*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*لوگ کیا کہیں گے؟ اور اللہ کیا فرمائے گا؟*
انسان کی زندگی میں دو سوال بہت گہرا اثر رکھتے ہیں۔ ایک یہ کہ لوگ کیا کہیں گے؟ اور دوسرا یہ کہ اللہ کیا فرمائے گا؟ بظاہر یہ دونوں سوال معمولی لگتے ہیں، لیکن اگر ہم غور کریں تو ہماری زندگی کے بہت سے فیصلے انہی دو سوالوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ ہم لباس پہننے لگتے ہیں تو سوچتے ہیں لوگ کیا کہیں گے، کسی بات سے انکار کرنا ہو تو سوچتے ہیں لوگ ناراض ہوجائیں گے، کوئی نیکی کا کام کرنا ہو تو خیال آتا ہے لوگ مذاق اڑائیں گے، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک کام اللہ کو پسند نہیں، لیکن صرف لوگوں کے خوف سے ہم اسے چھوڑ نہیں پاتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ میری زندگی کا اصل معیار لوگوں کی پسند ہے یا اللہ کی رضا؟
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ، "خبردار! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔" اللہ کے قریب ہونے والے لوگ وہ ہیں جن کی زندگی کا اصل مقصد اللہ کی رضا ہوتی ہے۔
ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم لوگوں کی نظروں میں اپنی تصویر درست رکھنے کی فکر بہت زیادہ کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں نیک سمجھیں، سمجھدار سمجھیں، خوبصورت سمجھیں، کامیاب سمجھیں، خوشحال سمجھیں۔ لیکن کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اللہ کے ہاں ہماری حقیقت کیا ہے؟ انسان ہمارے ظاہر کو دیکھتا ہے، اللہ ہمارے ظاہر اور باطن دونوں کو جانتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔" یعنی کسی عمل کی حقیقت صرف یہ نہیں کہ لوگ اسے کیسے دیکھ رہے ہیں، بلکہ اللہ کے نزدیک ہماری نیت کیا ہے، یہ اصل اہمیت رکھتا ہے۔
آج ہم سوشل میڈیا کے زمانے میں رہتے ہیں، جہاں انسان اپنی زندگی کا ایک مخصوص حصہ دوسروں کو دکھاتا ہے۔ اچھی تصویر، اچھی جگہ، اچھا لباس، کامیابی، خوشی ہر چیز لوگوں تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ اس ماحول میں یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ انسان اپنی زندگی اللہ کے لیے جینے کے بجائے لوگوں کو دکھانے کے لیے جینے لگے۔
لیکن ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیں: جن لوگوں کی رائے کے لیے ہم اللہ کی نافرمانی کر رہے ہیں، کیا وہ قیامت کے دن ہماری مدد کرسکیں گے؟ اگر ہم نے اللہ کے حکم کو چھوڑ کر لوگوں کو خوش کیا تو جب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو کیا ہم یہ کہہ سکیں گے کہ یا اللہ! لوگ مجھ سے ناراض ہوجاتے اس لیے میں نے آپ کا حکم چھوڑ دیا تھا؟
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ، "پس ان سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔" اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی کرکے لوگوں کو خوش کرنا ایمان والے کا طریقہ نہیں۔
ہمیں اپنی زندگی میں اس فرق کو سمجھنا ہوگا کہ لوگوں کا خیال رکھنا اور لوگوں کے دباؤ میں آکر اللہ کی نافرمانی کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ والدین کی خوشی کا خیال رکھنا، استاد کا احترام کرنا، دوسروں کے جذبات کا لحاظ کرنا، لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا یہ سب اچھی باتیں ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص ہمیں گناہ کی طرف لے جائے اور ہم صرف یہ سوچ کر گناہ کرلیں کہ "وہ کیا کہیں گے؟" تو یہاں ہمیں رکنا ہوگا۔
کبھی کوئی طالبہ نماز کی پابندی کرنا چاہتی ہے لیکن دوستوں کے مذاق سے ڈرتی ہے۔ کبھی کوئی لڑکی پردہ کرنا چاہتی ہے لیکن اسے خوف ہوتا ہے کہ لوگ اسے پرانے خیالات والی کہیں گے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنے دل سے کہنا چاہیے: *لوگ جو چاہیں کہیں، میرا رب کیا چاہتا ہے؟*
یاد رکھیے، لوگوں کی زبانیں کبھی خاموش نہیں ہوتیں۔ آپ کچھ کریں گے تو بھی لوگ بات کریں گے، نہیں کریں گے تو بھی بات کریں گے۔ آپ نیکی کریں گے تو کوئی کہے گا دکھاوا ہے، آپ خاموش رہیں گے تو کوئی کہے گا مغرور ہے، آپ سادگی اختیار کریں گے تو کوئی کہے گا زمانے سے پیچھے ہے، آپ اپنی بات پر قائم رہیں گے تو کوئی کہے گا ضدی ہے۔ اگر انسان ہر بات میں لوگوں کی رائے کے پیچھے چلتا رہے تو وہ کبھی اپنے رب کی رضا کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتا۔
*اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کی رضا بدلتی رہتی ہے، اللہ کی رضا کا معیار نہیں بدلتا* ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ، "بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔" دنیا کی نظر میں عزت مال، لباس، شہرت، عہدے اور فالوورز سے ہوسکتی ہے، لیکن اللہ کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ ہے۔
اسی طرح ہمیں ریاکاری سے بھی بچنا چاہیے۔ اپنی نیت کی اصلاح کرنی چاہیے۔ اگر نیکی اللہ کے لیے ہے تو لوگوں کی تعریف یا تنقید کو اپنی نیت پر غالب نہ آنے دیں۔
عزیز طالبات! ذرا تصور کریں کہ ایک دن ہم اس دنیا سے چلے جائیں گے۔ جن لوگوں کی رائے کا ہمیں آج اتنا خیال ہے، وہ اپنی زندگیوں میں مصروف ہوجائیں گے۔ کچھ عرصے بعد ہماری بہت سی باتیں لوگوں کو یاد بھی نہیں رہیں گی۔ لیکن اللہ کے سامنے ہمارے اعمال موجود ہوں گے۔ وہاں یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ لوگوں نے تمہیں کتنا پسند کیا، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ تم نے اللہ کو کتنا راضی کیا۔
اس لیے زندگی کا ایک اصول بنا لیجیے: لوگوں کی جائز خوشی حاصل کرنا اچھی بات ہے، لیکن اللہ کی ناراضی کے بدلے نہیں۔ لوگوں کی عزت کرنا ضروری ہے، لیکن اللہ کے حکم کو چھوڑ کر نہیں۔ لوگوں کی بات سننا اچھی بات ہے، لیکن ہر بات کو اپنے دین کا معیار بنا لینا درست نہیں۔
جب کبھی دل میں یہ سوال آئے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟" تو اس کے ساتھ دوسرا سوال ضرور کیجیے: "اور اللہ کیا فرمائے گا؟"
اگر کبھی ایسا موقع آئے کہ ایک طرف اللہ کا حکم ہو اور دوسری طرف لوگوں کی ناراضی، تو مؤمن کا راستہ واضح ہے۔ وہ ادب کے ساتھ، حکمت کے ساتھ، لیکن مضبوطی کے ساتھ اللہ کے حکم کو ترجیح دے گا۔
کیونکہ آخرکار ہمیں لوگوں کے سامنے نہیں، اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا کو سب سے مقدم رکھنے، حق کو پہچاننے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔