مہکتی کتابیں:
نام کتاب: من شاہ جہانم
مصنف: مولانا اعجاز ارشد قاسمی
ناشر: کتب خانہ نعیمیہ، دیوبند
سن اشاعت: 2002
صفحات: 330
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اب تک کی کتابوں میں سب سے زیادہ تکلیف اس کتاب کا تعارف اور تبصرہ لکھتے ہوئے ہورہی ہے۔ اس کی وجہ کتاب نہیں، کتاب کے مصنف ہیں۔ مولانا اعجاز ارشد قاسمی مرحوم بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔
ہائے ہائے!
پھول سر چڑھا جو چمن سے نکل گیا
عزت اسے ملی جو وطن سے نکل گیا
مفتی اعجاز ارشد قاسمی بہار سے اٹھے، دارالعلوم دیوبند پہنچے، علم حاصل کیا اور پھر قلم و قرطاس کی دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ ان کی زندگی مختصر تھی مگر ان کا کام مختصر نہیں تھا۔ انہوں نے صحافت کو محض خبر رسانی نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک ذمہ داری، ایک امانت اور ایک مقصد کے ساتھ جوڑا۔
کچھ لوگ زندگی سے رخصت نہیں ہوتے، زندگی سے نکل جاتے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد بھی ان کی آواز سنائی دیتی ہے، ان کے الفاظ پڑھنے والوں سے گفتگو کرتے رہتے ہیں اور ان کی کتابیں ان کی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔ مولانا اعجاز ارشد قاسمی بھی ایسے ہی اہل قلم میں تھے۔
آج ان کے انتقال کو کئی برس گزر چکے ہیں، مگر ان کی کتاب ہمارے سامنے ہے۔جس کا نام ہے :
من شاہ جہانم
’’من شاہ جہانم‘‘ مولانا اعجاز ارشد قاسمی کی وہ کتاب ہے جس میں اردو صحافت کے فن، اس کے اصول و ضوابط، اس کے رموز و نکات اور اہل قلم کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی گئی ہے۔ یہ کتاب صرف صحافت سے وابستہ لوگوں کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے مفید ہے جس کے ہاتھ میں قلم ہے اور جو اپنے الفاظ کے ذریعے لوگوں تک کوئی بات پہنچانا چاہتا ہے۔
صحافت کا کام صرف خبر پہنچانا نہیں۔ خبر کے ساتھ صحت، تحقیق، دیانت، زبان، اسلوب اور ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ ایک غلط خبر سیکڑوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے اور ایک غلط جملہ کسی کی عزت، کسی ادارے کی ساکھ اور کسی معاشرے کے سکون کو متاثر کرسکتا ہے۔ اسی لیے صحافت میں قلم چلانے سے پہلے ذمہ داری کا احساس ضروری ہے۔
مولانا اعجاز ارشد قاسمی نے اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے صحافت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ہے۔ خبر کیسے لکھی جائے؟ عنوان کیسا ہو؟ زبان کیسی ہو؟ معلومات کی صحت کیسے جانچی جائے؟ تحقیق کی ضرورت کیا ہے؟ صحافی اور قلم کار کی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے؟ ان جیسے کئی سوالات کتاب کے صفحات میں زیر بحث آتے ہیں۔
کتاب کا ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ مصنف نے صحافت کو صرف پیشہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک اخلاقی ذمہ داری کے طور پر دیکھا ہے۔ قلم کی قوت سے واقف شخص اگر اپنے قلم کے تقاضوں سے واقف نہ ہو تو اس کی تحریر فائدے کے بجائے نقصان کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
قلم ایک امانت ہے اس امانت کا تقاضا ہے کہ لکھنے والا جو کچھ لکھے، سوچ سمجھ کر لکھے، تحقیق کے بعد لکھے اور الفاظ کے نتائج کو سامنے رکھ کر لکھے۔ جذبات اپنی جگہ، مگر صحافت میں تحقیق اور صداقت کی اپنی جگہ ہے۔ رفتار صحافت کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر صحت صحافت کی روح ہے۔
’’من شاہ جہانم‘‘ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ کتاب صرف نظری گفتگو تک محدود نہیں رہتی بلکہ صحافت کے عملی پہلوؤں کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے نئے لکھنے والے کو رہنمائی ملتی ہے اور تجربہ رکھنے والا بھی اپنے طریقہ کار کا جائزہ لینے پر مجبور ہوتا ہے۔
آج جب صحافت کی دنیا بہت بدل چکی ہے، یہ کتاب اور بھی اہم محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت خبر صرف اخبار کے ذریعے نہیں پہنچتی۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، واٹس ایپ، فیس بک اور مختلف آن لائن ذرائع نے ہر شخص کو کسی نہ کسی درجے میں ناشر بنا دیا ہے۔ ایک خبر لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں تحقیق، تصدیق اور ذمہ داری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
آج کا لکھنے والا اگر صحافت کے بنیادی اصولوں سے واقف نہیں تو وہ انجانے میں افواہ کو خبر، قیاس کو حقیقت اور جذبات کو تحقیق کا نام دے سکتا ہے۔ اس لیے ’’من شاہ جہانم‘‘ کو صرف پرانی صحافت کی کتاب سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے بنیادی اصول آج بھی اپنی جگہ اہم ہیں، بلکہ موجودہ ذرائع ابلاغ کے ماحول میں ان کی ضرورت مزید محسوس ہوتی ہے۔
خصوصاً دینی مدارس سے نکلنے والے طلبہ اور دینی موضوعات پر لکھنے والے اہل قلم کے لیے یہ کتاب توجہ کی مستحق ہے۔ دینی بات کو عام لوگوں تک پہنچانا بھی ایک ذمہ داری ہے۔ حوالہ درست ہو، عبارت واضح ہو، زبان شائستہ ہو، خبر اور تبصرے میں فرق ہو اور کسی بات کو نقل کرنے سے پہلے اس کی صحت معلوم کی جائے یہ سب صحافت ہی نہیں بلکہ علمی دیانت کے بھی تقاضے ہیں۔
کتاب کا عنوان بھی اپنے اندر ایک خاص کشش رکھتا ہے۔ ’’من شاہ جہانم‘‘ یعنی ’’میں شاہ جہاں ہوں‘‘۔ عنوان قاری کو چونکاتا ہے، متوجہ کرتا ہے اور کتاب کے اندر جھانکنے پر آمادہ کرتا ہے۔ پھر جب صفحات کھلتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف الفاظ نہیں بلکہ صحافت کے تجربات، مشاہدات اور اصول محفوظ ہیں۔
آہ! آج کم و بیش چوبیس سال بعد جب اس کتاب کو دیکھا تو تڑپ گیا کہ کتاب کے محرک حضرت مولانا محمد اسرار الحق قاسمیؒ (متوفی: 7 دسمبر 2018ء / 29 ربیع الاول 1440ھ) ۔ مولانا اعجاز ارشد قاسمیؒ (متوفی: 17 اپریل 2021ء / 4 رمضان 1442ھ) کے سرپرست حضرت قاری محمد عثمان منصورپوریؒ (متوفی: 21 مئی 2021ء / 8 شوال 1442ھ)
مولانا کفیل احمد علویؒ (متوفی: 12 مارچ 2017ء / 13 جمادی الآخر 1438ھ) حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ (متوفی: 3 مئی 2021ء / 20 رمضان 1442ھ)
وغیرہ جن کی قیمتی تحریریں ابتدائیہ میں موجود ہیں یہ سب حضرات بھی ملک عدم سدھار گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون
کتابیں عجیب چیز ہیں۔ آدمی چلا جاتا ہے، مگر کتاب رہ جاتی ہے۔ آواز خاموش ہوجاتی ہے، مگر الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ مصنف نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے، مگر اس کی تحریر ہر نئے قاری کے ساتھ دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔
’’من شاہ جہانم‘‘ بھی اسی زندہ و جاوید تحریر کا نام ہے۔
یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہے جو صحافت کو صرف خبر کا کھیل نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتے ہیں؛ ان لوگوں کے لیے ہے جو قلم کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ امانت سمجھتے ہیں؛ اور ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو لکھنے سے پہلے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا لکھنا ہے، کیسے لکھنا ہے اور کیوں لکھنا ہے۔
قلم ، قرطاس اور صحافت سے جڑے سبھی حضرات یہ کتاب ضرور پڑھیں کیونکہ اکثریت کو پتہ ہی نہیں ہے کہ اخبار کس کو کہتے ہیں ، کتنی قسمیں ہیں، کالم کیا ہوتا ہے، کالم کی شرطیں کیا ہیں، کالم نگار کی ذمہ داریاں کیا ہیں، اخبار میں کتنے کالم ہوتے ہیں۔وغیرہ
اگر آپ صحافت کی بنیادی باتوں اور معلومات سے واقف نہیں ہیں تو بے شک مجھے کہنے کا حق ہے کہ آپ صحافی بھی نہیں ہیں۔
(ناصرالدین مظاہری)
مظاہرعلوم وقف سہارنپور
(چار ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)