تعلیماتِ غوثِ پاکؒ
آج کے دور میں کردار سازی کا نسخہ
محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی زندگی ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی گزری ہیں جن کی عظمت صرف ان کے زمانے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ صدیوں بعد بھی ان کی زندگی، علم، تقویٰ، عبادت، کردار اور اصلاحی خدمات لوگوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہتی ہیں۔ انہی جلیل القدر شخصیات میں حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا نام نہایت نمایاں ہے۔ برصغیر کے مسلمان محبت و عقیدت سے انہیں غوثِ اعظم، غوثِ پاک، محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے القاب سے یاد کرتے ہیں۔
ان کی شخصیت کو صرف کرامات کے تذکروں تک محدود کر دینا ان کے مقام کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔ ان کی اصل عظمت اس بات میں ہے کہ انہوں نے علم کو عمل سے، شریعت کو طریقت سے، عبادت کو اخلاق سے، اور روحانیت کو معاشرتی اصلاح سے جوڑ دیا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اللہ کا ولی بننے کا راستہ محض دعوے، لباس، ظاہری نسبت یا کسی بزرگ سے تعلق کا نام نہیں، بلکہ ایمان، علم، تقویٰ، اخلاص، عبادت، اتباعِ سنت، حقوق العباد اور مسلسل مجاہدۂ نفس کا نام ہے۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ بغداد میں علم و وعظ اور اصلاح کے ایک بڑے مرکز بنے۔ معتبر تذکروں میں ان کی فقہ، حدیث، وعظ اور تدریس سے وابستگی کا ذکر ملتا ہے اور 561ھ میں بغداد ہی میں ان کا وصال بیان کیا جاتا ہے۔
غوثِ اعظمؒ کی عظمت کا اصل راز کیا تھا؟
آج جب ہم حضرت غوثِ اعظمؒ کا ذکر کرتے ہیں تو عموماً سب سے پہلے ان کی کرامات ہمارے ذہن میں آتی ہیں۔ بے شک اولیائے کرام کی کرامات اہلِ سنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی عطا سے ممکن ہیں، لیکن کسی ولی کی عظمت کا سب سے مضبوط اور قابلِ تقلید پہلو اس کی استقامت، تقویٰ، علم اور اتباعِ شریعت ہے۔
حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ علمِ دین کے بڑے عالم، واعظ، مدرس اور مصلح تھے۔ ان کی مشہور کتاب الغنیۃ لطالبی طریق الحق ان کی طرف منسوب ہے اور ان کی تعلیمات میں شریعت، عبادت، اخلاق اور روحانی تربیت ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی دینی زندگی کے مختلف پہلو ہیں۔ (
یہی وہ نقطہ ہے جسے آج ہمیں سب سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شخص غوثِ اعظمؒ سے محبت کا دعویٰ کرے لیکن نماز میں سستی کرے، حرام سے نہ بچے، جھوٹ بولے، والدین کی نافرمانی کرے، لوگوں کے حقوق پامال کرے اور دل میں تکبر رکھے تو اسے حضرت غوثِ اعظمؒ کی زندگی سے دوبارہ اپنا تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ولی اللہ کی محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت یہ ہے کہ انسان ولی کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی کوشش کرے۔
حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کی زندگی سے ہمارے لیے سب سے اہم پیغام عبادت اور خصوصاً نماز کی پابندی کا ہے۔ اولیائے اللہ کی پوری زندگی اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی جدوجہد سے عبارت ہوتی ہے۔ نماز محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ بندے اور اللہ کے درمیان تعلق کی سب سے بڑی عملی علامت ہے۔ قرآن مجید بار بار نماز قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز کو دین کے اہم ترین اعمال میں شمار فرمایا۔
اس لیے اگر ہم گیارھویں شریف میں حضرت غوثِ اعظمؒ کا ذکر کریں، ان کے لیے ایصالِ ثواب کریں، ان کی سیرت بیان کریں، مگر اپنی نمازوں کی حفاظت نہ کریں تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے۔
حضرت غوثِ اعظمؒ کی زندگی کا پیغام یہ نہیں کہ صرف ایک دن انہیں یاد کیا جائے؛ بلکہ یہ ہے کہ اللہ کو ہر دن یاد کیا جائے۔ فجر کی نماز سے دن کا آغاز ہو، ظہر و عصر میں دنیا کے مشاغل کے باوجود اللہ کا حق ادا کیا جائے، مغرب و عشاء میں دن کا اختتام عبادت سے ہو، قرآن سے تعلق قائم رکھا جائے اور انسان اپنے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر کرے۔ یہی وہ روح ہے جو کسی انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔
ولی اللہ کون ہوتا ہے؟
قرآن مجید نے اولیاء اللہ کی بنیادی پہچان بیان کرتے ہوئے فرمایا: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ یعنی اللہ کے دوست وہ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔ اس آیت میں ایک نہایت اہم حقیقت موجود ہے: ولایت کا معیار ایمان اور تقویٰ ہے۔ اس لیے کسی بزرگ کی ولایت کو سمجھنے کے لیے صرف کرامات کے واقعات تلاش کرنا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس شخص کی زندگی اللہ کی اطاعت، رسول اللہ ﷺ کی اتباع، شریعت کی پابندی، اخلاق، اخلاص اور تقویٰ سے کتنی معمور تھی۔
حضرت غوثِ اعظمؒ کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ان کی شخصیت علم و روحانیت دونوں کا حسین امتزاج تھی۔ ان کے وعظ میں صرف روحانی کیفیت نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ، حلال و حرام، اخلاق، توبہ، اخلاص اور اللہ کی طرف رجوع کی دعوت بھی تھی۔
حضرت غوثِ اعظمؒ کی زندگی کا ایک بڑا سبق تقویٰ ہے۔ تقویٰ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان چند مخصوص عبادات کرے، بلکہ تقویٰ یہ ہے کہ انسان تنہائی میں بھی اللہ کو حاضر و ناظر سمجھے۔ وہ حرام مال سے بچے، زبان کو جھوٹ اور غیبت سے محفوظ رکھے، نگاہ کی حفاظت کرے، دل کو تکبر اور حسد سے پاک کرنے کی کوشش کرے اور لوگوں کے حقوق ادا کرے۔
آج ہمارے معاشرے میں روحانیت کی بات بہت ہوتی ہے، لیکن روحانیت کا اصل امتحان بازار، گھر، کاروبار، ملازمت، سوشل میڈیا اور معاملاتِ زندگی میں ہوتا ہے۔ اگر ذکر کے بعد زبان سے کسی کی عزت مجروح ہو، نماز کے بعد کسی کا حق مارا جائے، محفلِ نعت کے بعد گھر میں والدین کو تکلیف دی جائے، تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ابھی عبادت کی روح ہمارے کردار میں پوری طرح نہیں اتری۔ حضرت غوثِ اعظمؒ کی زندگی ہمیں ظاہری عبادت کے ساتھ باطنی اصلاح بھی سکھاتی ہے۔
پیر و مرشد کی حقیقت
تصوف کی دنیا میں پیر و مرشد کا تصور اصلاحِ نفس اور روحانی تربیت سے وابستہ ہے۔ ایک صالح اور صاحبِ علم مرشد انسان کو اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے، اس کے اخلاق کی اصلاح کرتا ہے، اس کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے اور شریعت و سنت پر چلنے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
لیکن ایک بنیادی حقیقت ہمیشہ سامنے رہنی چاہیے: سچا مرشد اپنے مرید کو اپنی ذات کا غلام نہیں بناتا بلکہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا پابند بناتا ہے۔
حضرت غوثِ اعظمؒ کی نسبت کا سب سے خوبصورت تقاضا یہی ہے کہ انسان اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرے۔ اگر کسی پیر کی صحبت سے نماز بڑھتی ہے، قرآن سے تعلق مضبوط ہوتا ہے، گناہوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے، اخلاق بہتر ہوتے ہیں اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو یہ روحانی تربیت کا مثبت اثر ہے۔ لیکن اگر کسی نسبت کے نام پر شریعت کے واضح احکام چھوڑ دیے جائیں یا کسی انسان کو ایسے اختیارات دیے جائیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں تو یہ غوثِ اعظمؒ کی تعلیمات کی روح نہیں ہوسکتی۔
گیارھویں شریف
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا وصال 11 ربیع الآخر 561ھ میں بغداد میں ہوا۔ اسی نسبت سے ربیع الآخر کی گیارہویں تاریخ کو ان کی یاد اور ایصالِ ثواب کے لیے برصغیر میں گیارھویں شریف کے نام سے مجالس منعقد کرنے کی روایت مشہور ہوئی۔
گیارھویں شریف کی اصل روح کو سمجھنے کے لیے دو باتوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ ایک طرف ایصالِ ثواب، دعا، صدقہ، قرآن خوانی، ذکر، نعت، وعظ اور صالحین کا تذکرہ جیسے اعمال ہیں جن کی اپنی اپنی شرعی اصل موجود ہے۔ دوسری طرف گیارہ ربیع الآخر کو حضرت غوثِ اعظمؒ کی یاد میں خصوصی اجتماع کرنا ایک روایتی و تعظیمی صورت ہے۔
قرآن مجید میں پہلے گزرنے والے اہلِ ایمان کے لیے دعا کا ذکر موجود ہے: رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ یعنی اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر گئے۔
اسی طرح احادیث میں بھی میت کی طرف سے صدقہ اور بعض نیک اعمال کے نفع کا ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ ایصالِ ثواب کی اصل کو اسلامی روایت میں ایک معروف دینی عمل کے طور پر سمجھا گیا ہے۔ برصغیر کے بعض اکابر، خصوصاً حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلویؒ کی تصانیف اور ان سے متعلق روایات میں گیارھویں شریف کے رواج کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ان کی کتاب ما ثبت من السنة کا قدیم مطبوعہ نسخہ بھی دستیاب ہے۔
لہٰذا گیارھویں شریف کو سمجھنے کا معتدل اور علمی طریقہ یہ ہے کہ اسے حضرت غوثِ اعظمؒ کی یاد، ان کی سیرت کے تذکرے اور ایصالِ ثواب کی ایک روایتی مجلس سمجھا جائے، نہ یہ کہ اسے اسلام کا ایسا لازمی رکن قرار دیا جائے جس کے بغیر دین مکمل نہ ہو۔
اگر گیارھویں شریف میں قرآن پڑھا جائے، اللہ کا ذکر کیا جائے، رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجا جائے، حضرت غوثِ اعظمؒ کی زندگی اور ان کی اصلاحی تعلیمات بیان کی جائیں، غرباء کو کھانا کھلایا جائے، صدقہ کیا جائے، مرحومین کے لیے دعا کی جائے اور سب سے بڑھ کر اپنے اعمال کی اصلاح کا عہد کیا جائے تو یہ مجلس ایک بامقصد دینی و روحانی اجتماع بن سکتی ہے۔
لیکن اگر پوری مجلس صرف کھانے، دکھاوے، شور، غیر ضروری اخراجات اور ظاہری نمائش میں تبدیل ہوجائے تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے گیارھویں شریف کی روح کو سمجھا بھی ہے یا نہیں۔ حضرت غوثِ اعظمؒ کی یاد کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ ان کی زندگی سے سبق لیا جائے۔
آج ہماری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ نیکی کے نام پر ایسی چیزیں دین کا حصہ نہ بن جائیں جن کی کوئی معتبر شرعی بنیاد نہیں۔ گیارھویں شریف کے نام پر فضول خرچی، دکھاوا، غیر شرعی اختلاط، نمازوں میں کوتاہی، شور شرابہ، آتش بازی، توہمات، محض عددِ گیارہ کو بذاتِ خود مؤثر سمجھنا، یا ایسی حرکات جن سے شریعت کی حدود پامال ہوں—ان سب سے بچنا چاہیے۔
اسی طرح کسی بزرگ کی قبر کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھنا بھی درست نہیں جو اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اختیارات کے ساتھ خلط ملط ہوجائے۔ بزرگوں سے محبت اپنی جگہ، مگر دعا، عبادت، حقیقی مدد اور غیبی اختیار کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
یہ بات حضرت غوثِ اعظمؒ کی عظمت کم نہیں کرتی بلکہ ان کی تعلیمات کی حفاظت کرتی ہے۔ حقیقی محبت یہ ہے کہ ہم ان بزرگوں کو اس مقام پر رکھیں جو شریعت نے دیا، نہ ان کی شان میں کمی کریں اور نہ ایسی بات کہیں جو عقیدۂ توحید کی حدود سے تجاوز کرے۔
غوثِ اعظمؒ اور معاشرتی امن
حضرت غوثِ اعظمؒ کی زندگی کا ایک نہایت اہم پہلو اصلاحِ معاشرہ ہے۔ ان کے وعظ کا مقصد صرف چند افراد کو روحانی کیفیت میں مبتلا کرنا نہیں تھا بلکہ انسانوں کو گناہوں سے نکال کر اللہ کی اطاعت کی طرف لانا تھا۔ ان کی مجلس علم، تذکیر، توبہ اور اصلاح کا مرکز تھی۔ آج ہمیں ان کی اسی تعلیم کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمارا معاشرہ نفرت، بدگمانی، غیبت، حسد، معاشی ناانصافی، خاندانی اختلافات اور سوشل میڈیا کی تلخیوں سے متاثر ہے۔ ایسے ماحول میں غوثِ اعظمؒ کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ والا وہ نہیں جو لوگوں سے نفرت پھیلائے؛ اللہ والا وہ ہے جو اللہ کی محبت کے ساتھ مخلوق کے حقوق پہچانے۔
والدین کا احترام، پڑوسی کا حق، یتیم اور مسکین کی مدد، غریب کے ساتھ حسنِ سلوک، کمزور کے ساتھ انصاف، معاملات میں سچائی اور اختلاف میں شائستگی—یہ سب اسلامی معاشرے کی بنیادیں ہیں۔ اگر گیارھویں شریف کے اجتماعات ان اخلاق کو زندہ کرنے لگیں تو یقیناً وہ ہمارے معاشرے کے لیے رحمت بن سکتے ہیں۔
غوثِ اعظمؒ کی کرامات اور ہماری ذمہ داری
اولیائے کرام کی کرامات اسلامی روحانی روایت کا معروف موضوع ہیں۔ حضرت غوثِ اعظمؒ سے متعلق بھی بہت سے کرامات کے واقعات صدیوں سے تذکروں میں بیان ہوتے آئے ہیں۔ لیکن کرامت کا مقصد صرف حیرت پیدا کرنا نہیں۔ اگر کسی ولی کی کرامت کا واقعہ سن کر ہماری آنکھ نم ہوجائے، مگر نماز قائم نہ ہو؛ اگر دل میں عقیدت پیدا ہو مگر گناہ نہ چھوٹے؛ اگر زبان پر غوثِ اعظمؒ کا نام ہو مگر معاملات میں خیانت ہو، تو ہم نے اس واقعے کا اصل سبق حاصل نہیں کیا۔
ولی کی کرامت ہمیں اللہ کی قدرت کی یاد دلائے اور ولی کی سیرت ہمیں اپنی اصلاح کی طرف لے جائے—یہی صحیح فائدہ ہے۔ اگر ہم واقعی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی میں ان کی تعلیمات کے چند بنیادی اصول زندہ کرنے ہوں گے: اللہ کا خوف، نماز کی پابندی، علمِ دین کی طلب، سنت کی پیروی، حلال کمائی، گناہوں سے اجتناب، سچی توبہ، حسنِ اخلاق، مخلوقِ خدا کی خدمت، اور ہر حال میں اللہ پر اعتماد۔
حضرت غوثِ اعظمؒ کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی بلندی دنیاوی شہرت سے نہیں بلکہ اللہ کے ساتھ تعلق سے ہوتی ہے۔ وہ علم کے ذریعے بلند ہوئے، عبادت کے ذریعے بلند ہوئے، تقویٰ کے ذریعے بلند ہوئے، مجاہدۂ نفس کے ذریعے بلند ہوئے، مخلوق کی اصلاح کے ذریعے بلند ہوئے اور اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت کے لیے وقف کرکے بلند ہوئے۔
حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی زندگی ہمارے سامنے ایک ایسا روشن نمونہ پیش کرتی ہے جس میں علم بھی ہے، عبادت بھی؛ شریعت بھی ہے، روحانیت بھی؛ تقویٰ بھی ہے، معاشرتی اصلاح بھی؛ اللہ سے تعلق بھی ہے اور مخلوقِ خدا کی خیرخواہی بھی۔
گیارھویں شریف اسی عظیم شخصیت کی یاد کو تازہ کرنے کا ایک موقع ہے۔ مگر اس موقع کو صرف ایک رسمی سالانہ تقریب بنا دینا کافی نہیں۔ ہمیں اس دن حضرت غوثِ اعظمؒ کے پیغام کو اپنے گھروں، مدارس، مساجد اور معاشرے تک لے جانا ہوگا۔
ہم قرآن پڑھیں، درود و ذکر کریں، ایصالِ ثواب کریں، صدقہ و خیرات کریں، غریبوں کی مدد کریں، حضرت غوثِ اعظمؒ کی سیرت اور تعلیمات بیان کریں اور پھر اپنے نفس سے کہیں:
اے نفس! جس بزرگ کو تو غوثِ اعظم کہہ کر یاد کرتا ہے، اس کی زندگی سے کچھ سیکھ بھی۔ پھر گیارھویں شریف صرف ایک تاریخ نہیں رہے گی؛ یہ ایک اصلاحی تحریک بن جائے گی۔
اور یہی شاید حضرت غوثِ اعظمؒ کی یاد کا سب سے خوبصورت حق ہے کہ ان کے نام پر چراغ جلانے سے پہلے اپنے دل میں تقویٰ کا چراغ روشن کیا جائے؛ ان کی کرامات سنانے سے پہلے ان کے کردار کو سمجھا جائے؛ ان کی محبت کا دعویٰ کرنے سے پہلے نماز، سنت، علم، تقویٰ اور حسنِ اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور تمام صالحین کی محبتِ صادقہ عطا فرمائے، ان کی نیک تعلیمات کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہر قسم کی غلو، خرافات اور غیر شرعی امور سے محفوظ رکھے، ہماری محافل کو قرآن و سنت، ذکر و فکر، علم و عمل اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بنائے، اور ہمیں ایسا مسلمان بنائے جس سے اللہ بھی راضی ہو اور اللہ کی مخلوق بھی محفوظ و مطمئن رہے۔ آمین یا رب العالمین۔
شیخ مصطفی الرحمن
دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی