نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ۔
اما بعد!
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*نماز سے غفلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک سنگین تنبیہ*
۔ ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے، ہر نماز ہمیں اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا موقع دیتی ہے، لیکن اس کے باوجود کتنے لوگ ایسے ہیں جو نماز کو چھوڑ دیتے ہیں، وقت پر نہیں پڑھتے، کبھی پڑھتے ہیں کبھی چھوڑ دیتے ہیں، یا نماز کو اپنی زندگی میں وہ مقام نہیں دیتے جو اسے دینا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہنم والوں کا ایک انتہائی خوفناک منظر بیان فرمایا۔ جب ان سے پوچھا جائے گا: مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ یعنی "تمہیں دوزخ میں کس چیز نے پہنچایا؟" تو وہ جواب دیں گے: لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ، "ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔" ذرا غور کیجیے! جہنم میں پہنچنے والوں کے اعترافات میں سب سے پہلے نماز کا ذکر کیا گیا۔ یہ ہمیں بتانے کے لیے کافی ہے کہ نماز کو چھوڑ دینا معمولی غفلت نہیں، بلکہ آخرت کے اعتبار سے انتہائی خطرناک معاملہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا۔ یعنی "پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ آئے جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے پڑ گئے، سو عنقریب وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔" یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے نماز کو ضائع کرنے کے ساتھ خواہشات کی پیروی کا ذکر فرمایا۔ جب انسان نماز سے دور ہوتا ہے تو اللہ کی یاد کمزور ہونے لگتی ہے، اور جب اللہ کی یاد کمزور ہوتی ہے تو خواہشات کا غلبہ بڑھنے لگتا ہے۔ اسی لیے نماز صرف ایک فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ انسان کے ایمان، کردار اور زندگی کی حفاظت کا ذریعہ بھی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے بھی سخت تنبیہ فرمائی جو نماز پڑھتے ہوئے بھی نماز کے معاملے میں غفلت برتتے ہیں: فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ۔ "پس ایسے نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔" اس آیت پر ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔ اگر نماز پڑھنے والا بھی نماز کے معاملے میں غفلت کی وجہ سے وعید کا مستحق ہو سکتا ہے تو اس شخص کا معاملہ کتنا سنگین ہوگا جو نماز ہی چھوڑ دیتا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے منافقین کی ایک صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ، "اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔"
یقیناً تھکن یا کبھی کبھار کی کمزوری کو نفاق نہیں کہا جا سکتا، لیکن نماز کے معاملے میں مسلسل سستی اور بے پروائی ایسی چیز ہے جس سے مومن کو ڈرنا چاہیے۔ اگر فجر کی نماز کے لیے اٹھنا مشکل ہو، نماز کے وقت کام چھوڑنا مشکل ہو، چند منٹ نماز کے لیے نکالنا مشکل ہو، لیکن دنیا کے کاموں، موبائل، گفتگو اور دوسری مصروفیات کے لیے گھنٹوں نکالنے میں کوئی دشواری نہ ہو تو ہمیں اپنے دل کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے نماز چھوڑنے کے بارے میں بھی نہایت سخت الفاظ فرمائے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ، یعنی "آدمی اور شرک و کفر کے درمیان نماز چھوڑ دینا ہے" ۔ (صحیح مسلم)
یہاں ایک ضروری بات سمجھنا بھی بہت اہم ہے کہ کسی مسلمان پر فوراً کفر کا حکم لگانا درست نہیں۔ تارکِ نماز کے شرعی حکم میں اہلِ علم کے درمیان معروف اختلاف ہے۔ بعض اہلِ علم نے نماز چھوڑنے کو کفر قرار دیا، جبکہ احناف اور جمہور فقہاء کے نزدیک جو شخص نماز کی فرضیت کا انکار نہ کرے بلکہ سستی کی وجہ سے نماز چھوڑے، اسے کافر نہیں کہا جائے گا، البتہ وہ سخت گناہ گار ہے اور انتہائی خطرناک وعید کا مستحق ہے۔ لہٰذا اس حدیث کا مقصد مسلمانوں کو ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے کی ترغیب دینا نہیں، بلکہ نماز چھوڑنے کی سنگینی سمجھانا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے نماز کی اہمیت اس انداز سے بھی بیان فرمائی کہ قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا۔ اگر نماز درست ہوئی تو دوسرے اعمال کے بارے میں بھی خیر کی امید ہے، اور اگر نماز ہی خراب ہوئی تو معاملہ انتہائی خطرناک ہے۔ اس لیے عقل مند وہ نہیں جو دنیا کے ہر کام کا حساب رکھے اور نماز کا حساب نہ رکھے؛ عقل مند وہ ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے اپنے آخرت کے حساب کی تیاری کرے۔
خاص طور پر ہمیں نماز کے اوقات کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا، "بے شک نماز ایمان والوں پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔"
شریعت نے بھول جانے یا نیند کی وجہ سے نماز رہ جانے کا حکم الگ رکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص سے نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے اسے نماز پڑھ لینی چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر ارادی طور پر نماز رہ جانا اور جان بوجھ کر نماز چھوڑ دینا ایک جیسا نہیں۔ اصل خطرہ اس وقت ہے جب انسان جانتے بوجھتے نماز چھوڑنے کو اپنی عادت بنا لے اور پھر اسے اس پر کوئی افسوس بھی نہ ہو۔
اسی طرح نماز کو جلدی جلدی ادا کرنا، رکوع و سجود میں اطمینان نہ کرنا بھی خطرناک ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جس نے نماز میں اطمینان سے ارکان ادا نہیں کیے تو آپ ﷺ نے اسے نماز درست طریقے سے ادا کرنے کی تعلیم دی۔
عزیز طالبات! کبھی ہم اپنے آپ سے یہ سوال نہیں کرتے کہ آخر نماز میں اتنی سستی کیوں ہے؟ ہم اپنے موبائل کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، اپنی پسند کی چیزوں کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، دوستوں سے بات کرنے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، لیکن جب اذان ہوتی ہے تو اچانک وقت کم پڑ جاتا ہے۔ آخر ایسا کیوں؟ جس اللہ نے ہمیں زندگی دی، صحت دی، آنکھیں دیں، کان دیے، گھر دیا، رزق دیا، والدین اور رشتے دیے، کیا اسی اللہ کے سامنے دن میں پانچ مرتبہ چند منٹ کھڑا ہونا ہمارے لیے بہت زیادہ ہے؟
یاد رکھیے! دنیا کی ہر مصروفیت ایک نہ ایک دن ختم ہوجائے گی۔ جو کام آج بہت ضروری لگ رہا ہے، کل شاید اس کا کوئی وجود نہ ہو۔ جس موبائل کو ہم ہر وقت ہاتھ میں رکھتے ہیں، ایک دن وہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔ جن لوگوں کے ساتھ ہم آج بیٹھتے ہیں، ایک دن ہم ان سے جدا ہو جائیں گے۔ لیکن اللہ کے سامنے ادا کی گئی نماز ہمارے ساتھ رہے گی۔ اس لیے نماز کو بوجھ نہ سمجھیں، اسے اپنے رب سے ملاقات سمجھیں۔
اور اگر کسی کی نمازیں چھوٹ گئی ہیں، اگر کسی سے بہت عرصے تک سستی ہوئی ہے، اگر کسی نے نماز کو نظر انداز کیا ہے تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ مایوس نہ ہو۔ ابھی زندگی باقی ہے، ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، ابھی سجدے کی جگہ موجود ہے۔ آج سے نماز کی پابندی شروع کی جا سکتی ہے۔ آج ہی اللہ کے سامنے جھک کر معافی مانگی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن رحمت کی امید ہمیں عمل سے غافل کرنے کے لیے نہیں بلکہ توبہ اور اصلاح کی طرف لے جانے کے لیے ہے۔
آئیے آج ہم اپنے دل میں یہ عہد کریں کہ اذان سن کر نماز کی طرف متوجہ ہوں گے، نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنے کی کوشش کریں گے، فجر کے لیے اپنی نیند کا انتظام کریں گے، اور اگر کبھی کمزوری ہوجائے تو اسے معمول نہیں بنائیں گے بلکہ فوراً اپنی اصلاح کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کی حقیقت سمجھنے، اس کی پابندی کرنے والا بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔