مہکتی کتابیں:

نام کتاب: تجربات و مشاہدات
مرتب : مولانا بدر الحسن قاسمی
ناشر: جامعہ قاسمیہ دارالعلوم زکریا مرادآباد
صفحات: 415

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
علم و کتاب گروپ کے ذریعہ مجھے سب سے زیادہ جن شخصیات کے مضامین سے فائدہ ہوا، ان میں ایک تابندہ نام حضرت مولانا بدر الحسن قاسمی مدظلہ کا بھی ہے۔ مولانا کے مضامین کسی زمانے میں دارالعلوم دیوبند کے قدیم شماروں میں پڑھے تھے، پھر کبھی کبھار فقہ اکیڈمی کے ذریعہ ان کی علمی، فقہی اور قلمی خدمات سامنے آتی رہیں، لیکن جب علم و کتاب واٹسپ گروپ وجود میں آیا تو اس گروپ میں مولانا کی بیش قیمت تحریروں، خصوصاً ان کے مسلسل اور مفصل سوانحی سلسلہ وار مضمون ’’تجربات و مشاہدات‘‘ کا مطالعہ ذوق و شوق سے شروع کیا اور لاریب ان کی تحریروں کا مستقل منتظر رہتا تھا۔

ان ہی اقساط کے مجموعے کو مولانائے محترم حضرت بدر الحسن قاسمی دام ظلہ نے ’’تجربات و مشاہدات‘‘ کے نام سے تقریباً چار سو صفحات میں کتابی شکل دے دی ہے۔

یہ کتاب محض مضامین کا مجموعہ نہیں، بلکہ مولانا کی پینسٹھ سالہ زندگی کا آئینہ ہے؛ ایک ایسی زندگی جس نے زمانے کو صرف گزرتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ اسے قریب سے برتا، لوگوں کو صرف ملتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ ان کے ساتھ وقت گزارا، واقعات کو صرف سنا نہیں بلکہ ان کے اندر اتر کر محسوس کیا، اور مشاہدات کو محض یادداشت کا حصہ نہیں بنایا بلکہ انہیں قلم کے حوالے کرکے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کردیا۔

پینسٹھ برس کا عرصہ معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔ اس میں ایک انسان کی عمر ہی نہیں گزرتی، کئی زمانے بدلتے ہیں، کئی چہرے آتے اور نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں، کئی ادارے بنتے اور بگڑتے ہیں، علمی و فکری رجحانات کروٹیں لیتے ہیں، سفر نئے دروازے کھولتے ہیں اور ملاقاتیں زندگی کے حافظے میں نئے ابواب رقم کرتی ہیں۔ ’’تجربات و مشاہدات‘‘ انہی ابواب کا بیش قیمت مجموعہ ہے۔

مولانا بدر الحسن قاسمی مدظلہ کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف ان کا حافظہ ہے۔ عام آدمی کے لیے برسوں پرانے واقعات دھندلا جاتے ہیں، چہرے یاد نہیں رہتے، ملاقاتوں کی تفصیلات ذہن سے محو ہوجاتی ہیں اور زمانے کے بہت سے نقوش وقت کی گرد میں چھپ جاتے ہیں؛ لیکن مولانا کے حافظے میں ماضی کے کتنے ہی مناظر آج بھی روشن معلوم ہوتے ہیں۔ کسی شخصیت سے ملاقات، کسی مجلس کی گفتگو، کسی سفر کا واقعہ، کسی ادارے کی علمی فضا، کسی زمانے کا مزاج اور کسی واقعے کی جزئیات وہ انہیں اس طرح یاد رکھتے اور بیان کرتے ہیں جیسے ابھی ابھی آنکھوں کے سامنے سے گزرے ہوں۔ یہی مضبوط حافظہ ’’تجربات و مشاہدات‘‘ کو محض یادوں کی کتاب نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک زندہ دستاویز بنا دیتا ہے۔

حافظے کے ساتھ وسعت مطالعہ ان کی تحریروں کو ایک اور امتیاز عطا کرتی ہے۔ مولانا نے کتابیں صرف پڑھی نہیں ہیں، ان کے ساتھ ایک طویل علمی رفاقت گزاری ہے۔ مختلف علوم، مختلف شخصیات، مختلف اداروں اور مختلف ملکوں کے علمی و فکری ماحول سے ان کا واسطہ رہا ہے۔ ان کے مطالعے کی وسعت اور اس مطالعے کا حاصل ان کی تحریروں میں جگہ جگہ جھلکتا ہے۔ کہیں کوئی تاریخی واقعہ اچانک کسی کتاب کے حوالے سے روشن ہوجاتا ہے، کہیں کسی شخصیت کا تعارف اس کے علمی پس منظر کے ساتھ سامنے آتا ہے، اور کہیں ایک معمولی سا واقعہ وسیع تر علمی و تہذیبی تناظر اختیار کرلیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مولانا جو کچھ دیکھتے ہیں، اسے صرف آنکھ سے نہیں دیکھتے، کتابوں کی روشنی میں بھی دیکھتے ہیں۔

یہی حاصل مطالعہ ان کے اسلوب کو محض معلوماتی ہونے سے بچاتا ہے۔ معلومات بہت سے لوگوں کے پاس ہوتی ہیں، مگر معلومات کو تجربے سے جوڑنا، تجربے کو مشاہدے سے ملانا اور مشاہدے کو فکر و بصیرت میں ڈھال دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ مولانا کی تحریروں میں یہی امتزاج اور امتیاز نمایاں ہے۔ ان کے یہاں کتاب بھی ہے، زندگی بھی؛ علم بھی ہے، تجربہ بھی؛ واقعہ بھی ہے اور اس سے پیدا ہونے والی بصیرت بھی۔
مولانا کی زندگی کا ایک اہم باب دارالعلوم دیوبند کی تدریس ہے۔ دارالعلوم جیسی عظیم علمی درس گاہ میں تدریس سے وابستگی نے ان کے علمی تجربات کو مزید گہرائی عطا کی۔ پھر رسالہ ’’الداعی‘‘ دیوبند کی ادارت نے ان کے قلم کو ایک وسیع علمی و فکری میدان فراہم کیا۔ ادارت صرف مضامین پڑھنے اور چھاپنے کا نام نہیں، بلکہ مختلف موضوعات، مختلف اہل قلم، مختلف علمی رجحانات اور مختلف فکری مباحث سے مسلسل سابقہ پڑنے کا نام ہے۔ یہ تجربہ بھی مولانا کی تحریروں میں بدرجہ اتم محسوس ہوتا ہے۔

فقہ اکیڈمی سے وابستگی نے ان کی علمی و فقہی جہت کو نمایاں کیا، جہاں عصر حاضر کے مسائل، فقہی مباحث اور علمی تحقیقات سے ان کا تعلق رہا۔ اسی طرح کویت کی علمی سرگرمیوں نے ان کے تجربات کا دائرہ ہندوستان سے باہر تک وسیع کیا۔ وہاں کے علمی ماحول، اہل علم سے روابط، مختلف ملکوں سے آنے والے لوگوں سے ملاقاتیں اور عرب دنیا کے علمی و فکری مشاہدات نے ان کے حافظے اور مطالعے میں مزید وسعت پیدا کی۔
ان کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو عالمی روابط ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی سے وابستگی اور عالم اسلام کے مختلف علمی حلقوں اور شخصیات سے تعلق نے مولانا کو محض ایک مقامی عالم نہیں رہنے دیا؛ ان کے مشاہدات میں ایک وسیع عالمی منظرنامہ بھی شامل ہوگیا۔ مختلف ملکوں کے اہل علم، مختلف علمی ادارے، مختلف معاشرتی ماحول اور مختلف تہذیبی تجربات ان کی یادداشتوں کا حصہ بنتے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’تجربات و مشاہدات‘‘ پڑھتے ہوئے کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم دیوبند کی کسی علمی مجلس میں بیٹھے ہیں، کبھی کویت کے علمی ماحول میں پہنچ جاتے ہیں، کبھی کسی عالمی ادارے کے دروازے پر کھڑے ہیں اور کبھی کسی ایسے عالم یا شخصیت کے روبرو ہیں جس سے ملنے کا موقع خود ہمیں کبھی نہیں ملا۔

اس کتاب کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مصنف محض واقعات نگار بن کر سامنے نہیں آتے؛ وہ جہاں گئے، جس سے ملے، جو دیکھا، جو سنا اور جو محسوس کیا، اس سب کو اپنے مخصوص زاویۂ نظر سے دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔ کہیں واقعہ ہے، کہیں شخصیت؛ کہیں سفر ہے، کہیں مجلس؛ کہیں یاد ہے، کہیں تجربہ؛ کہیں مسرت کی مسکان ہے تو کہیں زندگی کے تلخ حقائق کا کرب۔ یوں یہ کتاب بیک وقت سفرنامہ بھی ہے، یادنامہ بھی، مشاہدات نامہ بھی اور ایک عالم دین کی طویل زندگی کی خودنوشت سوانح اور آپ بیتی بھی ہے۔

’’تجربات و مشاہدات‘‘ کا سب سے قیمتی پہلو شاید یہی ہے کہ مصنف نے اپنی پینسٹھ سالہ زندگی کو محض جیا نہیں، یاد بھی رکھا، سمجھا بھی اور لکھ بھی دیا۔ جو کچھ ایک شخص کی زندگی کے ساتھ گزر کر ہمیشہ کے لیے گم ہوسکتا تھا، اسے قلم نے محفوظ کردیا۔ اس اعتبار سے یہ کتاب مصنف کی یادوں سے زیادہ ہماری اجتماعی یادداشت کا ایک حصہ ہے۔

اس کتاب کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مولانا بدر الحسن قاسمی صاحب اپنے قارئین کو محض واقعات نہیں سنا رہے، بلکہ انہیں اپنے ساتھ بٹھا کر کبھی کسی مجلس میں لے جارہے ہیں، کبھی کسی سفر میں شریک کررہے ہیں، کبھی کسی شخصیت سے ملوارہے ہیں اور کبھی ماضی کے کسی ایسے دروازے کو کھول رہے ہیں جس کے پیچھے ایک پورا زمانہ ابھی تک سانس لے رہا ہے۔

’’تجربات و مشاہدات‘‘ میں مولانا کی وسعت مطالعہ، قوت حافظہ اور عالمی تجربات ایک دوسرے سے الگ الگ نہیں بلکہ باہم پیوست نظر آتے ہیں۔ جو کچھ پڑھا، وہ حافظے میں محفوظ ہوا؛ جو کچھ دیکھا، وہ تجربے میں ڈھل گیا؛ جن سے ملاقات ہوئی، ان کے نقوش تابندہ ذہن میں اترگیے؛ جو کچھ دنیا کے مختلف علمی مراکز میں دیکھا، وہ مشاہدے کا حصہ بن گیا؛ اور پھر یہ سب کچھ قلم کے راستے صفحات پر اتر گیا ، منتقل ہوگیا، چھپ گیا۔

’’تجربات و مشاہدات‘‘ کو پینسٹھ برس کا نچوڑ، مطالعے کا حاصل، مشاہدات کی دستاویز، ملاقاتوں کا البم، عالمی روابط کی یادداشت، علمی اداروں سے وابستگیوں کا عکس اور ایک صاحب علم و نظر کی زندگی کا قابل رشک کھلا ہوا حافظہ ہے اور ایسی کتابیں صرف اس لیے نہیں پڑھی جاتیں کہ ان میں کیا لکھا ہے؛ کبھی کبھی اس لیے بھی پڑھی جاتی ہیں کہ ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں کیسے نکھار اور سدھار لانا ہے، کن سے ملنا اور کن سے بچنا ہے، کیسے ملنا اور کیسے بولنا ہے، کیا لکھنا اور کیا چھوڑ دینا ہے، کب بولنا اور کب خاموش رہنا ہے،کب لکھنا اور کب قلم کو جیب میں رکھ لینا ہے۔

اہل علم اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔یہ کتاب پڑھنے کے بعد دل گواہی دے گا کہ کتاب کی قیمت اس کی اہمیت و نافعیت کے اعتبار سے کچھ بھی تو نہیں۔

(تین ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)