*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*طلوعِ آفتابِ نبوت ﷺ - ظلمتِ جاہلیت سے نورِ ہدایت تک*
تاریخ کے اوراق پلٹیے، وقت کی دھند کو ہٹائیے، چودہ سو برس پیچھے چلیے؛ جب دنیا کے افق پر اندھیرا چھایا ہوا تھا، جب انسانیت لہولہان تھی،طاقت قانون تھی، نسب فخر تھا،
اس زمین پر اللہ کا گھر موجود تھا، مگر اس گھر کے گرد سینکڑوں بت کھڑے تھے۔ ایک معمولی واقعہ برسوں کی جنگ کا سبب بن جاتا۔ خون کا بدلہ خون سے، ظلم کا جواب ظلم سے اور عزت کا معیار طاقت سے طے ہوتا۔
شراب تھی، فخر و غرور تھا، بے حیائی تھی، کمزوروں پر ظلم تھا۔ بیٹیاں زندہ دفن کی جاتی تھی۔ غرض کہ ہر برائی عام تھی۔
اس جوالت پر آخر خدا کو رحم آیا،ملک عرب کے قبیلۂ قریش میں عبدالمطلب کے گھر میں ایک ایسا بچہ آنے والا تھا جس کے قدموں کی چاپ پوری دنیا کی تاریخ بدل دینے والی تھی۔
ولادت سے قبل ہی والد کا سایہ اٹھ گیا،
ولادت کے بعد عرب کے دستور کے مطابق حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے آغوشِ تربیت میں پرورش پائی۔
لیکن پھر والدہ، شفیق دادا بھی دنیا سے چل بسے،یتیمی کے سائے بڑھتے گئے، لیکن رب کائنات دنیا کو بتانا چاہتے تھے کہ اس بچے کی تربیت ربِّ کائنات خود کرنے والے ہے۔
﴿أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ﴾
"کیا اس نے تمہیں یتیم نہ پایا، پھر جگہ نہ دی؟"
بچپن گزرا، جوانی آئی۔
اور پھر مکہ نے اس نوجوان کو غور سے د دیکھا تو معلوم ہوا کہ صورت و سیرت میں محمد مصطفی جیسا کوئی نہیں۔ لہذا لوگوں نے نام رکھا: صادق امین۔
اور پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ تجارت، گھر، خاندان، معاشرت زندگی اپنے معمول کے راستے پر چل رہی تھی؛ مگر آسمان پر ایک فیصلہ ہوچکا تھا۔
مکہ کی گلیاں نہیں جانتی تھیں کہ حرا کی خاموش چٹانوں پر تاریخ کا سب سے عظیم انقلاب اپنی تمہید لکھ رہا ہے۔
آپکی عمرِ مبارک چالیس برس ہوئی۔
یکایک وہ رات آئی جس نے رات کو بھی تاریخ کا سب سے روشن لمحہ بنا دیا۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا:
﴿اقْرَأْ﴾
"پڑھیے!"
یہ لفظ صرف محمد ﷺ کے لیے نہیں تھا؛ بلکہ سوئی ہوئی انسانیت کیلیے اعلان تھا کہ نبوت کا آفتاب طلوع ہوگیا، اب جہالت مٹے گی، ہدایت عام ہوگی۔
آپ خاتم النبیین بن کر مکہ کی گلیوں میں صدا بلند کرنے لگے لا إله إلا الله!
سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ ایمان لائیں، پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت علیؓ، حضرت زید بن حارثہؓ اور پھر ایمان والوں کا یہ قافلہ بڑھتا چلا گیا۔
ابتدا میں دعوت خفیہ رہی، پھر حکم آیا:﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ﴾ "جو حکم تمہیں دیا گیا ہے اسے کھول کر بیان کردیجیے۔"
آپ ﷺ نے کھلم کھلا اسلام کی دعوت دی تو آپ کو ساحر، مجنوں، دیوانہ جیسے القابات دیے گیے۔ کبھی مال کی پیشکش ہوئی، کبھی سرداری کی، کبھی بادشاہت کی۔
مگر محمدِ عربی ﷺ نے دنیا کے ہر تاج کو ٹھکرا کر فرمایا کہ اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے میں چاند بھی رکھ دیں، تب بھی میں اس دعوت سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
اب مخخالفت بڑھتی گئی۔
حضرت بلالؓ حضرت خبابؓ زنیرہ جیسے معصوموں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹنے لگے یہاں تک حضرت سمیہؓ پہلی شہادت پانے والی خاتون بن گئی۔
گھر، مال و زر اولاد چھین لیے گئے مگر ایمان نہ چھینا جاسکا۔
رسول اللہ ﷺ نے دعاکی:
«اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلَامَ بِأَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ»
"اے اللہ! ان دو آدمیوں میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔"
اللہ تعالیٰ نے عمر بن خطابؓ کو منتخب فرمایا۔ دعائے مصطفی نے عمر کو مخالف سے محافظِ اسلام بنادیا۔
دشمن غضبناک ہوگئے لہذا مسلمانوں کا سوشل بائیکاٹ کیا شعبِ ابی طالب میں بند کردیا۔
تین برس تک بھوک، تنگی اور آزمائش کا دور رہا۔ یہاں سے آزادی ملی تو چچا ابوطالب اور خدیجہ رخصت ہوئے۔محمد مصطفی پر یہ سال عام الحزن یعنی غموں کا سال بن گیا۔ لیکن محمدِ عربی ﷺ رکے نہیں۔ طائف گئے؛ وہاں زخمی ہوئے مگر زبانِ رحمت سے بددعا نہیں نکلی۔
پھر معراج کا عظیم واقعہ پیش آیا۔ اور پھر وہ عظیم تحفہ جو امتِ محمدیہ کے لیے نماز کی صورت میں ملا۔
ادھر یثرب کے لوگ اسلام قبول کر رہے تھے۔بیعتیں ہوئیں۔ اور پھر بحکم خداوندی ہجرت کی گئی۔صحابہؓ اپنے گھر، مال، کاروبار اور وطن چھوڑ کر مدینہ کی طرف نکلنے لگے۔
قریش کی سازش آخری حد تک پہنچ گئی۔ فیصلہ ہوا کہ محمد ﷺ کو قتل کردیا جائے۔
اور پھر وہ تاریخی رات آئی جب قاتل گھات میں تھے، لیکن بستر پر علی تھے، اور رسول اللہ ﷺ آنکھوں میں آنسو لے کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ مکہ سے نکل گئے
پیچھے دشمنوں کے قدم سن کر ابوبکرؓ نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لیا تو ہمیں دیکھ لے گا۔"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾"غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔"
آخر ہجرت مکمل ہوئی شہرِ مدینہ نے آپکا استقبال کیا۔
مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنایا گیا۔ بیک نئی امت تشکیل پانے لگی۔
مگر دشمنوں نے سکون نہ لینے دیا۔ اور اپنی دشمنی کو میدانِ جنگ میں لے ائے۔ یوں ماہ رمضان المبارک میں غزوۂِ بدر پیش آیا تعداد کم، وسائل کم، مگر ایمان بلند! حبیبِ خدا آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہنے لگے اگر آج یہ تیرے ماننے والے مٹ گئے تو پھر تیرے نام لینے والے نہ پیدا ہونگے۔
عرش پر صدا پہونچی، فرش پر فتح کے نعرے گونجنے لگے۔
پھر غزوۂ اُحد آیا،محبوبِ مصطفی زخمی ہوئے، ستر صحابہؓ شہید ہوئے۔
لیکن شکست کے بیچ بھی ایمان زندہ رہا۔ اسکے بعد بھی مختلف جھڑپیں ہوتی رہی ، پھر مدینہ کے افق پر سب سے بڑا طوفان آیا۔
غزوۂ خندق! مکہ، غطفان اور مختلف قبائل متحد ہوکر مدینہ پر چڑھ آئے۔
مسلمانوں نے مدینہ کے گرد خندق کھودی۔ بھوک خوف سردی کے باوجود نبی اکرم کا حوصلہ بلند رہا، اور پھر آپکے حوصلے اور نصرتِ خداوندی کے آگے دشمن شکست کھائے۔
پھر بنو قریظہ کا مرحلہ آیا۔ اور دوسرے سرایا و غزوات کا سلسلہ چلتا رہا۔ مسلمانوں کو روزہ زکوۃ کے احکام بھی ملنے لگے ، پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو بظاہر جنگ کا نام نہیں، مگر فتح کی بنیاد بن گیا:
صلحِ حدیبیہ۔
صحابہؓ کے لیے بعض شرائط بھاری تھیں، مگر رسول اللہ ﷺ کی نگاہ وہاں دیکھ رہی تھی جہاں عام نگاہ نہیں پہنچ سکتی تھی۔
قرآن نے فرمایا: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا﴾ "بے شک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطا فرمائی۔"
حدیبیہ کے بعد اسلام کی دعوت پہلے سے زیادہ تیزی سے پھیلی۔
پھر خیبر آیا۔
قلعے فتح ہوئے، اسلام کی قوت مزید مستحکم ہوئی۔ پھر مؤتہ کا معرکہ پیش آیا، اور پھر وہ وقت آیا جس کا انتظار مکہ بھی کر رہا تھا اور تاریخ بھی۔ قریش نے عہد توڑا۔
رسول اللہ ﷺ ایک عظیم لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔
وہی مکہ جس نے آپ پر ظلم کے پہاڑ توڑے، آپکو بے گھر کیا، آپکی بیٹی کا حمل ضائع کیا، صحابہؓ کو ستایا تھا۔
آج خاتم النبیین احمد مصطفی اس شہر کے فاتح تھے۔ کعبہ کے گرد بت کھڑے تھے۔ ایک ایک کرکے وہ بت گراتے گئے اور محبوب خدا یہ اعلان کرتے گیے
﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ﴾
"حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔"
پھر مکہ والوں کو سامنے جمع کیا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: "تمہیں کیا گمان ہے، میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟" انہوں نے عرض کیا:
"آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔"
اور پھر رحمت دو عالم نے تاریخی جملہ کہا: لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ» "آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔"
فتح مکہ تلوار کی فتح نہیں تھی۔
یہ کردار کی، عفو کی، رحمت کی فتح تھی۔ فتح مکہ کے بعد حنین کا معرکہ آیا، پھر طائف کا مرحلہ آیا۔ اسلام کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔
پھر تبوک کا سفر آیا؛ جزیرۂ عرب بدل چکا تھا۔
جو عرب کل قبائلی جنگوں میں بٹا ہوا تھا، آج کلمۂ توحید کے جھنڈے تلے جمع تھا۔
اور پھر وہ نازک وقت آیا جب محمد ﷺ نے اپنی امت سے آخری ملاقات کے لیے حج کا ارادہ فرمایا۔ حجۃ الوداع!
عرفات کا میدان۔انسانوں کا سمندر۔
اور درمیان میں اللہ کے خاتم النبیین ۔
آپ ﷺ نے فرمایا: " تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح محترم ہیں جیسے آج کا دن، اس شہر اور اس مہینے کی حرمت ہے۔"
جاہلیت کے خون کے دعوے ختم کیے۔
سود کے تمام معاملات ختم کیے۔
عورتوں کے حقوق کی تاکید فرمائی۔
اور پھر انسانی برابری کا وہ اصول عطا فرمایا جسے دنیا آج بھی سنہری حروف میں لکھتی ہے:
کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں؛ فضیلت کا معیار تقویٰ ہے۔پھر آپ ﷺ نے مجمع کی طرف دیکھا اور فرمایا: أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟
"خبردار! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟"
لاکھوں کے مجمع سے آواز بلند ہوئی:
"اے اللہ کے رسول! آپ نے پیغام پہنچا دیا۔"
آپ ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی:«اللَّهُمَّ اشْهَدْ»اے اللہ! گواہ رہ۔"
رسالت کی امانت ادا کردی گئی۔ قرآن
نے یوں اشارہ کیا {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾
"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا۔" سب صحابہ خوش ہے ، لیکن صدیقِ اکبر اس میں چھپے پیغام سے غمگین ہوگئے، حجۃ الوداع کے بعد مدینہ واپس تشریف لائے۔
دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آگیا،
مرض نے شدت اختیار کی۔لیکن امت کی فکر کم نہ ہوئی۔بار بار نماز کی تاکید کی، ابوبکر صدیقؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ پھر وہ منظر پیش آیا جس پر زمین آسمان روئے حجرۂ عائشہؓ میں، امت کا سب سے عظیم چراغ اپنے ظاہری سفر کے اختتام کے قریب تھا۔
پردہ اٹھا۔صحابہؓ صفوں میں کھڑے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا۔چہرۂ انور پر مسکراہٹ آئی۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے آپ ﷺ کا چہرہ قرآن کے ورق کی طرح روشن ہو۔
پھر پردہ گرا۔اور کچھ دیر بعد وہ خبر آئی جس نے مدینہ کو ہلا دیا:
محمد ﷺ اس دنیا سے پردہ فرماگئے۔
حضرت عمرؓ پر یہ صدمہ ایسا گزرا کہ وہ ماننے کو تیار نہ تھے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ تشریف لائے، رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ انور کو بوسہ دیا اور فرمایا:
"اے اللہ کے نبی! آپ اپنی زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی پاکیزہ ہیں۔"
پھر مسجد میں آئے اور فرمایا:
"جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، وہ جان لے کہ محمد ﷺ وفات پاگئے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے، اسے موت نہیں۔"
پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾
"محمد ﷺ تو صرف رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔" دنیا اس سانحے پر روتے رہ گئی۔مگر جو مقدر کو منظور وہی ہوتا ہے۔
لیکن کیا محمد مصطفی کے چلے جانے سے انکی شریعت بھی چلی گئی؟
نہیں!
آپ ﷺ قرآن، سنت، اذان کے کلمات، درود و سلام اور کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
چودہ سو برس گزر گئے، مگر آج بھی جب دنیا میں کسی بچے کے کان میں اذان دی جاتی ہے تو محمد ﷺ کا نام آتا ہے۔اور قیامت تک بھی یہ نام مٹنے والا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ محمد ﷺ کے آنے سے دنیا کیا بن گئی تھی ؟اور محمد ﷺ کے جانے کے بعد ہم نے ان کی چھوڑی ہوئی روشنی کو اپنی زندگی میں کتنا باقی رکھا؟
آج اگرچہ ہمارا دل اس تذکرے سے غمگین ہوگیا لیکن سوال کریے خود سے ہماری زندگیوں میں آپکی لائی شریعت پر کتنا عمل باقی ہے؟
اللہ تعالیٰ ہمیں آپکی سچی پکی محبت نصیب فرمائے۔
وما علینا إلا البلاغ۔