الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الأنبیاء والمرسلین، سیدنا ومولانا محمدٍ ﷺ، وعلیٰ آلہ وأصحابہ
أجمعین
*شمائلِ مصطفیٰ ﷺ - جمالِ صورت، کمالِ سیرت*
آج ہم اس ہستی کے تذکرے کے لیے جمع ہیں جس کے حُسن کو دیکھنے والی آنکھیں بھی گواہی دیتی تھیں اور جس کے اخلاق کو پانے والے دل بھی گواہی دیتے تھے۔ وہ ہے خاتم الانبیاء، حبیب خدا، محمد مصطفیٰ ﷺ ۔
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ایسا حسین سراپا عطا فرمایا تھا کہ صحابۂ کرامؓ جب آپ ﷺ کا حلیہ بیان کرتے تو الفاظ کم پڑ جاتے تھے۔
لیکن عزیز سامعات! محمد ﷺ کا کمال صرف چہرے کے حسن میں نہیں تھا؛ آپ ﷺ کا اصل کمال تو یہ تھا کہ حُسنِ صورت کے ساتھ حُسنِ سیرت بھی اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا:
﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾
"بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔"
یہ وہ آئینہ ہے جس میں ہمیں صرف اپنے نبی ﷺ کا چہرہ نہیں، اپنی زندگی بھی دیکھنی ہے۔
آپ ﷺ کی نشست و برخاست دیکھیے۔ آپ ﷺ تکبر کے ساتھ نہیں بیٹھتے تھے۔ مجلس میں تشریف رکھتے تو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے۔ کسی کو اپنے لیے اٹھنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ ایسے انداز سے بیٹھتے تھے جس میں عاجزی نمایاں ہوتی تھی۔
آپ ﷺ جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو پورے جسم کے ساتھ متوجہ ہوتے، صرف چہرہ پھیر کر بات نہیں کرتے تھے۔ گفتگو میں سامنے والے کے رتبے کا خیال رکھتے۔ کسی کی بات کاٹنا آپ ﷺ کا طریقہ نہ تھا۔ لہجہ نرم تھا، مگر بات واضح ہوتی تھی۔
آپ ﷺ کے چلنے کا انداز بھی وقار کا نمونہ تھا۔ نہ اکڑ کر چلتے، نہ سستی سے قدم گھسیٹتے؛ جب چلتے تو مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھتے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ چلتے تو ایسا معلوم ہوتا جیسے بلندی سے اتر رہے ہوں۔(شمائل الترمذی)
اور جب کسی سے ملاقات ہوتی تو چہرہ متبسم ہوتا۔ مسکراہٹ آپ ﷺ کی عادتِ مبارکہ تھی۔ حضرت جریر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ جب سے وہ اسلام لائے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں جب بھی دیکھا، مسکرا کر دیکھا۔
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
عزیز سامعات!
*اب ذرا آپ ﷺ کے لباس کو دیکھیے*
آپ ﷺ صاف ستھرا لباس زیبِ تن فرماتے۔ صفائی کو نصف ایمان قرار دیا۔ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سب سے محبوب لباس قمیص تھا۔ *ازار* کمر کے نیچے لپیٹا جانے والا کپڑا، جسے آپ ﷺ پہنتے تھے۔
*رداء* یعنی وقت ضرورت چادر بھی استعمال کرتے تھے ۔اسکے علاوہ *عمامہ* بھی باندھتے تھے۔
*جبہ* پہننے کی روایت بھی منقول ہے۔
اسکے علاوہ *خمیصہ* یہ ایک خاص قسم کی دھاری دار یا نقش دار چادر/کپڑا بھی آپ ﷺ کے استعمال میں آیا۔
*پاجامہ* اس کے بارے میں روایات موجود ہیں، لیکن یہ مستقل طور پر نہیں پہنتے تھے، اور جب بھی پہنتے گھٹنے سے اوپر رکھتے۔
*جوتے اور نعلین* بھی استعمال فرماتے تھے۔
رنگوں میں سفید رنگ آپکا پسندیدہ تھا۔ فرماتے تھے:
«الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ»
"اپنے کپڑوں میں سفید لباس پہنو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین لباسوں میں سے ہے۔"(سنن ابی داود، جامع الترمذی)
اسکے علاوہ آپ ﷺ اپنی ظاہری صفائی کا بھی غیر معمولی اہتمام فرماتے تھے۔ مسواک کا اہتمام فرماتے، غسل و وضو کی پابندی کرتے، جسم اور لباس کی پاکیزگی کا خیال رکھتے۔
آپ صلّی اللہ علیہ وسلم اپنی آنکھوں میں سرمہ لگاتے تھے۔ سرمہ کو اپنی سنت فرمایا۔
آپ ﷺ خوشبو کو پسند فرماتے تھے۔ خوشبو کا تحفہ دیا جاتا تو اسے رد نہ فرماتے۔بغیر عطر کے بھی آپ ﷺ کے جسمِ اطہر سے خوشبو آتی تھی، یہاں تک کہ صحابہؓ آپ ﷺ کی خوشبو سے پہچان لیتے تھے۔
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ اپنے بالوں کو سنوارتے، صفائی کا خیال رکھتے اور زیب و زینت میں بے اعتنائی اختیار نہیں فرماتے تھے۔
یہاں ایک اہم سبق ہے!
اسلام نے خوبصورت رہنے سے منع نہیں کیا، بلکہ اسلام نے تکبر سے منع کیا ہے۔
ایک مرتبہ ایک صحابیؓ نے پوچھا کہ آدمی کو یہ پسند ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں، جوتے اچھے ہوں، کیا یہ تکبر ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ»
"بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔"
پھر آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ تکبر حق کو ٹھکرانا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔(صحیح مسلم)
*یہی تو حُسنِ صورت سے حُسنِ سیرت کا سفر ہے۔*
عزیز سامعات!
*آپ ﷺ کا گھر والوں کے ساتھ سلوک دیکھیے۔*
آپ گھر میں تشریف لاتے تو گھر والوں کے لیے اجنبی بن کر نہیں رہتے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ فرمایا:
«كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ»
آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے کام میں مشغول رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔
(صحیح البخاری)
یہ ہے محبوبِ خدا کا گھریلو سلیقہ!
آپ ﷺ بچوں سے ملتے تو محبت فرماتے، انہیں سلام کرتے، ان کے ساتھ شفقت سے پیش آتے۔ کمزوروں کو اپنے قریب رکھتے، غلاموں اور خادموں کے ساتھ حسنِ سلوک فرماتے، غریبوں کے ساتھ بیٹھتے۔
آپ ﷺ کی زبان پاکیزہ تھی۔ گالی نہیں دیتے تھے، فحش گوئی نہیں فرماتے تھے، کسی کے عیب اچھالنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ گفتگو میں نہ بے جا طوالت ہوتی نہ بے مقصد کلام۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسلسل اس طرح گفتگو نہیں فرماتے تھے جیسے تم لوگ کرتے ہو، بلکہ آپ ﷺ کی گفتگو واضح اور الگ الگ ہوتی تھی، جسے سننے والا یاد رکھ سکتا تھا(سنن ابی داود، جامع الترمذی)
عزیز سامعات!
جب آپ ﷺ ناراض ہوتے تو بھی حدود سے تجاوز نہ کرتے۔ ذاتی معاملے میں انتقام نہ لیتے، اپنی ذات کے لیے بدلہ نہ لیتے، لیکن اللہ کی حدود پامال ہوتیں تو حق کے معاملے میں مضبوطی دکھاتے۔
آپ ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نرمی کمزوری نہیں، اور وقار تکبر نہیں؛ سادگی غربت نہیں، اور اچھا لباس پہننا نمود و نمائش نہیں۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَىٰ صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ»
"اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔"(صحیح مسلم)
میرے محترم سامعین!
ہم محمد ﷺ کا حلیہ سنتے ہیں تو دل خوش ہوتا ہے، آپ ﷺ کے لباس کا ذکر آتا ہے تو محبت بڑھتی ہے، آپ ﷺ کی خوشبو کا تذکرہ آتا ہے تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں؛ مگر سیرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس حسن کو اپنی زندگی میں بھی اتاریں۔
تب ہمارا یہ کہنا حقیقت بنے گا کہ ہم محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے ظاہر کو بھی پاکیزہ بنائے اور باطن کو بھی پاکیزگی نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔