*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*دسترخوانِ مصطفیٰ ﷺ*
*غذائے نبوی ﷺ پسند و ناپسند، قناعت و کفایت اور آدابِ طعام*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے باریک روٹی نہیں بنائی جاتی تھی اور نہ آپ ﷺ نے میز پر کھانا تناول فرمایا۔
لیکن اس سادگی کے باوجود آپ ﷺ کی خوراک بے رنگ نہیں تھی۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو حلواء اور شہد پسند تھا۔
گوشت بھی تناول فرمایا، اور گوشت کے دست والے حصے کو پسند فرماتے تھے۔ ثرید بھی آپ ﷺ کے دسترخوان پر آتا تھا؛ روٹی کو شوربے میں ملا کر گوشت کے ساتھ تیار کیا جانے والا یہ کھانا عربوں میں معروف تھا، اور نبی کریم ﷺ نے ثرید کی فضیلت بھی بیان فرمائی۔
پھر ایک دن حضرت انسؓ کی نظر پڑتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سالن میں سے کدو کے ٹکڑے تلاش کرکے تناول فرما رہے ہیں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اس دن کے بعد مجھے بھی کدو پسند ہوگیا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھیرا ککڑی کو نرم تازہ کھجور کے ساتھ تناول فرماتے تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ کے خربوزے اور نرم تازہ کھجوروں کے ساتھ کھانے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ یہ سب چیزیں اس لیے اہم ہیں کہ ہمیں نبوی دسترخوان کا اصل رنگ دکھائی دیتا ہے: جو حلال اور میسر ہے، اسے تناول فرمایا جارہا ہے، کبھی دو چیزوں کو ملا کر ذائقہ متوازن کیا جارہا ہے، کبھی ایک سادہ غذا کافی ہے۔
سرکہ بھی سامنے آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے تناول فرمایا اور فرمایا:
نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ
"سرکہ بہترین سالن ہے۔"
اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ کھانا سامنے آیا مگر طبیعت نے قبول نہیں کیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ضب دیکھا۔ آپ ﷺ نے اسے تناول نہیں فرمایا۔ جب پوچھا گیا کہ کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا: نہیں، لیکن یہ میری قوم کی غذا نہیں، اس لیے میری طبیعت اسے پسند نہیں کرتی۔
یہ فرق کتنا واضح ہے: ناپسند ہونا الگ چیز ہے اور حرام سمجھ لینا الگ۔
اسی لیے حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا؛ پسند آیا تو کھالیا، پسند نہ آیا تو چھوڑ دیا۔
اور ایک مرتبہ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر کھانا پیش ہوا، اس میں ایسی سبزی تھی جسے آپ ﷺ نے تناول نہیں فرمایا۔ صحابہؓ نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ اس کی بو کی وجہ سے آپ ﷺ نے اسے چھوڑا، کیونکہ آپ ﷺ فرشتے سے ملاقات فرماتے تھے اور دوسروں کو اس بو سے اذیت پہنچانا پسند نہ تھا۔
پھر نبوی دسترخوان کا وہ منظر آتا ہے جہاں حضرت عکراہشؓ حضرت ام سلمہؓ کے گھر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے۔ سامنے ثرید کا بڑا پیالہ تھا جس میں گوشت کے ٹکڑے تھے۔ عکراہشؓ کا ہاتھ کبھی ادھر جاتا، کبھی ادھر۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
"اے عکراہش! ایک ہی جگہ سے کھاؤ، کھانا ایک ہی ہے۔"
پھر کھجوروں کی ایک پلیٹ آئی۔ اس مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جہاں سے چاہو کھاؤ، کیونکہ کھجوریں مختلف قسم کی ہیں۔
اور یہ سلیقہ صرف بڑوں کے لیے نہیں تھا۔ حضرت عمر بن ابی سلمہؓ ابھی بچے تھے۔ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے اور ان کا ہاتھ پیالے میں ادھر ادھر چل رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے شفقت سے فرمایا:
"يَا غُلَامُ، سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ"
اے بچے! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔
یہاں سے نبوی دسترخوان کا ادب شروع ہوتا ہے؛ کھانا صرف یہ نہیں کہ پلیٹ سامنے آئی اور ہاتھ بڑھ گیا، بلکہ بسم اللہ، دایاں ہاتھ، اپنے سامنے سے کھانا یہ سب اس دسترخوان کا حصہ ہیں۔
اور جب کوئی لقمہ گر جائے تو اسے یوں ہی ضائع کردینا بھی آپ ﷺ کے طریقے میں نہیں۔ صحیح احادیث میں لقمہ اٹھا کر اس سے لگی ہوئی گندگی دور کرکے اسے کھانے کی ترغیب آئی ہے، کیونکہ معلوم نہیں برکت کھانے کے کس حصے میں رکھی گئی ہے۔
پھر انگلیاں چاٹنے کا ذکر آتا ہے، برتن صاف کرنے کا ذکر آتا ہے؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔
یہاں تک کہ دسترخوان سے بچا ہوا معمولی سا حصہ بھی بے قدر نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھیں، اور اگر زیادہ کھانا ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے۔
اسی کے ساتھ آپ ﷺ نے کھانے میں اجتماع اور برکت کی کیفیت بھی بتائی۔ دو کا کھانا تین کے لیے کافی ہوسکتا ہے، تین کا چار کے لیے۔ اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کھانا جمع ہوکر کھاؤ اور اللہ کا نام لو، تمہارے لیے اس میں برکت دی جائے گی۔
گھر نبوت میں کبھی حلواء اور شہد ہے، کبھی گوشت اور ثرید، کبھی دودھ اور کھجور؛ مگر یہی گھر ایسا بھی ہے جہاں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کئی کئی مہینے گزر جاتے اور گھروں میں چولہا نہ جلتا۔ ان سے پوچھا گیا: پھر آپ لوگ کیا کھاتے تھے؟ فرمایا: کھجور اور پانی۔
یہ وہ زندگی ہے جس میں پسندیدہ کھانا آئے تو تناول فرما لیا جاتا ہے، لیکن نہ آئے تو زندگی رک نہیں جاتی۔
کھانے کی کثرت نہ ہو تو شکوہ نہیں، سادہ غذا ہو تو اس کی حقارت نہیں، پسند کی چیز نہ ہو تو عیب نہیں، اور حلال نعمت میسر ہو تو اس پر تکلف کی شرط نہیں۔
عزیز سامعات! یہ کھانے کا تذکرہ رہا تھا اب مشروبات کو دیکھتے ہیں!
دودھ آپ ﷺ نے نوش فرمایا، اور یہ آپ کو پسند بھی تھا ،اسکے علاوہ مختلف جائز مشروبات آپ نے نوش فرمائے۔ ان چیزوں کو پینے کے بھی آداب سکھائے۔ فرمایا کہ برتن میں سانس نہ لیا جائے۔
اور ایک روایت میں دو یا تین مرتبہ سانس لے کر پینے اور ابتدا میں اللہ کا نام اور اختتام پر اللہ کی حمد کا ذکر ہے؛
پانی پلانے والے کے لیے بھی آپ ﷺ نے ایک اصول بتایا:
سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا
قوم کو پانی پلانے والا سب کے بعد پئے۔
میٹھے شربتوں کے علاوہ سَویق، یعنی بھنے ہوئے غلے کو پیس کر بنایا جانے والا ستو، جسے پانی میں ملا کر بھی پیا جاتا تھا، یہ بھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا ، بلکہ فاقوں کے ایام میں اسی کام چلا لیا کرتے تھے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے مشکیزے میں نبیذ بنایا جاتا، آپ ﷺ اسے اسی دن، اگلے دن اور اس کے بعد بھی پیتے، پھر اگر اس میں کچھ باقی رہتا تو اسے پھینک دیا جاتا۔
نبیذ سے مراد عموماً کھجور یا کشمش وغیرہ کو پانی میں بھگو کر تیار کیا جانے والا مشروب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے لیے کھجور بھگو کر نبیذ تیار کی جاتی تھی۔ آپ اسے نوش فرماتے۔
اور مشروبات کے معاملے میں صرف ذائقہ نہیں، پاکیزگی اور حلال و حرام کی حدود بھی سامنے رہتی ہیں۔ نشہ آور چیزوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے صاف فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
لہذا وہ نبیذ جس میں نشہ پیدا ہوجایے اسکا پینا حرام ہے۔
پھر برتنوں تک کے آداب نبی نے بیان کیے۔ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع کردیا۔
اور جب یہ دسترخوان ہمارے سامنے مکمل ہوتا ہے تو اس میں حلواء و عسل یعنی شہد کی شیرینی ہے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عموما کھانے کے بعد میٹھا کھانے کو پسند فرماتے ، میسر ہوتا کچھ میٹھا بنادیا جاتا ورنہ کھجور پر اکتفاء کرلیا جاتا۔
عزیز سامعات! ایک طرف کدو کی رغبت ہے، گوشت اور ثرید ہے، کھجور اور رُطب ہیں، قثّاء اور بطیخ ہیں، دودھ ہے، سرکہ ہے؛ دوسری طرف وہی محمد ﷺ ہیں جن کے گھر میں کبھی چولہا نہیں جلتا، کھجور اور پانی پر دن گزر جاتے ہیں، اور پھر بھی دسترخوان پر شکایت کا لفظ نہیں آتا۔
آج ہمارے لیے سونچنے کا مقام ہے ہم آج کھانے پینے میں کتنا مصروف ہوگیے ، ہمارے دسترخوان پر سادگی تو ذری برابر باقی نہیں رہی ۔آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم خواتین ہی گھر کا پکوان سنبھالتی ہے لہذا ہمیں اپنے گھروں میں یہ سادگی لانی ہوگی۔
اللّٰہ تعالی ہماری گفتگو کو قبول کرے ۔
آمین یارب العالمین