*زکوٰۃ: خواتین کے مال سے متعلق وہ فرض جس سے واقفیت ضروری ہے*

اسلام نے عورت کو صرف گھر کی ذمہ داریوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے مستقل مالی حقوق بھی عطا کیے ہیں۔ مہر ہو یا وراثت، والدین کی طرف سے ملنے والا مال ہو یا شوہر کی طرف سے دیا گیا تحفہ، ملازمت کی آمدنی ہو یا گھر بیٹھے کیا جانے والا کاروبار، عورت اپنے مال کی خود مالک ہوسکتی ہے۔ اور جب شریعت نے اسے مال کی مالک بنایا ہے تو اس مال سے متعلق احکام جاننا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ انہی اہم احکام میں سے ایک زکوٰۃ ہے۔
زکوٰۃ اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ہے۔ قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ، یعنی ’’نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔‘‘ زکوٰۃ صرف کسی غریب کی مدد کردینے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک باقاعدہ شرعی فریضہ ہے، جس کی اپنی شرائط، نصاب، وقت اور مستحقین مقرر ہیں۔ اسی لیے زکوٰۃ کے معاملے میں محض رسم یا اندازے کے بجائے شرعی حکم کو سمجھنا ضروری ہے۔
خواتین کے لیے زکوٰۃ کے مسائل کی اہمیت اس لیے اور بڑھ جاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کے پاس عموماً سونے کے زیورات، نقدی، مہر کی رقم، بچت، تحائف، کمیٹی کی رقم یا کاروباری مال موجود ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ بہت سی خواتین اپنے زیورات کی زکوٰۃ کے مسئلے سے واقف نہیں ہوتیں۔ بعض کا خیال ہوتا ہے کہ ’’یہ تو پہننے کا زیور ہے، اس پر زکوٰۃ نہیں‘‘، بعض سمجھتی ہیں کہ ’’یہ سونا تو شادی کے وقت ملا تھا‘‘، اور بعض یہ سوچ کر مطمئن ہوجاتی ہیں کہ ’’میرے پاس تو اپنی آمدنی نہیں، اس لیے مجھ پر زکوٰۃ بھی نہیں۔‘‘ حالانکہ شریعت میں اصل اعتبار ملکیت اور شرائطِ زکوٰۃ کا ہے، نہ کہ اس بات کا کہ مال کس ذریعے سے حاصل ہوا ہے۔
*سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صاحبِ نصاب کون ہے؟*
فقہِ حنفی کے مطابق اگر کسی مسلمان کے پاس بنیادی ضروریات سے زائد قابلِ زکوٰۃ مال شرعی نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر قمری سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے۔ موجودہ زمانے میں عورت کے پاس صرف سونا ہی نہیں ہوتا بلکہ نقد رقم، چاندی یا مالِ تجارت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے نصاب کا حساب کرتے وقت مجموعی قابلِ زکوٰۃ مال کو دیکھنا ضروری ہے۔
مثلاً کسی خاتون کے پاس سونا ساڑھے سات تولے سے کم ہے، لیکن اس کے ساتھ نقد رقم یا مالِ تجارت بھی موجود ہے، تو صرف سونے کا وزن دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ اس پر زکوٰۃ نہیں۔ اگر مجموعی مالیت شرعی نصاب تک پہنچتی ہو تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔ معتبر حنفی فتاویٰ میں بھی یہی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
یہاں ایک بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ نصاب کے اعتبار سے موجودہ قیمتیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ہر سال زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت کسی معتبر ذریعہ سے اس وقت کی قیمت معلوم کرلینی چاہیے۔ محض گزشتہ سال کی قیمت یا پرانے حساب کو نقل کردینا کافی نہیں۔

*خواتین کے زیورات: سب سے زیادہ توجہ طلب مسئلہ*
خواتین کے لیے زکوٰۃ کا سب سے اہم عملی مسئلہ ان کے سونے اور چاندی کے زیورات کا ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق سونا اور چاندی اگر نصاب کو پہنچ جائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، خواہ وہ زیورات کی شکل میں ہوں یا کسی دوسری شکل میں، اور خواہ استعمال میں ہوں یا محفوظ رکھے ہوئے ہوں۔ یعنی یہ کہنا کہ ’’یہ زیور تو میں روزانہ پہنتی ہوں، اس لیے اس پر زکوٰۃ نہیں‘‘ حنفی فقہ کے مطابق درست نہیں۔
اسی طرح اگر زیور کبھی کبھار استعمال ہوتا ہو، صرف شادی بیاہ کے مواقع پر پہنا جاتا ہو یا برسوں سے الماری میں محفوظ ہو، حکم اس بنیاد پر تبدیل نہیں ہوتا۔ اگر نصاب کی مقدار موجود ہے اور زکوٰۃ کی دوسری شرائط پوری ہیں تو زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔
البتہ اگر کسی خاتون کے پاس صرف سونا ہے اور وہ ساڑھے سات تولے سے کم ہے، اس کے علاوہ نہ نقدی ہے، نہ چاندی اور نہ مالِ تجارت، تو محض اس سونے کی وجہ سے زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ لیکن اگر اس سونے کے ساتھ نقدی، چاندی یا مالِ تجارت بھی موجود ہو تو سب کو ملا کر نصاب کا اعتبار کیا جائے گا۔

*زیور کی قیمت خرید نہیں، زکوٰۃ کے وقت کی قیمت دیکھی جائے*
ایک اور عام غلطی یہ ہے کہ خاتون کئی سال پہلے سونا خریدتی ہے، اس وقت قیمت کم ہوتی ہے، پھر زکوٰۃ نکالتے وقت اسی پرانی قیمت کے حساب سے زکوٰۃ دے دیتی ہے۔ زکوٰۃ کے حساب میں موجودہ مالیت کا اعتبار کیا جاتا ہے، اس لیے زکوٰۃ کی تاریخ پر زیور کی قیمت معلوم کرنا ضروری ہے۔
اگر زیور میں نگینے، موتی یا دوسرے قیمتی پتھر لگے ہوئے ہوں تو معاملہ مزید تفصیل طلب ہوسکتا ہے۔ اس لیے صرف پورے زیور کا وزن معلوم کرکے حساب کرنا ہر صورت میں کافی نہیں؛ زیور کی نوعیت کے مطابق سونے کی مقدار اور اس کی شرعی حیثیت معلوم کرنا بہتر ہے۔ بعض صورتوں میں زیور کے وزن کے اعتبار سے بھی فقہی تفصیل موجود ہے، اس لیے پیچیدہ صورت میں مستند مفتی سے مسئلہ معلوم کیا جائے۔ دارالافتاء دارالعلوم دیوبند نے بھی زیورات کے نصاب کے سلسلے میں وزن اور ملاوٹ کے متعلق تفصیل بیان کی ہے۔

*’’یہ سونا تو شوہر نے دیا ہے‘‘تو زکوٰۃ کس پر ہوگی؟*
شادی کے موقع پر یا بعد میں شوہر کی طرف سے دیا ہوا زیور اگر بیوی کو ملکیت کے طور پر دے دیا گیا ہے تو وہ بیوی کی ملکیت ہے۔ اسی طرح والدین یا سسرال والوں نے اگر عورت کو زیور مالک بنا کر دیا ہے تو وہ اسی کا مال شمار ہوگا۔ پھر اگر وہ نصاب کو پہنچتا ہے تو زکوٰۃ بھی اسی خاتون کے ذمے ہوگی۔
محض یہ بات کہ زیور شوہر نے خرید کر دیا تھا، اس سے زیور شوہر کی ملکیت میں نہیں رہتا، اگر اس نے بیوی کو مالک بنا کر دے دیا ہو۔ معتبر حنفی فتاویٰ میں اسی اصول کی وضاحت موجود ہے۔
اسی لیے عورت کو اپنے زیورات کے بارے میں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی شرعی مالک کون ہے؟ کیونکہ زکوٰۃ کی ذمہ داری بھی مالک ہی پر آتی ہے۔

*شوہر پر بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ لازم نہیں*
اگر بیوی کے پاس نصاب کے مطابق سونا موجود ہے تو اس کی زکوٰۃ بنیادی طور پر بیوی ہی کے ذمے ہے۔ شوہر پر بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ شرعاً لازم نہیں، البتہ اگر شوہر بیوی کی اجازت سے اس کی زکوٰۃ ادا کردے تو یہ جائز ہے اور زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ بعض گھروں میں عورت کے زیورات کی زکوٰۃ شوہر ہر سال اپنی طرف سے ادا کرتا ہے، پھر عورت سمجھتی ہے کہ یہ شوہر کی ذمہ داری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شوہر کا ادا کرنا اس کا تعاون ہے، اصل ذمہ داری زیور کی مالک عورت کی ہے۔

*اگر عورت کے پاس زکوٰۃ دینے کے لیے نقد رقم نہ ہو؟*
یہ بھی ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ بعض خواتین کے پاس سونا تو ہوتا ہے لیکن زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے نقد رقم موجود نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں زکوٰۃ معاف نہیں ہوجاتی۔
اگر عورت چاہے تو زیور کی زکوٰۃ میں سونے کی واجب مقدار ہی دے سکتی ہے، یا زیور کا کوئی حصہ فروخت کرکے اس کی قیمت سے زکوٰۃ ادا کرسکتی ہے۔ اور اگر شوہر اپنی خوشی سے بیوی کی اجازت کے ساتھ اس کی زکوٰۃ ادا کردے تو بھی درست ہے۔ دارالافتاء دارالعلوم دیوبند نے اس کی صراحت کی ہے۔
لہٰذا ’’میرے پاس کیش نہیں‘‘ زکوٰۃ چھوڑنے کا عذر نہیں بن سکتا۔ البتہ کسی حقیقی مشکل صورت میں مستند مفتی سے مناسب طریقہ دریافت کرنا چاہیے۔

*عورت کی تنخواہ، بچت اور گھر بیٹھے کاروبار*
آج کی بہت سی خواتین ملازمت کرتی ہیں، آن لائن پڑھاتی ہیں، گھر سے کپڑے یا کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرتی ہیں، آن لائن اسٹور چلاتی ہیں یا کسی ہنر کے ذریعے آمدنی حاصل کرتی ہیں۔ ایسی آمدنی اگر عورت کی اپنی ملکیت میں ہے تو اس کے شرعی احکام بھی اسی کے مال کے ہوں گے۔
اسی طرح وہ خاتون جو ملازمت نہیں کرتی لیکن اس کے پاس والدین کی طرف سے ملا ہوا مال، مہر، زیورات یا جمع شدہ رقم موجود ہے، صرف اس وجہ سے زکوٰۃ سے مستثنیٰ نہیں ہوجاتی کہ اس کی کوئی ماہانہ تنخواہ نہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ’’کیا عورت کماتی ہے؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں قابلِ زکوٰۃ مال کتنا ہے؟

*مہر بھی عورت کا حق ہے*
اسلام نے مہر کو عورت کا حق قرار دیا ہے۔ اگر مہر ادا ہوچکا ہے اور وہ رقم، سونا یا دوسری قابلِ زکوٰۃ چیز عورت کی ملکیت میں موجود ہے تو اسے اس کے دوسرے اموال کے ساتھ دیکھا جائے گا۔
لیکن اگر مہر ابھی شوہر کے ذمے باقی ہے تو اس کی زکوٰۃ کا مسئلہ تفصیل طلب ہے۔ اس لیے ایسی عورت جس کا مہر ابھی ادا نہیں ہوا، وہ محض عمومی اصول سن کر فیصلہ نہ کرے بلکہ اپنی مخصوص صورت کے مطابق مستند مفتی سے مسئلہ معلوم کرے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مہر کی رقم اگر عورت کو مل چکی ہو اور وہ اسے ’’بیٹی کی شادی‘‘، ’’گھر بنانے‘‘ یا ’’مستقبل کے لیے‘‘ محفوظ کرکے رکھے تو صرف مقصد مقرر کرلینے سے وہ رقم زکوٰۃ کے حکم سے باہر نہیں ہوجاتی۔

*بیٹی کی شادی کے لیے جمع کی گئی رقم*
آج کل بہت سی مائیں اپنی بیٹی کی شادی کے لیے برسوں رقم جمع کرتی ہیں یا سونا خرید کر رکھتی ہیں۔ یہاں ملکیت کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اگر مال حقیقتاً ماں کی ملکیت ہے اور وہ صرف مستقبل میں بیٹی کو دینے کا ارادہ رکھتی ہے تو جب تک بیٹی کو مالک نہ بنایا جائے، وہ مال ماں ہی کی ملکیت شمار ہوگا۔ محض یہ نیت کہ ’’یہ بیٹی کے کام آئے گا‘‘ ملکیت منتقل نہیں کرتی۔
لیکن اگر والدین نے حقیقتاً نابالغ بچی کو کوئی مال مالک بنا کر دے دیا ہو تو نابالغ کے مال میں زکوٰۃ کے متعلق فقہی حکم الگ ہے۔ اس لیے بچوں کے نام سونا یا رقم رکھنے کی صورت میں ملکیت کی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے۔
اسی طرح صرف زکوٰۃ سے بچنے کے لیے اپنا مال بچوں کے نام کردینا ایک درست شرعی طرزِ عمل نہیں۔ مسلمان کو اللہ تعالیٰ کے فرض سے بچنے کے لیے حیلے تلاش کرنے کے بجائے اپنے مال کا حق ادا کرنا چاہیے۔

*کمیٹی اور بچت کی رقم*
خواتین میں کمیٹی کا رواج عام ہے۔ ہر ماہ ایک مقررہ رقم جمع کی جاتی ہے اور باری آنے پر ایک بڑی رقم حاصل ہوتی ہے۔ کمیٹی کی ہر صورت کا حکم اس کے طریقۂ کار اور ملکیت کی نوعیت کے اعتبار سے سمجھا جائے گا۔ اس لیے یہ اصول بنا لینا کہ ’’کمیٹی کے پیسوں پر زکوٰۃ نہیں ہوتی‘‘ درست نہیں۔
جس مرحلے پر رقم عورت کی ملکیت میں قابلِ زکوٰۃ مال کے طور پر موجود ہو، اسے زکوٰۃ کے حساب میں شامل کرنا ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی کو بڑی رقم قرض دی ہوئی ہے تو اس کے بھی الگ فقہی احکام ہیں۔ قابلِ وصول قرض اور ایسی رقم جو برسوں سے پھنس چکی ہو اور وصول ہونے کی امید نہ ہو، دونوں کا حکم ایک نہیں۔
لہٰذا قرض دی ہوئی رقم کے بارے میں بھی مکمل صورت معلوم کرکے زکوٰۃ کا فیصلہ کیا جائے۔

*بینک اکاؤنٹ میں پڑی رقم بھی مال ہے*
موجودہ دور میں خواتین کی بچت اکثر گھر کی الماری کے بجائے بینک اکاؤنٹ میں ہوتی ہے۔ رقم بینک میں رکھنے سے اس پر زکوٰۃ کا حکم ختم نہیں ہوجاتا۔ اگر وہ عورت کی ملکیت ہے اور شرائطِ زکوٰۃ پوری ہیں تو زکوٰۃ کے حساب میں اسے شامل کیا جائے گا۔
اسی طرح گھر میں موجود نقدی، کاروباری رقم اور دوسری قابلِ زکوٰۃ رقوم کو بھی مجموعی حساب میں شامل کیا جائے گا۔

*آن لائن کاروبار کرنے والی خواتین خاص طور پر متوجہ ہوں*
گھر بیٹھے کاروبار کرنے والی خواتین کے لیے یہ مسئلہ بہت اہم ہے۔ اگر کوئی خاتون کپڑے، عبایے، حجاب، کھانے کی اشیاء، دستکاری یا دوسری چیزیں فروخت کرنے کے لیے خریدتی ہے تو فروخت کے لیے موجود مال تجارت کے حکم میں آسکتا ہے۔
اس لیے زکوٰۃ کی تاریخ پر صرف بینک بیلنس دیکھ لینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ فروخت کے لیے موجود مال کی موجودہ مالیت بھی حساب میں لانی ہوگی۔
اس کے برعکس گھر میں موجود ذاتی استعمال کے کپڑے، فرنیچر، برتن، موبائل، کمپیوٹر، گاڑی یا رہائشی مکان پر محض اس لیے زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی کہ ان کی قیمت زیادہ ہے۔ یہاں بنیادی فرق ذاتی استعمال اور تجارت کا ہے۔

*پلاٹ اور مکان کے بارے میں عام غلط فہمی*
ہر زمین یا مکان پر زکوٰۃ نہیں ہوتی۔ جو مکان رہائش کے لیے ہے، اس کی قیمت پر زکوٰۃ نہیں۔ اسی طرح ذاتی استعمال کی چیزوں پر بھی زکوٰۃ نہیں۔
البتہ اگر کوئی پلاٹ یا چیز اس نیت سے خریدی گئی ہو کہ اسے تجارت کے طور پر فروخت کیا جائے گا تو اس کا حکم مالِ تجارت کے اعتبار سے ہوسکتا ہے۔ اس لیے پلاٹ کے بارے میں صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ ’’پلاٹ ہے یا نہیں؟‘‘ بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اسے کس مقصد سے رکھا گیا ہے۔

*زکوٰۃ کس کو دی جائے؟*
زکوٰۃ ادا کرتے وقت ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ رقم ایسے شخص کو دی جائے جو شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہو۔ فقہاء نے زکوٰۃ کے مستحقین کے احکام واضح کیے ہیں۔ کسی غریب اور ضرورت مند مسلمان کی مدد زکوٰۃ سے کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ وہ شرعی طور پر مستحق ہو۔
ضرورت مند رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا بھی ایک اچھی صورت ہوسکتی ہے۔ مثلاً اگر بھائی یا بہن واقعی مستحق ہوں تو انہیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ اس طرح زکوٰۃ کے ساتھ صلۂ رحمی کا فائدہ بھی حاصل ہوسکتا ہے۔
البتہ والدین، اولاد اور ان افراد کے بارے میں جن کا خرچ شرعاً زکوٰۃ دینے والے کے ذمے لازم ہے، الگ احکام ہیں۔ اسی لیے ہر رشتہ دار کو محض ضرورت مند سمجھ کر زکوٰۃ دینا درست نہیں۔

*زکوٰۃ مسجد یا کسی عمومی تعمیر میں؟*
زکوٰۃ کے مال میں مستحق کو مالک بنانا بنیادی مسئلہ ہے۔ اس لیے زکوٰۃ کی رقم کسی عمومی تعمیر، سڑک، پل یا مسجد کی تعمیر میں لگا دینا عام طور پر زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں بنتا، کیونکہ وہاں کسی مستحق شخص کو زکوٰۃ کا مالک نہیں بنایا جارہا۔
اسی طرح کسی غریب کے نام پر چیز خرید کر خود اس کا مالک بن جانا بھی زکوٰۃ کی درست ادائیگی نہیں۔ زکوٰۃ دیتے وقت یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ شرعی مستحق کو واقعی مال کا مالک بنایا جارہا ہے۔

*زکوٰۃ کی تاریخ: اسے یاد رکھنا بھی ضروری ہے*
جس خاتون پر زکوٰۃ فرض ہوچکی ہے، اسے اپنی زکوٰۃ کی تاریخ معلوم ہونی چاہیے۔ بہت سی خواتین ہر سال رمضان میں زکوٰۃ نکالتی ہیں، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا قمری سال کب مکمل ہوتا ہے۔
رمضان میں زکوٰۃ ادا کرنا سہولت کی وجہ سے اچھا معمول ہوسکتا ہے، لیکن زکوٰۃ کا سال کسی اور قمری تاریخ کو مکمل ہوگیا ہو تو صرف رمضان کا انتظار کرنا مناسب نہیں۔
آج کے دور میں موبائل فون میں ایک مستقل یاد دہانی لگانا بہت آسان ہے۔ ہر سال زکوٰۃ کی تاریخ آنے پر اپنے زیورات، نقد رقم، بینک بیلنس، کاروباری مال اور دیگر قابلِ زکوٰۃ اموال کا جائزہ لیا جائے۔

*زکوٰۃ کا حساب: ایک عملی طریقہ*
زکوٰۃ کی تاریخ پر عورت سکون سے بیٹھ کر اپنے مال کی مکمل فہرست بنائے۔ سب سے پہلے سونے اور چاندی کے زیورات کا وزن اور موجودہ مالیت معلوم کرے، پھر گھر کی نقدی، بینک میں موجود رقم، بچت، کاروباری مال اور دوسری قابلِ زکوٰۃ رقوم کو سامنے رکھے۔ اس کے بعد اپنے واجب الادا قرض وغیرہ کی شرعی حیثیت معلوم کرکے قابلِ زکوٰۃ مال کا حساب کرے۔
عام طور پر زکوٰۃ کی شرح ڈھائی فیصد، یعنی چالیسواں حصہ ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی خاتون کا قابلِ زکوٰۃ مال ایک لاکھ روپے ہو تو اس کا ڈھائی فیصد دو ہزار پانچ سو روپے ہوگا۔ یہ صرف حساب سمجھانے کی مثال ہے؛ اصل حساب ہر خاتون کے اپنے مال اور شرعی صورت کے مطابق ہوگا۔

*زکوٰۃ میں سب سے بڑی ضرورت: احتیاط اور دیانت*
زکوٰۃ کے مسائل میں سب سے خطرناک رویہ یہ ہے کہ انسان اپنے مال کو زکوٰۃ سے بچانے کے لیے مختلف تاویلیں تلاش کرنے لگے۔ ’’یہ زیور استعمال میں ہے‘‘، ’’یہ رقم بیٹی کی شادی کے لیے ہے‘‘، ’’یہ پیسے بینک میں ہیں‘‘، ’’یہ مال تو مستقبل کے لیے رکھا ہے‘‘یہ سب باتیں اپنے آپ میں زکوٰۃ ساقط کرنے کی دلیل نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں مال دیا ہے، لیکن اس مال کے ساتھ ہماری ذمہ داریاں بھی مقرر فرمائی ہیں۔ زکوٰۃ دراصل مال کی صفائی اور انسان کے دل کی تربیت کا ذریعہ ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا
’’ان کے مالوں سے صدقہ لیجیے، جس کے ذریعے آپ انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں۔‘‘
زکوٰۃ مال کو برباد نہیں کرتی؛ بلکہ انسان کے مال کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ دل کو بخل سے نکالتی، ضرورت مندوں کی مدد کرتی اور معاشرے میں ہمدردی پیدا کرتی ہے۔
خواتین کے لیے خاص طور پر ضروری ہے کہ وہ اپنے زیورات اور مالی معاملات سے متعلق شرعی احکام سے ناواقف نہ رہیں۔ جس طرح وہ گھر کے اخراجات کا حساب رکھتی ہیں، بچوں کی تعلیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہیں، اسی طرح اپنے مال کے شرعی حقوق کا حساب رکھنا بھی ان کی دینی ذمہ داری ہے۔
اپنے زیورات کی حفاظت ضرور کیجیے، مگر ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حق کی بھی حفاظت کیجیے۔ اپنی بچت کا حساب ضرور رکھیے، مگر اس میں زکوٰۃ کا حساب بھی شامل رکھیے۔ اور اگر کسی مسئلے میں الجھن ہو تو اندازے سے فیصلہ کرنے کے بجائے مستند عالم یا مفتی سے مکمل صورت بیان کرکے رہنمائی حاصل کیجیے۔
کیونکہ زکوٰۃ محض مال میں سے کچھ رقم نکال دینے کا نام نہیں؛ یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی مالی ذمہ داری پوری کرنے کا نام ہے۔
اور شاید زکوٰۃ کی سب سے خوب صورت یاد دہانی یہی ہے کہ جس مال کو ہم اپنا سمجھ کر جمع کرتے ہیں، اس میں اللہ تعالیٰ نے کسی دوسرے کا حق بھی مقرر فرمایا ہے۔