قسط نمبر ۴

*چار دن ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں*

✍🏻 *محمد عادل ارریاوی*
______________________________

جمعرات کی شام ہندوستان کی راجدھانی دہلی پہنچنے کی سعادت حاصل ہوئی میرا قیام حضرت مولانا مفتی ابو طلحہ قاسمی صاحب کے پاس رہا جس کی مکمل روداد میں قسط نمبر ۲ میں قلم بند کر چکا ہوں۔ اس کے بعد جمعہ کے روز مہدیان قبرستان میں محدثِ ہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے مرقد پر حاضری ہوئی جس کی تفصیل قسط نمبر ۳ میں بیان کی جا چکی ہے۔
جمعہ کی شب وہاں سے شاہین باغ روانہ ہوا جہاں میرے محترم چچا انجینئر محمد ابو طالب صاحب کے دولت خانے پر قیام رہا۔ ان کے ساتھ محبت بھرے ماحول میں ناشتہ کیا پھر مغرب سے قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ پہنچا۔ وہاں حضرت مولانا ابو امامہ شاہی ارریاوی صاحب مولانا عبد العلیم الاعظمی صاحب اور دیگر اہلِ علم کے ساتھ جامعہ کی مسجد میں نمازِ مغرب ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
نماز کے بعد مختصر ضیافت ہوئی پھر مولانا ابو امامہ شاہی صاحب کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی خوبصورت سیر کی اسی دوران ابنِ سینا لائبریری میں اپنی دو کتابیں بطورِ تحفہ پیش کرنے کا موقع ملا۔ کچھ دیر علمی و ادبی گفتگو ہوئی پھر چائے پر مزید تبادلۂ خیال کے بعد سلام و دعا کرکے واپس شاہین باغ پہنچ گیا۔
رات کے عشائیہ میں دیگر لذیذ کھانوں سے تواضع کی گئی۔ اگلی صبح ناشتہ کرنے کے بعد اوکھلا بہار روانہ ہوا جہاں حضرت قاری اشرف ارریاوی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ پہنچتے ہی پرتپاک استقبال اور ناشتے کے بعد کافی دیر تک علمی فکری اور اصلاحی موضوعات پر نہایت مفید گفتگو ہوئی۔ ظہرانہ میں میرے پسندیدہ اور لذیذ کھانوں سے لطف اٹھایا۔ میں نے اپنی ایک کتاب انہیں بطورِ ہدیہ پیش کی اور پھر محبت بھرے انداز میں رخصت ہوا۔
اس کے بعد بٹلہ ہاؤس میں میرے ماموں زاد بھائی محمد گلاب ملاقات کے منتظر تھے۔ ان سے ملاقات کے بعد شام کے وقت میر درد روڈ روانہ ہوا جہاں حضرت مفتی انصار الحق قاسمی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہیں حضرت مولانا مفتی نوشاد نوری قاسمی ارریاوی صاحب صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی سے بھی ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔
بعد ازاں ہم پچھم بہار ایسٹ میں مفتی انصار الحق صاحب کے دولت خانے پہنچے جہاں حضرت مولانا ممتاز قاسمی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ عشائیہ وہیں ہوا اور دیر رات تک علمی و فکری گفتگو کا سلسلہ جاری رہا رات تقریباً ایک بجے آرام کیا۔
اتوار کے روز ہم مفتی صاحب کے ساتھ دہلی کے آخری علاقے نریلہ گئے جہاں دن بھر چند ضروری کام انجام دیے۔ حضرت مولانا اطہر امام صاحب پہلے ہی منتظر تھے۔ ان سے ملاقات ظہرانہ اور خوشگوار نشست کے بعد شام تک دوبارہ پچھم بہار ایسٹ واپس آگئے اور وہیں رات کا عشائیہ کرکے قیام کیا۔
پیر کی صبح ناشتے کے بعد حضرت مولانا سراج الدین قاسمی صاحب آفس انچارج جمعیۃ علماء ہند، سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ نہایت محبت آمیز وقت گزرا۔ انہوں نے اپنی شفقت کے اظہار کے طور پر مجھے پانچ قیمتی کتابیں بطورِ تحفہ عنایت فرمائیں رات بھی وہیں قیام رہا۔
پھر منگل کی صبح دہلی سے روانگی ہوئی اور میرٹھ کے لیے روانہ ہوا جہاں حضرت قاری محبوب الحسن مظفر نگری صاحب کے دولت خانے پر حاضری مقصود تھی۔
یہ چار دن میرے لیے ایک بہترین یادگار بلکہ محبت اخلاص علم اور تجربات کا ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوئے۔ ان تمام بزرگوں اور احباب نے اس قدر شفقت و محبت عطا کی کہ کبھی احساس ہی نہ ہونے دیا کہ میں مہمان ہوں۔ ہر ملاقات نے کچھ نہ کچھ سکھایا ہر نشست نے فکر کو نئی وسعت دی اور ہر لمحہ دل کو ایک الگ ہی سکون عطا کرتا رہا۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام محبین اور مخلص احباب کو سلامت رکھے ان کی عمروں میں برکت عطا فرمائے دین و ملت کی مزید خدمت کی توفیق دے اور دنیا و آخرت کی تمام کامیابیوں سے نوازے۔
آمین یا رب العالمین۔