*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!*
 *اسوۂ مصطفیٰ ﷺ: ازدواجی زندگی میں محبت، وفا اور عدل* 

  محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک جانب وحیِ الٰہی کی عظیم ذمہ داری تھی تو دوسری جانب امت کی قیادت و رہنمائی کا بارِ گراں۔ لیکن ان تمام ذمہ داریوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانہ محبت، سکون اور رحمت کا ایسا حسین نمونہ تھا جو گویا جنت کی ایک جھلک پیش کرتا تھا۔
نبی کریم ﷺ نے گیارہ نکاح فرمائے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ آپ ﷺ نے یہ نکاح محض خواہشاتِ نفس کی بنا پر کیے، بلکہ ان نکاحوں میں کبھی دینی و معاشرتی مصلحت کارفرما تھی، کبھی حکمِ خداوندی کی تعمیل تھی، اور کبھی قبائل کے سربراہوں کی بیٹیوں کو عزت و توقیر کا مقام عطا کرنا مقصود تھا۔
آپ ﷺ کی پہلی رفیقۂ حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ وہ آپ ﷺ کے ابتدائی دورِ حیات کی رفیق، رازدار اور دشوار ترین ساعتوں میں حوصلہ و تسلی عطا کرنے والی وفادار شریکِ حیات تھیں۔
جب غارِ حرا کا وہ عظیم واقعہ پیش آیا تو حضرت خدیجہؓ نے اضطراب کے اس لمحے میں آپ ﷺ کو سہارا دیا۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنا تمام مالِ تجارت نبی کریم ﷺ کے قدموں میں پیش کردیا اور ابتدائی دور میں پیش آنے والی اذیتوں اور مظالم کے مقابلے میں آپ ﷺ کے شانہ بشانہ ثابت قدم رہیں۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت خدیجہؓ کے وصال کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ نے ان کی وفا اور محبت کو کبھی فراموش نہیں فرمایا۔ آپ ﷺ ہمیشہ ان کی تعریف و توصیف فرماتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ ﷺ بکری ذبح فرماتے تو حضرت خدیجہؓ کی سہیلیوں کو بھی گوشت بھیجتے۔ حضرت عائشہؓ کو کبھی کبھی رشک محسوس ہوتا تو آپ ﷺ حضرت خدیجہؓ کی خوبیوں کا ذکر فرماتے۔
پھر گھرِ نبوت میں حضرت عائشہ صدیقہؓ تشریف لائیں۔ ان سے نکاح کی بشارت آپ ﷺ کو خواب میں مل چکی تھی۔ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں محبت کا ایک ایسا دل آویز رنگ دکھائی دیتا ہے جس میں سنجیدگی کے ساتھ بے تکلفی بھی ہے، عبادت کے ساتھ مسکراہٹ بھی ہے اور عظمت و جلال کے ساتھ گھریلو انس و محبت بھی۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:
"میں خوب جانتا ہوں کہ تم مجھ سے کب خوش ہوتی ہو اور کب ناراض۔"
حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو کیسے معلوم ہوتا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو قسم کھاتے ہوئے کہتی ہو: "محمد کے رب کی قسم!"اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو:
"ابراہیم کے رب کی قسم!"حضرت عائشہؓ نے عرض کیا:"ہاں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول، میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔"
کیا نزاکت ہے اس مکالمے میں! ناراضی بھی محبت کے دائرۂ ادب سے باہر نہیں نکلتی۔
حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ فرمایا۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ آگے نکل گئیں اور بعد میں ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ آگے نکلے تو مسکرا کر فرمایا کہ یہ پہلی مرتبہ کا بدلہ ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں اور نبی کریم ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔ کبھی آپ ﷺ میرے برتن سے پانی لینے میں مجھ سے سبقت لے جاتے اور کبھی میں آپ ﷺ سے سبقت لے جاتی۔
حضرت عائشہؓ برتن کے ایک حصے سے پیتی تھیں تو رسول اللہ ﷺ بھی اسی مقام سے نوش فرماتے جہاں سے انہوں نے نوش کیا تھا۔
پھر جب حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت کا واقعہ پیش آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً لوگوں کی زبانوں پر بھروسہ نہیں کیا، بلکہ نرمی، شفقت اور محبت کے ساتھ سمجھایا کہ اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو، اور اگر تم بے قصور ہو تو عنقریب اللہ تعالیٰ تمہاری براءت ظاہر فرما دے گا۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا وہ عظیم سبق ہے جسے محفوظ تو کرلیا گیا، لیکن افسوس کہ عملی زندگی میں فراموش کردیا گیا۔ آج اگر کوئی شخص بیوی پر کوئی الزام عائد کردے تو شوہر تحقیق و تبیّن کے بجائے فوراً سزا دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔
پھر وہ دور بھی آتا ہے جب نبی کریم ﷺ اپنی ازواج سے ناراض ہوکر ایک بالاخانے میں قیام فرما ہوئے، پھر ناراضی ختم ہوئی تو ایک ماہ کے بعد آپ ﷺ تشریف لائے اور ازواج سے ملاقات فرمائی۔ یہ واقعہ اس امر کی تعلیم دیتا ہے کہ اگر میاں بیوی کے معاملات میں کشیدگی پیدا ہوجائے اور حالات بگڑتے جائیں تو ایک دوسرے سے کچھ مدت کے لیے علیحدگی اختیار کی جاسکتی ہے، لیکن یہ دوری ایک ماہ سے زیادہ طول نہ پکڑے۔
پھر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا ذکر آتا ہے؛ ان کی طبیعت میں تیزی کے ساتھ خوش مزاجی بھی تھی۔ کبھی کبھی وہ جان بوجھ کر بے ڈھنگے پن سے چلتیں تو حضور ﷺ مسکرا دیتے۔ کبھی نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرتیں اور اگر آپ ﷺ دیر تک رکوع فرماتے تو عرض کرتیں: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنا رکوع بہت طویل کردیا، مجھے تو نکسیر پھوٹنے کا اندیشہ ہوا اور میں اپنی ناک سہلاتی رہی۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺ مسکرا پڑے۔
پھر حضرت حفصہؓ آپ ﷺ کے نکاح میں آئیں۔ حضرت حفصہؓ بیوہ ہوئیں تو آپ ﷺ نے خود انہیں اپنے لیے منتخب فرمایا۔ حضرت حفصہؓ مزاج میں تیزی رکھتی تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والی اور عبادت گزار تھیں۔
رسول اللہ ﷺ کو شہد پسند تھا۔ آپ ﷺ عصر کے بعد اپنی ازواج کے پاس تشریف لے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت زینبؓ کے پاس معمول سے زیادہ دیر قیام فرمایا۔ معلوم ہوا کہ انہیں شہد کا تحفہ ملا تھا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سے پلایا تھا۔
حضرت عائشہؓ و حفصہؓ کو رشک آیا، چنانچہ دونوں نے باہم مشورہ کیا اور کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس آئیں تو کہنا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ اگر آپ ﷺ فرمائیں کہ نہیں، تو کہنا کہ پھر یہ بو کیسی ہے؟
حضرت حفصہؓ نے کسی طرح پوچھ ہی لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، میں نے شہد پیا ہے۔ پھر جب یہی بات دوسری ازواج کی طرف سے بھی سامنے آئی تو آپ ﷺ نے شہد چھوڑ دینے کا ارادہ فرمایا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی۔
آپ ﷺ کی ایک اور زوجہ حضرت زینبؓ بنت خزیمہ تھیں۔ آپ ﷺ کے نکاح میں آکر چند ماہ بھی مکمل نہ ہوئے تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے خود ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
حضرت ام سلمہؓ بھی آپ ﷺ کی زوجہ بنیں۔ آپ ﷺ ان سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ام سلمہؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا قرآن میں ذکر کیوں نہیں ہے؟ ان کی بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور یہ آیت تلاوت فرمائی:{إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کی ہر بات کو توجہ سے سماعت فرماتے، ان کے جذبات و احساسات کا لحاظ رکھتے اور انہیں خوش رکھنے کی کوشش فرماتے تھے۔
پھر وہ مبارک موقع آیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحشؓ سے نکاح کا ارادہ فرمایا۔ حضرت زینبؓ کو اطلاع کی گئی تو انہوں نے فرمایا: میں خدا کے حضور استخارہ کروں گی۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر وحی فرمائی کہ آسمانوں پر آپ ﷺ کا نکاح زینب بنت جحشؓ سے کردیا گیا ہے۔ حضرت زینبؓ اور نبی اکرم ﷺ کے ولیمے کے موقع پر آیتِ حجاب نازل کی گئی۔
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے فرمایا:
"تم میں سے وہ مجھ سے جلد ملے گی جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہوگا۔"
لمبے ہاتھ سے مراد سخاوت و فیاضی تھی۔ چنانچہ آپ ﷺ کے انتقال کے بعد حضرت زینبؓ سب سے پہلے وفات پائیں۔
حضرت جویریہؓ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: میں مصیبت زدہ ہوں، آزاد ہونا چاہتی ہوں، میری مدد فرمائیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ میں تمہیں آزاد کرادوں اور تم سے نکاح کرلوں؟ حضرت جویریہؓ فوراً راضی ہوگئیں۔ یوں حرمِ نبوی ﷺ میں ایک اور زوجہ کا اضافہ ہوا۔
اس کے بعد حضرت ام حبیبہؓ کو نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات میں شامل فرمایا۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آپ نے اپنی زوجہ بنایا ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی دلجوئی کا منظر بھی نہایت دل آویز ہے۔ایک مرتبہ حضرت صفیہؓ کو کسی بات سے رنج پہنچا اور وہ رو رہی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، دیکھا کہ ان کی آنکھوں میں آنسو ہیں، دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ عائشہ اور زینب کہتی ہیں کہ ان کا خاندانِ نبوت سے تعلق ہے، جبکہ تم یہودیہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا: اگر عائشہ اور زینب کہتی ہیں کہ ان کا خاندانِ نبوت سے تعلق ہے تو تم نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ میرے باپ ہارون علیہ السلام، میرے چچا موسیٰ علیہ السلام اور میرے شوہر محمد ﷺ ہیں۔ یعنی تم ایک نبی کی بیٹی ہو، تمہارے چچا بھی نبی ہیں اور تم ایک نبی کے نکاح میں ہو؛ پھر وہ تم پر کس بات کا فخر کرسکتی ہیں؟
کیا خوبصورت دلجوئی تھی!
اسی طرح ایک مرتبہ سفر میں حضرت صفیہؓ کا اونٹ بیمار ہوا تو وہ غمگین ہوگئیں۔ حضور ﷺ نے ان کی دلجوئی فرمائی اور زینبؓ سے کہا: تم صفیہؓ کو ایک اونٹ دے دو۔ نہ جانے کیوں زینبؓ کی زبان سے نکلا: یا رسول اللہ! اس یہودیہ کو میں اپنا اونٹ دوں؟
یہ جملہ نبی کریم ﷺ کو ناگوار گزرا اور آپ ﷺ نے دو یا تین ماہ تک زینبؓ سے کلام نہ فرمایا، پھر حضرت عائشہؓ نے ان کی غلطی معاف کروائی۔
اور پھر حضرت میمونہ آپ کے نکاح میں آئی ، یہ آخری نکاح تھا اسکے بعد آپ نے کسی سے نکاح نہ کیا۔
نبی کی ہر ایک زوجہ اپنی منفرد شخصیت، جداگانہ مزاج، مختلف پس منظر اور اپنی مخصوص خوبیوں کے ساتھ گھرِ نبوت کا حصہ تھی۔
رسول اللہ ﷺ سب کے ساتھ عدل فرماتے، باری مقرر فرماتے، حقوق ادا فرماتے اور کسی ایک کی محبت کو دوسری کے حق کی پامالی کا ذریعہ نہ بننے دیتے۔
حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا:آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے کام میں مشغول رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔یہ وہ منظر ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
جس دستِ مبارک میں امت کی قیادت تھی، وہی ہاتھ اہلِ خانہ کے کام میں شریک ہوتا تھا؛ جس زبانِ مبارک سے وحیِ الٰہی کی تلاوت ہوتی تھی، وہی زبان گھر کی فضا میں محبت و شفقت کے کلمات بکھیرتی تھی۔
یہی تو ازدواجی زندگی کا حسن ہے کہ شریکِ حیات کو محض اس کے فرائض کے حوالے سے نہیں، بلکہ اس کی شخصیت، جذبات اور احساسات کے اعتبار سے بھی سمجھا جائے۔
اور پھر جب کبھی ازواجِ مطہرات کے درمیان غیرت یا اختلاف کا کوئی موقع آیا، رسول اللہ ﷺ نے اسے انسانی فطرت کا تقاضا سمجھا، مگر حدود و آداب بھی قائم فرمائے۔ آپ ﷺ نے اپنی ازواج پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔
قرآنِ کریم نے میاں بیوی کے تعلق کو ایک ایسا جامع اور حسین استعارہ عطا فرمایا جس سے زیادہ بلیغ تعبیر شاید ممکن ہی نہیں:
﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾
"وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔"
گھرِ نبوت میں یہی لباسِ محبت نظر آتا ہے؛ حضرت خدیجہؓ کی وفا، حضرت عائشہؓ کی بے تکلف محبت، حضرت صفیہؓ کی دلجوئی، حضرت حفصہؓ کے ساتھ حسنِ معاملہ، حضرت سودہؓ کی شگفتگی، حضرت زینبؓ کی سخاوت، اور تمام ازواجِ مطہرات کے ساتھ عدل و حسنِ معاشرت۔
محترم سامعات!
آج ہمیں اپنے گھروں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
کیا ہم اپنے شریکِ حیات کی کیفیت اور کیفیات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ناراضی کے عالم میں بھی عزت و احترام باقی رہتا ہے؟ کیا اختلاف کے مواقع پر انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹتا؟ کیا محبت ہمارے لیے محض مطالبے کا نام ہے یا ایثار و قربانی کا بھی؟
آئیے! ہم اپنے گھروں کو اسوۂ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق محبت، رحمت، وفا، ایثار اور عدل کا گہوارہ بنانے کی کوشش کریں۔
اور اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت، کامل اتباع اور قیامت کے دن آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔