدیث میں ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا ذکر بھی آیا ہے۔ (صحیح البخاری، 1088)
احادیث میں سفر کی مدت مختلف انداز سے بیان ہوئی ہے، جس کی روشنی میں فقہاء نے سفرِ شرعی کی مسافت متعین فرمائی ہے۔
*سفرِ شرعی کسے کہتے ہیں؟*
حنفی فقہ میں جب کوئی شخص اپنے شہر یا آبادی سے تقریباً 77–78 کلومیٹر یا اس سے زیادہ کی مسافت پر جانے کا ارادہ کرے تو یہ سفرِ شرعی شمار ہوتا ہے۔
اس لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ سفر میں کتنے گھنٹے لگ رہے ہیں۔
مثلاً:
اگر کوئی جگہ 100 کلومیٹر دور ہے اور تیز رفتار گاڑی سے ایک گھنٹے میں پہنچ جاتے ہیں، تب بھی یہ شرعی سفر ہے۔
اور اگر کوئی جگہ 60 کلومیٹر دور ہے لیکن ٹریفک یا کسی دوسری وجہ سے پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ جائیں تو صرف زیادہ وقت لگنے سے وہ سفرِ شرعی نہیں بنے گا۔
اصل اعتبار مسافت کا ہے، سفر کے وقت کا نہیں۔
کیا ہوائی جہاز کا سفر بھی سفرِ شرعی ہے؟*
جی ہاں۔
یہ خیال درست نہیں کہ چونکہ ہوائی جہاز چند گھنٹوں میں بہت زیادہ فاصلہ طے کرتا ہے، اس لیے محرم کی شرط نہیں رہے گی۔
اگر منزل شرعی مسافت پر ہے تو ہوائی جہاز کے ذریعے جانے پر بھی سفر کے شرعی احکام جاری ہوں گے۔
اسی طرح ٹرین، بس، کار، ٹیکسی یا کسی بھی دوسری سواری سے سفر ہو، حکم کا تعلق سواری سے نہیں بلکہ شرعی مسافت سے ہے۔
*محرم کسے کہتے ہیں؟*
عورت کے لیے محرم وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو۔
نسبی محرم میں مثلاً:
- والد
- دادا، نانا
- بیٹا
- پوتا، نواسا
- بھائی
- بھتیجا
- بھانجا
- چچا
- ماموں
وغیرہ شامل ہیں۔
اسی طرح نکاح کی وجہ سے بعض رشتے محرم ہوجاتے ہیں، مثلاً:
- سسر
- داماد
- سوتیلا بیٹا، بعض شرعی شرائط کے ساتھ
اور رضاعت سے بھی بعض رشتے محرم بن جاتے ہیں۔
*رضاعی محرم*
جس طرح نسب سے بعض رشتے محرم بنتے ہیں، اسی طرح شرعی طور پر ثابت شدہ رضاعت سے بھی محرمیت قائم ہوسکتی ہے۔
مثلاً رضاعی بھائی یا رضاعی باپ بعض شرائط کے ساتھ محرم ہوسکتے ہیں۔
لہٰذا محرم صرف خونی رشتے کا نام نہیں۔
*کون محرم نہیں؟*
یہ مسئلہ بہت اہم ہے، کیونکہ بعض رشتوں کو معاشرے میں ’’اپنا‘‘ سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ شرعی محرم نہیں ہوتے۔
مثلاً:
دیور جیٹھ بہنوئی نند کے شوہر اور کزن محرم نہیں۔
لہٰذا
اگر عورت شرعی مسافت کا سفر کررہی ہو تو ان میں سے کسی مرد کے ساتھ سفر کرنے سے محرم کی شرط پوری نہیں ہوگی۔
خصوصاً دیور کے بارے میں حدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے:
«إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ»
صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شوہر کے بھائی کے بارے میں کیا حکم ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
«الْحَمْوُ الْمَوْتُ»
’’شوہر کا (غیر محرم) رشتہ دار تو موت ہے۔‘‘
(صحیح البخاری، 5232)
اس کا مقصد اس رشتے کی حرمت کو واضح کرنا اور بے احتیاطی سے متنبہ کرنا ہے۔
*کیا نابالغ بچہ محرم بن سکتا ہے؟*
محرم ہونے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ نسبی رشتہ ہو؛ سفر کے معاملے میں ایسے محرم کی معیت معتبر ہے جو سمجھ دار اور اس ذمہ داری کے قابل ہو۔
اس لیے کسی بہت چھوٹے نابالغ بچے کو صرف اس بنیاد پر محرم سمجھ لینا کہ وہ عورت کا بیٹا یا بھائی ہے، درست نہیں۔
ایسی مخصوص صورت میں مستند مفتی سے مسئلہ دریافت کرنا چاہیے۔
*عورت کا دوسری عورتوں کے ساتھ سفر*
اگر شرعی مسافت کا سفر ہو تو صرف دوسری خواتین کا ساتھ ہونا محرم کا قائم مقام نہیں۔
یعنی اگر چند سہیلیاں یا خواتین کا گروپ ایک شہر سے دوسرے شہر جائے اور فاصلہ شرعی مسافت کے برابر ہو تو محض خواتین کی کثرت سے محرم کی شرط ختم نہیں ہوگی۔
البتہ شرعی مسافت سے کم سفر میں محرم کے بغیر آمد و رفت کا حکم الگ ہے، بشرطیکہ راستہ محفوظ ہو اور دیگر شرعی ممانعتیں نہ ہوں۔
*کیا شہر کے اندر سفر کے لیے محرم ضروری ہے؟*
ہر آمد و رفت کو ’’سفرِ شرعی‘‘ نہیں کہا جاتا۔
گھر سے بازار، اسکول، مدرسہ، ہسپتال یا شہر کے کسی دوسرے حصے میں جانا اگر شرعی مسافت تک نہیں تو اس پر شرعی سفر کے وہ احکام جاری نہیں ہوں گے جو 77–78 کلومیٹر یا اس سے زیادہ کے سفر پر ہوتے ہیں۔
البتہ ہر حال میں پردہ، حیا، نامحرم سے خلوت سے بچنا اور دیگر شرعی احکام کی پابندی ضروری ہے۔
*نامحرم ڈرائیور کے ساتھ سفر*
آج کل خواتین کے لیے یہ مسئلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اگر عورت کسی نامحرم مرد کے ساتھ ایسی حالت میں اکیلی ہو جہاں شرعی خلوت پائی جائے تو یہ الگ شرعی مسئلہ ہے۔
لہٰذا صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ:
’’ڈرائیور قابلِ اعتماد ہے‘‘
یا
’’وہ ہمارے جاننے والا ہے۔‘‘
اعتماد اپنی جگہ، لیکن شرعی محرم اور نامحرم کے احکام اپنی جگہ ہیں۔
اگر ممکن ہو تو عورت ایسی صورت اختیار کرے جس میں نامحرم کے ساتھ خلوت نہ ہو۔
*ایئرپورٹ تک محرم چھوڑ دے تو* ؟
کبھی یہ صورت پیش آتی ہے کہ محرم عورت کو ایئرپورٹ تک چھوڑ دیتا ہے اور منزل پر کوئی رشتہ دار اسے لینے آجاتا ہے۔
لیکن اگر اصل ہوائی سفر شرعی مسافت کا ہے تو صرف ایئرپورٹ تک پہنچانے اور دوسری طرف استقبال کرنے سے درمیان کا سفر محرم کے بغیر ہونے کا حکم ختم نہیں ہوگا۔
اسی طرح اسٹیشن تک چھوڑنے یا بس اڈے تک پہنچانے سے اصل شرعی سفر کے حکم میں تبدیلی نہیں آتی۔
*ملازمت یا تعلیم کے لیے روزانہ سفر*
یہ موجودہ دور کا نہایت اہم مسئلہ ہے۔
اگر کوئی خاتون روزانہ اپنے شہر سے دوسرے شہر ملازمت یا تعلیم کے لیے جاتی ہے اور دونوں مقامات کے درمیان فاصلہ شرعی مسافت کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو ہر روز کا آنا جانا سفرِ شرعی کے حکم میں ہوگا۔
محض یہ کہ:
’’میں روزانہ جاتی ہوں‘‘
اس سے سفرِ شرعی کا حکم ختم نہیں ہوجاتا۔
البتہ اگر دونوں مقامات کے درمیان فاصلہ شرعی مسافت سے کم ہے تو وہ شرعی سفر نہیں ہوگا۔
*علاج کے لیے سفر*
اگر کسی خاتون کو علاج کے لیے دوسرے شہر جانا پڑے تو پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ فاصلہ شرعی مسافت تک ہے یا نہیں۔
اگر شرعی مسافت ہے تو حنفی فقہ کے مطابق اصل حکم یہ ہے کہ شوہر یا شرعی محرم کے ساتھ سفر کیا جائے۔
اگر کوئی واقعی اضطراری یا ناگزیر صورت پیش ہو تو اس کی تفصیل الگ ہوگی۔ ایسی صورت میں اپنی مخصوص حالت کسی مستند مفتی کو بتا کر حکم معلوم کرنا چاہیے، کیونکہ ہر مشکل کو ’’شرعی مجبوری‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
*حج و عمرہ کے سفر میں محرم*
حج اور عمرہ عظیم عبادات ہیں، لیکن عبادت کی نیت سفر کے دوسرے شرعی احکام کو ختم نہیں کرتی۔
اگر عورت کے لیے مکہ مکرمہ تک کا سفر شرعی مسافت کا ہے تو حنفی فقہ کے مطابق شوہر یا شرعی محرم کے بغیر سفر کرنے کا مسئلہ برقرار رہے گا۔
اس لیے حج یا عمرہ کا ارادہ کرنے والی خواتین کو سفر سے پہلے اپنے مخصوص حالات کے مطابق کسی مستند مفتی سے مسئلہ معلوم کرنا چاہیے۔
*سفر میں نماز کا حکم*
سفرِ شرعی کرنے والا شخص مسافر کہلاتا ہے اور اس کے لیے قصر نماز کا حکم آتا ہے۔
- ظہر کے چار فرض کی جگہ دو فرض پڑھے گا۔
- عصر کے چار فرض کی جگہ دو فرض پڑھے گا۔
- عشاء کے چار فرض کی جگہ دو فرض پڑھے گا۔
جبکہ:
- فجر کے دو فرض میں کوئی قصر نہیں۔
- مغرب کے تین فرض میں کوئی قصر نہیں۔
لہٰذا مسافر عورت بھی قصر کرے گی؛ قصر کا حکم صرف مردوں کے لیے نہیں ہے۔
البتہ مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے مسافر عورت امام کی اقتدا میں پوری نماز ادا کرے گی۔
*کتنے دن قیام کرنے سے قصر ختم ہوجاتی ہے؟*
اگر مسافر کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت کرے تو وہ وہاں مقیم ہوجاتا ہے اور پوری نماز پڑھے گا۔
اور اگر پندرہ دن سے کم قیام کی نیت ہو تو مسافر کے احکام برقرار رہیں گے۔
مثلاً کسی خاتون کو دوسرے شہر جاکر دس دن رہنا ہے تو وہ شرعی شرائط کے ساتھ مسافر رہے گی۔
لیکن اگر شروع ہی سے پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کا پختہ ارادہ ہو تو وہ مسافر نہیں رہے گی۔
یہ مسئلہ نیت اور حالات کی تفصیل سے متعلق ہے، اس لیے طویل قیام یا بار بار آنے جانے کی صورت میں مفتی سے مخصوص صورت پوچھنا بہتر ہے۔
*سفر میں روزے کا حکم*
رمضان میں شرعی سفر کرنے والے شخص کو روزہ نہ رکھنے کی شرعی رخصت حاصل ہے۔
اگر مسافر عورت روزہ رکھنے میں مشقت محسوس کرے تو روزہ چھوڑ کر بعد میں اس کی قضا کرسکتی ہے۔
اور اگر روزہ رکھنے میں کوئی خاص مشقت نہ ہو تو روزہ رکھنا بھی درست ہے۔
لہٰذا سفر کی وجہ سے روزہ چھوڑنا ’’گناہ‘‘ سمجھنا بھی درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے رخصت عطا فرمائی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾
’’پس تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلے۔‘‘
(البقرۃ: 184)
*سفر میں نماز کا وقت ہوجائے تو؟*
سفر میں بھی نماز اپنے مقررہ وقت میں ادا کرنا ضروری ہے۔
بس، ٹرین یا ہوائی جہاز میں نماز کا وقت ہوجائے تو حتی الامکان قبلہ رخ ہوکر اور نماز کی تمام ضروری شرائط کے ساتھ نماز ادا کی جائے۔
خصوصاً لمبے سفر پر روانگی سے پہلے نماز کے اوقات معلوم کرلینا چاہیے۔
یہ سوچنا کہ ’’گھر پہنچ کر پڑھ لیں گے‘‘ اور اس وجہ سے نماز کا وقت گزار دینا درست نہیں۔
*وطن اور بار بار آنے جانے کا مسئلہ*
کبھی عورت کا تعلق دو شہروں سے ہوتا ہے؛ مثلاً ایک شہر میں سسرال اور دوسرے میں والدین کا گھر۔
محض یہ کہ وہ کسی جگہ بار بار آتی جاتی ہے، اس سے ہر جگہ کا حکم یکساں نہیں ہوجاتا۔
فقہ میں وطنِ اصلی، وطنِ اقامت اور وطنِ سکنیٰ وغیرہ کی تفصیلات موجود ہیں۔
اسی لیے اگر کوئی خاتون دو یا زیادہ شہروں میں مستقل یا طویل قیام کرتی ہو اور وہاں بار بار آمد و رفت رہتی ہو تو ہر مرتبہ قصر کا حکم خود سے طے نہ کرے، بلکہ اپنی صورتِ حال کسی مفتی کو بتائے۔
*سفر میں پردہ اور حیا*
سفر میں پردے کی اہمیت کم نہیں ہوجاتی بلکہ بعض اعتبار سے احتیاط کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔
بس اڈے، ریلوے اسٹیشن، ایئرپورٹ، بازار، ہوٹل اور دیگر مقامات پر مختلف لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔
اس لیے خاتون:
- شرعی لباس اختیار کرے۔
- غیر محرم سے غیر ضروری گفتگو سے بچے۔
- تنہائی کی صورتوں سے احتیاط کرے۔
- اپنی ضروریات کے لیے بااعتماد اور شرعی طور پر مناسب انتظام کرے۔
- سفر میں نماز اور دیگر عبادات کا اہتمام کرے۔
*کیا سفر صرف تفریح کے لیے ہوسکتا ہے؟*
تفریح فی نفسہٖ ہر صورت میں ممنوع نہیں، لیکن مسلمان کی زندگی میں سفر بھی شرعی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔
اگر سفر میں گناہ، بے پردگی، نامحرم سے اختلاط یا دیگر ناجائز امور شامل ہوجائیں تو صرف ’’تفریح‘‘ کا نام اسے جائز نہیں بنا دیتا۔
اچھا سفر وہ ہے جس میں انسان دنیا کے مناظر دیکھنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر غور کرے، شکر ادا کرے اور اپنی آخرت کو نہ بھولے۔
*سفر سے پہلے خاتون کن باتوں کا خیال رکھے؟*
ایک مسلمان عورت کے لیے سفر سے پہلے چند باتوں کا اہتمام مفید ہے:
1. فاصلہ معلوم کرے کہ شرعی مسافت بنتی ہے یا نہیں۔
2. اگر شرعی سفر ہے تو محرم کا انتظام کرے۔
3. سفر کے اوقات کے مطابق نماز کا انتظام پہلے سے سوچے۔
4. مناسب شرعی لباس اور ضروری سامان تیار کرے۔
5. اگر علاج، تعلیم یا ملازمت کا سفر ہے تو سفر کے دوران نامحرم سے خلوت اور دیگر شرعی مسائل کا خیال رکھے۔
6. طویل قیام کی صورت میں معلوم کرے کہ قصر کب تک کرنا ہے۔
7. کسی پیچیدہ صورت میں خود فیصلہ کرنے کے بجائے مستند مفتی سے مسئلہ معلوم کرے۔
سفر زندگی کی ضرورت ہے، لیکن مسلمان کے لیے سفر بھی عبادت بن سکتا ہے، اگر اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھا جائے۔
آج کے دور میں ذرائعِ سفر تیز ہوگئے ہیں، فاصلے سمٹ گئے ہیں اور سفر پہلے سے کہیں آسان ہوگیا ہے، لیکن شرعی اصول صرف اس لیے تبدیل نہیں ہوجاتے کہ زمانہ بدل گیا ہے۔
اسی طرح شریعت کے احکام کو سمجھنے میں افراط و تفریط سے بھی بچنا چاہیے۔ ہر چھوٹے سفر کو شرعی سفر سمجھ لینا درست نہیں، اور شرعی مسافت کے سفر میں محرم کی شرط کو محض سفر کی آسانی یا جدید سواری کی وجہ سے نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔
ایک باشعور مسلمان عورت وہ ہے جو سفر سے پہلے یہ جانتی ہے کہ:
کتنا سفر شرعی سفر ہے،
محرم کون ہے،
کون محرم نہیں،
نماز کا کیا حکم ہے،
روزے کی کیا رخصت ہے،
اور کہاں کسی مستند عالم سے مسئلہ پوچھنا ضروری ہے۔
دین کا علم پابندیوں کا بوجھ نہیں بلکہ زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنے کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو دین کا صحیح علم عطا فرمائے، ہر سفر میں اپنی حفاظت اور اپنی رضا نصیب فرمائے، اور ہمیں اپنے تمام معاملات میں شریعت کی صحیح رہنمائی پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔