سنو! سنو!!

بکھرتے رشتے، اجڑتے خاندان

(ناصرالدین مظاہری)

ہر ماں باپ اپنی نئی شادی شدہ بیٹی کو سمجھاتے ہیں: ’’بیٹی! اب تمہاری سسرال ہی تمہارا گھر ہے، ساس سسر کا خیال رکھنا، شوہر کا احترام کرنا، چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظرانداز کرنا، ہر بات مائکے میں نہ بتانا اور گھر بسانے کی کوشش کرنا۔‘‘

شادی کے بعد چند دن یا کچھ ماہ تک نئی نویلی دلہن کو چولہے اور پونچھے سے بھی دور رکھا جاتا ہے، پھر رفتہ رفتہ پورا گھر اس کے حوالے ہونے لگتا ہے۔ باشعور اور وفا شعار بیٹیاں اپنے نئے گھر کو اپنا گھر سمجھ کر اسے سنوارنے اور بسانے میں لگ جاتی ہیں۔ ساس کو ماں، سسر کو باپ، نند کو بہن اور دیور کو بھائی سمجھنے لگتی ہیں۔
مگر کبھی کبھی اس خوش گوار ماحول میں بھنگ خود مائکے والے ڈال دیتے ہیں۔ بار بار فون کرکے پوچھا جاتا ہے: ’’آج کیا پکایا؟ کیا کھایا؟ گوشت کتنی بار پکتا ہے؟ تم ہر وقت کام کرتی رہتی ہو، اپنا بھی خیال رکھا کرو۔ تمہاری ساس نند کچھ کام کرتی ہیں یا سارا کام تم ہی کرتی ہو؟ شوہر تمہاری سنتا بھی ہے یا اپنی ماں بہن کے آگے دم ہلاتا رہتا ہے؟ کہیں شاپنگ کے لیے لے جاتا ہے یا پرانے کپڑوں پر گزارہ ہورہا ہے؟‘‘ کبھی بہن مشورہ دیتی ہے: ’’کبھی گھومنے بھی جایا کرو، بازار اور شاپنگ مال بھی چلی جایا کرو، زندگی صرف کام کرنے کے لیے نہیں ہے۔‘‘ پھر عید قریب آئی تو آواز آتی ہے: ’’عید تو یہاں مائکے میں کرنا۔‘‘

یہ جملے بظاہر محبت اور خیرخواہی سے بھرے ہوتے ہیں، مگر کبھی یہی جملے خوش باش بہو کے ذہن میں شک، شکوہ اور بے اطمینانی کے بیج بو دیتے ہیں۔ کل تک جو لڑکی اپنے سسرال کو اپنا گھر سمجھ رہی تھی، آج اسے لگتا ہے کہ شاید وہ وہاں ملازمہ ہے۔ کل تک ساس کی بات ماں کی نصیحت محسوس ہوتی تھی، آج وہی بات ’’ساس کی زیادتی‘‘ بن جاتی ہے۔ نند کا ساتھ بہن کا ساتھ تھا، اب وہ مداخلت محسوس ہونے لگتی ہے۔ گھر وہی ہے، لوگ وہی ہیں، کام وہی ہیں، شوہر وہی ہے؛ صرف نظر بدل گئی ہے۔

یہاں مسئلہ ماں کی محبت نہیں، محبت کا غلط استعمال ہے۔ بیٹی کہتی ہے: ’’امی! آج ساس نے یہ بات کہی۔‘‘ ماں فوراً کہتی ہے: ’’میں پہلے ہی کہتی تھی، وہاں تمہیں کوئی خوش نہیں رکھے گا!‘‘ بیٹی کہتی ہے: ’’آج شوہر سے جھگڑا ہوگیا۔‘‘ بہن فوراً کہتی ہے: ’’وہ ایسا ہی ہے، تم نے ہماری بات نہیں مانی تھی!‘‘ مگر کسی نے یہ نہیں پوچھا: ’’تم نے کیا کہا تھا؟‘‘ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ممکن ہے بات اتنی بڑی نہ ہو جتنی فون پر بیان ہوئی ہے۔ ایک فریق کی داستان سن کر دوسرے فریق کو مجرم قرار دینا انصاف نہیں۔

گھر کے بہت سے جھگڑے اس لیے بڑے ہوجاتے ہیں کہ معمولی ناراضی پہلے ماں تک پہنچتی ہے، پھر بہن تک، پھر بھائی تک اور پھر پورے خاندان تک۔ جو بات میاں بیوی کے درمیان ایک گھنٹے میں ختم ہوسکتی تھی، وہ دو خاندانوں کے درمیان برسوں کی تلخی بن جاتی ہے۔ گھر اکثر بڑے واقعات سے نہیں، چھوٹے چھوٹے مشوروں سے ٹوٹتے ہیں۔ ماں کہتی ہے: ’’تم کیوں اتنا کام کرتی ہو؟‘‘ بہن کہتی ہے: ’’تم بھی اپنا حق لینا سیکھو۔‘‘ کوئی کہتا ہے: ’’تمہاری ساس کو تم پر اتنا اختیار کیوں ہے؟‘‘ اور بیٹی، جو کل تک صبر کو خوبی سمجھتی تھی، آج اسے کمزوری سمجھنے لگتی ہے۔
یہاں مائکے والوں کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ بیٹی سے صرف یہ نہ پوچھیں: ’’آج کیا ہوا؟‘‘ یہ بھی پوچھیں: ’’آج تم نے گھر میں کیا اچھا کیا؟‘‘ صرف یہ نہ پوچھیں: ’’ساس نے کیا کہا؟‘‘ یہ بھی پوچھیں: ’’تم نے ساس کا دل کیسے جیتا؟‘‘ ہر اختلاف ظلم نہیں ہوتا، ہر سخت بات زیادتی نہیں ہوتی، ہر کام بوجھ نہیں ہوتا اور ہر سسرال دشمن نہیں ہوتا۔

ہاں! اگر واقعی ظلم، تشدد، حق تلفی یا ناقابل برداشت زیادتی ہو تو خاموش رہنا درست نہیں۔ ایسی صورت میں مائکے کا سہارا ضروری ہے۔ لیکن ہر گھریلو اختلاف کو ظلم بنا دینا اور ہر ناراضی کو سسرال کی سازش سمجھ لینا بھی بیٹی کے حق میں خیرخواہی نہیں۔

ماں کا کمال یہ نہیں کہ وہ بیٹی کی ہر بات میں اس کا ساتھ دے؛ ماں کا کمال یہ ہے کہ وہ بیٹی کو صحیح اور غلط میں فرق سمجھائے۔ بہن کا کمال یہ نہیں کہ وہ بہن کے شوہر کی ہر غلطی گنوائے؛ بہن کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی بہن کے گھر کی محافظ بنے، محرک فساد نہ بنے۔ اور بیٹی کا کمال یہ نہیں کہ وہ سسرال کی روزانہ رپورٹ مائکے بھیجتی رہے؛ بیٹی کا کمال یہ ہے کہ وہ مائکے کی محبت دل میں رکھے اور اپنے گھر کی عزت زبان پر۔

مائکے کا دروازہ بیٹی کے لیے ہمیشہ کھلا ہونا چاہیے، لیکن بیٹی کے گھر میں مداخلت کی کھڑکیاں ہر وقت کھلی رہیں، یہ ضروری نہیں۔ بیٹی کو یہ احساس دیجیے: ’’تمہارا گھر تمہارا ہے، اسے سنوارو، بساؤ اور نبھاؤ۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں، مگر تمہارے گھر کے خلاف نہیں۔‘‘
کیونکہ بیٹی کو مائکے سے صرف محبت نہیں چاہیے؛ سمجھ بھی چاہیے، صبر بھی چاہیے اور گھر بسانے کا حوصلہ بھی۔ گھر اجاڑنے والا ہمیشہ کوئی دشمن نہیں ہوتا؛ کبھی ماں کا ایک جملہ ہوتا ہے، شوہر سے جھگڑے کا ذریعہ ہمیشہ کوئی اجنبی نہیں ہوتا؛ کبھی بہن کا ایک مشورہ ہوتا ہے۔

اس لیے ’’بیٹی! تم اتنا کیوں کرتی ہو؟‘‘ کے ساتھ کبھی یہ بھی کہہ دیا کیجیے: ’’بیٹی! گھر بسانا بھی کوئی معمولی کام نہیں۔ معمولی باتوں کو دل پر نہ لینا، ہر بات مائکے نہ لانا، اور اگر واقعی کوئی ظلم ہو تو ہم تمہارے ساتھ ہیں؛ لیکن تمہارا گھر ہم خود خراب نہیں کریں گے۔‘‘

(پانچ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)