*کچھ درد درد نہیں ہوتے عذاب ہوتے ہیں۔*
کچھ تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انسان بظاہر وہی رہتا ہے مگر اندر کہیں بہت کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ چہرے پر خاموشی ہوتی ہے، لبوں پر معمول کی گفتگو ہوتی ہے، قدم اپنے راستے پر چل رہے ہوتے ہیں مگر روح جیسے کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ یہ وہ درد ہوتا ہے جو جسم کو نہیں کاٹتا بلکہ انسان کے وجود سے آہستہ آہستہ زندگی کی وہ کیفیت چھین لیتا ہے جس کا نام شاید سکون تھا،کبھی کبھی کوئی وجود ہماری زندگی سے صرف گزرتا نہیں بلکہ اپنے ساتھ ہمارے اندر کی کوئی بہت قیمتی چیز بھی لے جاتا ہے۔ پھر انسان بہت کچھ اپنے پاس رکھتے ہوئے بھی خود کو خالی محسوس کرتا ہے۔ وہی جگہیں ہوتی ہیں، وہی راستے ہوتے ہیں، وہی لوگ ہوتے ہیں، وہی دن رات ہوتے ہیں مگر دل کے اندر ایک ایسی خاموش کمی پیدا ہو جاتی ہے جس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس کمی کو نہ کوئی دیکھ سکتا ہے نہ اس کا علاج پوچھ سکتا ہے۔
سب سے زیادہ تھکا دینے والا درد وہ ہوتا ہے جس کے لیے انسان رو بھی نہ سکے۔ آنکھیں خشک رہیں مگر دل مسلسل بھیگتا رہے۔ زبان خاموش رہے مگر اندر ایک شور برپا ہو۔ انسان لوگوں کے درمیان بیٹھا مسکراتا رہے اور اپنے اندر کسی ایسی جنگ سے گزرتا رہے جس کی خبر کسی کو نہ ہو۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان درد سے نہیں بلکہ درد کو چھپاتے چھپاتے تھک جاتا ہے۔کچھ لوگ یا کچھ لمحے ہماری زندگی سے گزر کر چلے جاتے ہیں مگر اپنے گزرنے کا نشان ہمارے وجود پر چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ نشان دکھائی نہیں دیتا مگر ہر خاموش لمحے میں محسوس ہوتا ہے۔ انسان آگے بڑھ بھی جائے تو کبھی کبھی اس کے اندر کا کوئی حصہ وہیں ٹھہرا رہ جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔
اور پھر سمجھ آتا ہے کہ ہر زخم خون نہیں نکالتا۔ کچھ زخم انسان کی ہنسی بدل دیتے ہیں۔ کچھ اس کی نیند چھین لیتے ہیں۔ کچھ اس کے مزاج سے شور چھین کر اسے خاموش کر دیتے ہیں۔ کچھ اسے لوگوں سے نہیں بلکہ خود اپنے آپ سے دور کر دیتے ہیں۔ ایسے درد کا کوئی مرہم نہیں ہوتا کیونکہ تکلیف جسم پر نہیں ہوتی، روح کے ان حصوں میں ہوتی ہے جہاں کسی اور کی رسائی بھی نہیں ہوتی۔شاید اسی لیے کچھ درد درد نہیں ہوتے، عذاب ہوتے ہیں۔ انسان انہیں اٹھائے پھرتا ہے، مسکراتا ہے، زندگی گزارتا ہے اور دنیا سمجھتی رہتی ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ شخص ہر روز اپنے اندر سے کچھ کھوتا ہے اور پھر بھی جینے کا ہنر سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس کوئی سننے والا نہیں،یا لاچار مجبور اور بے بس ہیں بس مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے خود کے اندر وہ طاقت نہیں کہ ہم کسی کو اپنی آپ بیتی کی انفارمیشن دے سکیں،اور اپنے وجود کو تسکین دے سکیں،لوگ بہت مل جاتے ہیں،غم سننے والے، لیکن ایک آگ جو ہوتی ہے نا جس کا پتہ خدا اور بندے کو ہوتا ہے اسکی صدا کوئی نہیں سن پاتا ہے،کبھی دل کرتا ہے اتنا چیخ چیخ کر رویا جائے کہ ہر چیز تہس نہس ہو جائے، ایوانوں میں زلزلے آ جائیں، دنیا کے تمام لوگ سن لیں اور بغیر وجہ پوچھے فیصلہ کر لیں کہ بندہ کیوں اتنا تڑپ کر رو رہا ہے۔لیکن ایک چیز سیکھی ہے اس دنیا سے اور دنیا کے لوگوں سے یہ کسی کے نہیں ہوتے فقط مطلب کے ہوتے ہیں۔
یا فیضی قل للقلب المتعب ان اللہ موجود💔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*