سنو! سنو!!

حیا ایسی کہ اپنی سیٹ بھی چھوڑ دی!

(ناصرالدین مظاہری)

ٹرین سے سفر درپیش تھا۔ حضرت جوان تھے، ایک خادم بھی ہمراہ تھا۔ ٹرین میں اپنی مخصوص سیٹ پر پہنچے، بیٹھ گئے اور سفر شروع ہوگیا۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک عورت اسی ڈبے میں داخل ہوئی اور آکر حضرت کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
حضرت قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا کی طرف تشریف لے گئے، مگر کافی دیر گزرنے کے باوجود واپس اپنی سیٹ پر تشریف نہ لائے۔ خادم کو تشویش ہوئی۔ آخرکار وہ حضرت کو تلاش کرتا ہوا بیت الخلا کی طرف گیا تو دیکھا کہ حضرت وہاں دروازے کے سامنے راہ داری میں کھڑے ہیں۔
خادم نے عرض کیا:
’’حضرت! خیریت تو ہے؟ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ سیٹ پر تشریف لے چلیے!‘‘
حضرت نے فرمایا:
’’سیٹ پر کیسے چلوں؟ وہاں تو ایک عورت آکر بیٹھ گئی ہے۔ جب تک وہ وہاں بیٹھی رہے گی، میں یہیں گیلری میں کھڑا رہوں گا۔‘‘
یہ معمولی واقعہ نہیں، حیا اور تقویٰ کی ایک پوری داستان ہے۔
سیٹ اپنی تھی، سفر اپنا تھا، سامنے بیٹھنے والی ایک اجنبی عورت تھی؛ مگر نگاہوں کی حفاظت اور اختلاط سے بچنے کا احساس ایسا تھا کہ اپنی سہولت، اپنی سیٹ اور اپنے آرام سب کو قربان کردیا، لیکن دل کو یہ گوارا نہ ہوا کہ ایک اجنبی عورت کے سامنے جاکر بیٹھیں۔
یہ تھے ریحانۃ الہند حضرت مولانا شیخ محمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنیؒ کے خلیفہ و مجاز، مظاہرعلوم کے شیخ الحدیث، ہزاروں طلبہ کے استاذ و مربی حضرت مولانا شیخ محمد یونس جونپوریؒ۔
رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔

(چھ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)