بسم اللہ الرحمن الرحیم
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*شمائلِ مصطفیٰ ﷺ*
*جمالِ نبوت کا آئینہ، کمالِ انسانیت کا نمونہ**
دنیا میں حسن کے کتنے ہی پیکر آئے، کتنے چہرے اپنی تابانی سے نگاہوں کو خیرہ کرتے رہے، کتنے ماہ رُخ لوگوں کے دلوں میں اترے، کتنے حسین چہرے زمانے کی نگاہوں کا مرکز بنے؛ مگر تاریخِ انسانیت میں ایک ایسا چہرہ بھی گزرا ہے جسے دیکھنے والی آنکھیں صرف کہہ سکے کہ
وہ چہرہ...
جس کے نقوش میں جمال تھا،
جس کی پیشانی میں نور تھا،
جس کی آنکھوں میں کشش تھی،
جس کی مسکراہٹ میں بہار تھی،
جس کی گفتگو میں شیرینی تھی،
اور جس سراپا کو دیکھنے والے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی یاد سمجھتے تھے۔
وہ چہرہ تھا...
محمدِ مصطفیٰ ﷺ کا چہرۂ انور!
یہ شمائلِ مصطفیٰ ﷺ ہیں!
وہ شمائل جنہیں امام ترمذیؒ نے محبت اور عقیدت کے ساتھ اپنی شہرۂ آفاق کتاب الشمائل المحمدیۃ میں محفوظ کردیا، تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ میرے محبوب ﷺ کا سراپا کیسا تھا۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا:
"کیا رسول اللہ ﷺ کا چہرہ تلوار کی مانند تھا؟"
فرمایا:
"نہیں، بلکہ چودھویں رات کے چاند کی مانند تھا۔"
یعنی میرے آقا ﷺ کا چہرہ جمال بھی، جلال بھی؛ نور بھی، وقار بھی!
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو چاندنی رات میں دیکھا۔ میں کبھی چاند کو دیکھتا اور کبھی رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ انور کو...
پھر فرمایا:
"مجھے رسول اللہ ﷺ چاند سے زیادہ حسین معلوم ہوئے۔"
سبحان اللہ!
وہ چاند جس کی روشنی سے راتیں حسین ہوتی ہیں،
وہ چاند جسے دیکھ کر شاعر شعر کہتا ہے،
وہ چاند جس کی مثال حسن کے لیے دی جاتی ہے
محمد ﷺ کا چہرہ اُس چاند سے بھی زیادہ حسین تھا!
اسی کیفیت کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنے نعتیہ کلام میں یوں بیان کیا:
وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
وَأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِي
یعنی:
آپ ﷺ سے زیادہ حسین کسی کو عورتوں نے جنا ہی نہیں،
اور آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کسی کو میری آنکھ نے دیکھا ہی نہیں۔
حضرت ہند بن ابی ہالہؓ نے رسول اللہ ﷺ کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ کا چہرہ نہایت روشن تھا، پیشانی کشادہ تھی، ابرو باریک اور خوبصورت، آنکھیں سیاہ اور بڑی تھیں، پلکیں لمبی تھیں، ناک بلند اور خوبصورت تھی، چہرے پر ایسی نورانیت تھی کہ دیکھنے والا پہلی نظر میں آپ ﷺ کے رعب سے متاثر ہوجاتا، اور محبت سے دیکھنے والا محبت میں ڈوب جاتا۔
آپ ﷺ کی آنکھیں...
آپ ﷺ کی پلکیں لمبی تھیں؛
آنکھیں سرمگیں معلوم ہوتیں؛
اور چہرۂ انور پر ایسی تابانی تھی کہ صحابہؓ اسے بار بار دیکھنے سے سیر نہ ہوتے۔
آپ ﷺ کی پیشانی کشادہ تھی؛
رخسار نہایت متناسب؛
منہ مبارک کشادہ؛
دانت موتیوں کی طرح روشن؛
اور جب آپ ﷺ مسکراتے تو سامنے کے دندانِ مبارک کی سفیدی چمک اٹھتی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کوئی ریشم نہیں چھوا، اور نہ آپ ﷺ کے جسمِ مبارک سے زیادہ خوشبودار کوئی مشک یا عنبر محسوس کیا۔
اور آپ ﷺ کے بال...
نہ بالکل گھنگریالے، نہ بالکل سیدھے؛ بلکہ دونوں کے درمیان، خوبصورت، سیاہ، اور کبھی کانوں کی لو تک، کبھی اس سے کچھ نیچے، اور بعض مواقع پر شانوں تک پہنچتے۔
وہ بال جنہیں صحابہؓ نے صرف بال نہیں سمجھا؛
وہ تبرک تھے، محبت تھے، یادگار تھے۔
آپ ﷺ کے بالوں میں کنگھی ہوتی، خوشبو لگائی جاتی، اور صحابہؓ آپ ﷺ کے ہر حال کو محبت سے محفوظ کرتے۔
پھر آپ ﷺ کا قدِ مبارک...
نہ ایسا بلند کہ دیکھنے والا سر اٹھائے بغیر نہ دیکھ سکے، نہ ایسا پست کہ مجمع میں نمایاں نہ ہوں۔
حضرت براءؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ درمیانہ قد تھے، آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ مناسب تھا، اور آپ ﷺ کے بال کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
اور جب آپ ﷺ چلتے...
تو ایسا معلوم ہوتا جیسے کسی بلندی سے نیچے کی طرف اتر رہے ہوں۔
نہ اکڑ کر چلنا، نہ قدم گھسیٹنا، نہ بے مقصد تیزی؛
بلکہ ایک ایسا وقار جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول شمائل میں آتا ہے کہ جب آپ ﷺ کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو صرف چہرہ نہیں، پورا وجود اس کی طرف متوجہ فرماتے۔
آپ ﷺ کی خوشبو!
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خوشبو مشک و عنبر سے بھی زیادہ پاکیزہ تھی۔
حضرت جابر بن سمرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک کو اپنے ہاتھ میں لیا تو وہ مشک سے زیادہ خوشبودار محسوس ہوا۔
اور جب آپ ﷺ چلتے ہوئے کسی راستے سے گزرتے، تو آپ ﷺ کے گزرنے کے بعد وہاں سے آنے والی خوشبو بتاتی کہ یہاں سے ابھی ابھی محمد ﷺ گزرے ہیں!
کیا کہنے اُس مدینے کے راستوں کے!
جن راستوں پر کبھی قدمِ مصطفیٰ ﷺ پڑے ہوں...
حضرت کعب بن مالکؓ کے بارے میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ خوش ہوتے تو آپ ﷺ کا چہرہ مبارک اس طرح چمک اٹھتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو۔
یہی وجہ تھی کہ صحابہؓ آپ ﷺ کے چہرے سے آپ ﷺ کی کیفیت پہچان لیتے تھے۔
چہرہ بتا دیتا کہ آج میرے آقا ﷺ خوش ہیں...
اور کبھی غم آتا تو وہی چہرہ امت کی فکر میں متفکر ہوجاتا۔
وہ چہرہ جسے دیکھ کر جابرؓ چاند بھول گئے...
وہ چہرہ جسے دیکھ کر براءؓ نے چودھویں رات کے چاند کی مثال دی...
وہ چہرہ جس کے حسن کو حسان بن ثابتؓ نے اپنے اشعار میں محفوظ کردیا...
وہ چہرہ جس کے بارے میں حضرت انسؓ کہتے ہیں:
"میں نے آپ ﷺ سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا۔"
اور جب اتنا سب سن لینے کے بعد بھی دل کہے کہ شاید الفاظ کم پڑ گئے...
تو واقعی الفاظ کم پڑ گئے!
یہ وہ جمال ہے جس پر ایمان والوں کی نگاہیں جھک جاتی ہیں،
یہ وہ نور ہے جس کا ذکر دل کو روشن کردیتا ہے،
یہ وہ سراپا ہے جس کی تصویر لفظوں میں بنائی جائے تو لفظ خود شرما جائیں!
اور آج ہم...
وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کو دیکھا نہیں؛
لیکن محمد ﷺ کا نام سنتے ہی دل میں ایک کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔
ہم نے وہ چہرہ نہیں دیکھا...
مگر اس چہرے کا ذکر ہماری آنکھوں کو نم کردیتا ہے۔
یہی تو شمائلِ مصطفیٰ ﷺ کا کمال ہے...
*جمال ایسا کہ آنکھوں نے دیکھا تو دل ہار گئے،*
*اور محبت ایسی کہ جنہوں نے دیکھا بھی نہیں، وہ بھی دل ہار گئے!*
اے اللہ!
ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سچی محبت عطا فرما، ان کے شمائل سے دلوں کو منور فرما، اور قیامت کے دن ان کے دیدار اور قرب سے محروم نہ فرما۔
اللّٰہم صل وسلم وبارک علیٰ سیدنا محمدٍ ﷺ وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔
وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین۔