*قرآن کے آئینے میں محمد ﷺ* 
 *محبوبِ خدا کا قرآنی تعارف* 
 *بسم اللہ الرحمن الرحیم* 

 *السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ* 
 

دنیا میں جب کسی عظیم شخصیت کا تعارف کرایا جاتا ہے تو اس کے کارنامے گنوائے جاتے ہیں، اس کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں، اس کے چاہنے والوں کی گواہیاں پیش کی جاتی ہیں؛ لیکن اگر شخصیت وہ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی بنا کر بھیجا ہو، تو پھر اس کے تعارف کے لیے کسی انسان کے الفاظ کی کیا ضرورت! جس ذات کا تعارف خود ربِّ کائنات نے کرایا ہو، اس ذات کا مقام بیان کرنے کے لیے اس سے بڑھ کر معتبر آئینہ اور کیا ہوسکتا ہے؟

قرآن ہمارے سامنے سب سے پہلے اس نام کو لاتا ہے جسے آج دنیا کے کروڑوں لب محبت سے دہراتے ہیں:
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ
محمد اللہ کے رسول ہیں۔
یہ صرف نام اور منصب کا تعارف نہیں؛ یہ اس عظیم حقیقت کا اعلان ہے کہ محمد ﷺ زمین پر اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ پھر قرآن اسی تعارف کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ ﷺ کے مقام کی تکمیل کرتا ہے:
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ
محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔

یعنی نبوت کے اس عظیم قافلے کا آخری تاج محمد ﷺ کے سر پر رکھا گیا۔ آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک انبیائے کرام کا سلسلہ چلا، اور جب محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے تو قرآن نے اعلان کردیا:
وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ
اب نبوت کا یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
لیکن محمد ﷺ کا مقام صرف خاتم النبیین ہونے تک محدود نہیں۔ قرآن جب آپ ﷺ کی رسالت کا دائرہ بیان کرتا ہے تو اسے کسی ایک قوم، کسی ایک خطے یا کسی ایک زمانے تک محدود نہیں کرتا، بلکہ اعلان فرماتا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ
ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا۔
اور پھر اسی حقیقت کو ایک اور عظیم تعبیر میں بیان فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا۔
غور کیجیے، محمد ﷺ کی رسالت صرف انسانوں کے ایک گروہ کے لیے نہیں، کافۃً للناس ہے؛ اور آپ ﷺ کی بعثت صرف ایک ذمہ داری نہیں، رحمۃً للعالمین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب قرآن آپ ﷺ کا امت کے ساتھ تعلق بیان کرتا ہے تو الفاظ میں ایک ایسی محبت جھلکتی ہے جسے پڑھ کر دل ٹھہر جاتا ہے:
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول تشریف لائے؛ تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے حریص ہیں، اور اہلِ ایمان کے لیے نہایت شفیق، نہایت مہربان ہیں۔
یہ محمد ﷺ کا وہ تعارف ہے جس میں امت کی پوری کیفیت سمٹ گئی: عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ تمہاری تکلیف انہیں گراں گزرتی ہے؛ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ تمہاری بھلائی کی فکر انہیں رہتی ہے؛ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ اہلِ ایمان کے لیے سراپا شفقت و رحمت ہیں۔

اور جب قرآن اس عظیم رسول کے کردار کی بلندی بیان کرتا ہے تو ایک ایسا جملہ عطا کرتا ہے جو قیامت تک اخلاق کا معیار بن جاتا ہے:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
اور بے شک آپ عظیم اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں۔
یہ محمد ﷺ کے اخلاق کا قرآنی فیصلہ ہے۔ پھر اسی حسنِ کردار کی ایک جھلک قرآن اس وقت دکھاتا ہے جب آپ ﷺ کے ساتھیوں کا ذکر آتا ہے:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
یہ اللہ کی رحمت ہی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم ہوگئے۔
کتنی خوبصورت بات ہے کہ آپ ﷺ کی نرمی کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جوڑ رہا ہے؛ اور پھر قرآن محمد ﷺ کے منصب کو صرف ایک لفظ میں نہیں بلکہ کئی جہتوں سے ہمارے سامنے رکھتا ہے:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ۝ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا
اے نبی! ہم نے آپ کو 
شَاهِدًا گواہ؛
مُبَشِّرًا خوشخبری سنانے والا؛
نَذِيرًا خبردار کرنے والا؛
دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ اللہ کی طرف بلانے والا؛
اور پھر آخر میں: سِرَاجًا مُّنِيرًا روشن چراغ! بنا کر بھیجا ہے۔
جس طرح اندھیری رات میں چراغ راستہ دکھاتا ہے، اسی طرح محمد ﷺ کی بعثت نے انسانیت کے لیے ہدایت کا راستہ روشن کردیا۔
اور اس نور کی آمد کو قرآن اہلِ ایمان پر ایک عظیم احسان قرار دیتا ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ
یقیناً اللہ نے اہلِ ایمان پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو انہیں اللہ کی آیات سناتے ہیں، ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔
اور پھر قرآن اپنے محبوب ﷺ کی زندگی کے اُن ابتدائی مراحل کی طرف متوجہ کرتا ہے جنہیں دنیا کی نگاہ شاید صرف حالات سمجھے، مگر ربِّ کائنات نے انہیں اپنی نعمتوں کے طور پر بیان فرمایا:
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ ۝ وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ ۝ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ
کیا اس نے آپ کو یتیم نہ پایا، پھر پناہ دی؟ اور آپ کو راہ سے ناواقف پایا، پھر راہ دکھائی؟ اور آپ کو حاجت مند پایا، پھر غنی کردیا۔
اور جب اسی زندگی کے سفر کو آگے بڑھاتے ہیں تو قرآن کہتا ہے:
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ۝ وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ ۝ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ ۝ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
کیا ہم نے آپ کا سینہ کشادہ نہیں کردیا؟ اور آپ سے آپ کا وہ بوجھ اتار نہیں دیا جو آپ کی پشت کو بوجھل کیے ہوئے تھا؟ اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کردیا۔

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ!
اللہ نے صرف اپنے محبوب ﷺ کو رسول نہیں بنایا؛ ان کا ذکر بھی بلند کردیا۔
اذان میں محمد ﷺ کا نام، اقامت میں محمد ﷺ کا نام، تشہد میں محمد ﷺ کا نام، خطبوں میں محمد ﷺ کا نام، کروڑوں مسلمانوں کے لبوں پر محمد ﷺ کا نام۔
صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں بدل گئیں، زمانے بدل گئے؛ مگر جس ذکر کو اللہ نے بلند کردیا، اسے کون پست کرسکتا ہے؟
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔
اور پھر وہ رب جس نے اپنے محبوب ﷺ کو یہ بلند مقام عطا فرمایا، اسی نے آپ ﷺ کے لیے ایک ایسی عطا کا وعدہ فرمایا جس کے الفاظ ہی دل کو حیران کردیتے ہیں:
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ
اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔

پھر ایک اور مقام پر فرمایا:
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ
بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی۔

اور محمد ﷺ کی رفعت کا ایک ایسا منظر قرآن نے محفوظ کیا جس کے سامنے انسانی عقل حیرت میں رہ جاتی ہے۔ وہ سفر جس میں زمین کی حدود سمٹ گئیں، آسمانوں کے دروازے کھلے، اور محبوبِ خدا ﷺ کو عظیم نشانیاں دکھائی گئیں:
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ۝ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ۝ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ ۝ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ ۝ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ
پھر وہ قریب ہوئے اور مزید قریب ہوئے، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا؛ پھر اللہ نے اپنے بندے کی طرف جو وحی فرمانی تھی فرمائی؛ دل نے اس چیز کو جھٹلایا نہیں جو اس نے دیکھی، اور نگاہ نہ ٹیڑھی ہوئی نہ حد سے بڑھی۔

اور قرآن اس عظیم سفر کے منظر کو مزید آگے بڑھاتا ہے:
عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ ۝ عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ ۝ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ
سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، جس کے قریب جنت المأویٰ ہے، جب سدرہ کو وہ چیز ڈھانپ رہی تھی جو اسے ڈھانپ رہی تھی۔
یہ محمد ﷺ کا وہ مقام ہے جسے قرآن نے اپنے الفاظ میں محفوظ کردیا۔

اور جس ذات کو اللہ تعالیٰ نے اتنے اعزازات عطا کیے، اسی کے ادب کے لیے قرآن اہلِ ایمان کو متوجہ کرتا ہے:
لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ
اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔

پھر فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ
بے شک جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے پرکھ لیا ہے۔

اور محمد ﷺ کے مقام کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا:
النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ
نبی اہلِ ایمان کے لیے خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔
یہاں سے قرآن ہمیں محبت کے ایک اور مقام تک لے جاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی پیروی کو اپنی محبت کا راستہ قرار دیا:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔
اور پھر اس تعلق کو اور واضح فرمایا:
مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

اور پھر وہ عظیم اعلان:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔
مگر قرآن کا یہ تعارف ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔

اب وہ مقام آتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے ذکر کو اپنے ذکر کے ساتھ جوڑ دیا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔
پھر اہلِ ایمان کو حکم ہوا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔

تو جس ذات کا ذکر قرآن کرے، اُس محمد ﷺ کا تعارف کسی ایک جملے میں کیسے مکمل ہوسکتا ہے؟
وہ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ہیں۔
وہ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ ہیں۔
وہ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ہیں۔
وہ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ہیں۔
وہ عَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ہیں۔
وہ شَاهِدٌ وَمُبَشِّرٌ وَنَذِيرٌ ہیں۔
وہ دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ ہیں۔
وہ سِرَاجًا مُّنِيرًا ہیں۔
ان کی آمد اہلِ ایمان پر مَنٌّ مِنَ اللَّهِ ہے۔
ان کا ذکر رَفَعَهُ اللَّهُ ہے۔
ان کے لیے عطا حَتَّىٰ يَرْضَىٰ ہے۔
ان کا مقام أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ ہے۔
ان کی پیروی اللہ کی محبت کا راستہ ہے۔
اور ان پر درود بھیجنا اللہ کا حکم ہے۔
پھر قرآن کے ان تمام تعارفوں کو ایک ساتھ دل میں رکھ کر جب محمد ﷺ کا نام آتا ہے تو زبان خود کہتی ہے:

اللّٰهم صلِّ وسلِّم وبارك على سيدنا محمد ﷺ۔
وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین۔