*غربت انسان کو کفر تک لے جاتی ہے ایک درد ناک اور فکری حقیقت*
زندگی کے سفر میں انسان کو طرح طرح کے تجربات اور مشاہدات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کچھ مناظر دل کو خوش کر دیتے ہیں اور کچھ ایسے دل خراش حقائق بھی سامنے آتے ہیں جو انسان کی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ غربت محض چند خالی جیبوں اور خالی برتنوں کا نام نہیں بلکہ بعض اوقات یہ ایک ایسی آزمائش بن جاتی ہے جو انسان کی اخلاقی۔ معاشرتی اور ایمانی قوتوں تک کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اسی تناظر میں یہ قول بہت گہرا معنی رکھتا ہے کہ *غربت انسان کو کفر تک لے جاتی ہے*۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر غریب انسان کفر کی طرف چلا جاتا ہے بلکہ یہ کہ فقر و فاقہ کی انتہائی شدت انسان کو ایسی آزمائش میں مبتلا کر سکتی ہے جہاں ناشکری۔ مایوسی اور دین سے دوری کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے ایک ایسا ہی دل دہلا دینے والا واقعہ میرے سامنے آیا جس نے اس حقیقت کو میرے لیے محض ایک قول نہیں رہنے دیا بلکہ ایک زندہ تجربہ بنا دیا۔ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس نے اپنے بوڑھے والدین کو گھر سے نکال دیا ہے۔ یہ سن کر میرے اندر کا انسان تڑپ اٹھا۔ میں اپنے گھر سے نکلا تاکہ مولوی ہونے کے ناطے انکو والدین کا مرتبہ بتا سکوں ان سے ملاقات کی اور شکوہ کرتے ہوئے کہا بھائی آپ نے یہ بہت غلط کیا ہے۔ جن ماں باپ نے آپ کو پالا جنہوں نے اپنی جوانی آپ کے لیے قربان کردی۔ آج جب وہ بوڑھے اور محتاج ہوگئے تو آپ نے انہیں گھر سے نکال دیا؟میں نے والدین کے فضائل بغیر انکی بات سنیں بتانا شروع کر دیا۔اور بتاتا رہا اور وہ گردن جھکا کر جی جی کرتے رہے۔
میری بات سن کر وہ خاموش ہوگئے۔ پھر انتہائی شکست خوردہ لہجے میں کہنے لگے۔ مولانا میں ایک مزدور آدمی ہوں۔ روز مزدوری کرتا ہوں تو گھر کا چولہا جلتا ہے۔ پچھلے دنوں میری طبیعت سخت خراب ہوگئی۔ کئی دن بستر سے اٹھ نہ سکا۔ گھر میں بیوی ہے۔ دو چھوٹے بچے ہیں اور یہ بوڑھے والدین ہیں جن کی صحت ہمیشہ خراب رہتی ہے۔ بیماری نے مزدوری چھین لی اور مزدوری چھنی تو گھر کا چولہا بجھ گیا۔ میں اندر سے ٹوٹ گیا۔ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کس کا پیٹ بھروں اور کس کی دوا لاؤں۔
پھر انہوں نے اپنے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔مولانا آپ میرا یہ گھر دیکھ رہے ہیں؟ اس دور جدید میں جب لوگ ٹیکنالوجی کے سمندر میں تیر رہے ہیں۔ میرے پاس آج بھی برسوں پرانا نوکیا کا کی پیڈ والا فون ہے۔ آپ یہ چھپر دیکھ رہے ہیں؟ یہی میرا گھر ہے۔ اور اگر میرے گھر کا راشن دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی دیکھ لیجیے۔میں آگے بڑھا تو ایک چھوٹا سا برتن رکھا ہوا تھا جس میں بمشکل ایک دو کلو آٹا آ سکتا تھا۔ انہوں نے روتی ہوئی آواز میں کہا۔مولانا بس یہی آٹا بچا ہے۔ حالات کی تنگی کی وجہ سے میں نے اپنے بچوں کو ان کے ننہال بھیج دیا ہے تاکہ کم از کم انہیں دو وقت کی روٹی تو مل سکے۔ میں خود یہاں اکیلا رہتا ہوں۔ اپنے ہاتھ سے الٹی سیدھی روٹی بناتا ہوں اور کبھی صرف مرچ کے ساتھ کھا لیتا ہوں۔کبھی صرف روٹی کھا لیتا ہوں۔ مقصد صرف اتنا ہوتا ہے کہ پیٹ میں لگی آگ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوجائے۔مزید بتایا مولانا میں چار دن بیوی کو گئے ہو گئے ہیں صرف دو ٹائم کھانا کھایا ہوں۔🥹
اس کی باتیں سنتے ہوئے میرے پاس الفاظ ختم ہوتے جا رہے تھے۔ ایک طرف بوڑھے والدین کا گھر سے نکالا جانا میرے لیے ناقابل قبول تھا اور دوسری طرف اس شخص کی حالت میرے دل کو چیر رہی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ بعض اوقات انسان کا ایک غلط قدم پوری داستان نہیں بتاتا۔ اس غلط قدم کے پیچھے بیماری بھوک بے روزگاری قرض بچوں کی فکر والدین کی دوا اور زندگی کی بے شمار الجھنیں چھپی ہوتی ہیں۔میں نے اپنی حیثیت کے مطابق اس کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ خود داری رکھنے والا انسان تھا۔ بار بار مجھ سے منع کرتا رہا اور کہتا رہا کہ مولانا رہنے دیجیے۔ میں کسی سے مانگنا نہیں چاہتا۔میں نے بہت اصرار کیا مگر وہ لینے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ آخر میں، میں نے ان سے صرف اتنا کہا بھائی اسے مدد نہ سمجھو۔ جب حالات بہتر ہوجائیں تو واپس کردینا۔ میری یہ بات سن کر وہ کچھ رقم رکھنے پر آمادہ ہوگئے۔ شاید اسے خیرات لینے سے زیادہ اپنے قرض واپس کرنے کا خیال تھا جبکہ میرا کوئی اس طرح کا نظریہ نہیں۔ مگر میرے دل میں اس وقت ایک عجیب کیفیت تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ جس انسان کے گھر میں ایک دو کلو آٹے سے زیادہ کچھ نہیں۔ جو اپنے بچوں کو دوسروں کے گھر بھیجنے پر مجبور ہے۔ جو خود مرچ کے ساتھ روٹی کھا کر گزارا کر رہا ہے۔ اس کے سامنے چند نوٹ رکھنا کوئی احسان نہیں بلکہ ایک انسان کا دوسرے انسان کے درد کو محسوس کرنا ہے۔
اس ملاقات کے بعد میں دیر تک سوچتا رہا۔ واقعی اسلام کا ہر قانون قانونِ فطرت ہے۔ اس دن مجھے دل کی گہرائی سے سمجھ آیا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا نظام کیوں رکھا۔ صدقات و خیرات کی اتنی ترغیب کیوں دی۔ مال داروں کے مال میں محتاجوں کا حق کیوں رکھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال روکنے اور محتاجوں کے حقوق ادا نہ کرنے کے بارے میں اتنی سخت وعیدیں کیوں بیان فرمائیں۔یہ صرف عبادت کا ایک باب نہیں بلکہ معاشرے کے توازن کا ایک عظیم نظام ہے۔ ایک طرف اسلام انسان کو محنت اور کسبِ حلال کی تعلیم دیتا ہے اور دوسری طرف یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ اگر کوئی انسان بیماری۔ محتاجی یا کسی ناگہانی مصیبت کی وجہ سے گر جائے تو معاشرہ اسے مرنے کے لیے تنہا نہ چھوڑ دے۔ زکوٰۃ اور صدقات اسی اجتماعی رحمت کا نام ہیں۔ یہ مال کو صرف امیروں کے ہاتھوں میں گردش کرنے سے روکتے ہیں اور ضرورت مند تک زندگی کی بنیادی سہولت پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے گھروں میں مہینوں کا راشن موجود ہے۔ الماریاں کپڑوں سے بھری ہوئی ہیں۔ موبائل چند ماہ بعد تبدیل ہوجاتے ہیں۔ دسترخوان پر کئی کئی قسم کے کھانے سجتے ہیں۔ لیکن شاید اسی شہر میں۔ اسی محلے میں۔ کبھی ہمارے دروازے سے چند قدم کے فاصلے پر کوئی ایسا شخص بھی موجود ہو جس کے گھر میں کل کے کھانے کی ضمانت تک نہ ہو۔
خدارا ایسے انسانوں کی کبھی کبھی خبر گیری کر لیا کرو بروز محشر ہم سے ان کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔یاد رکھیے بھوکے انسان کو صرف نصیحت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے روٹی بھی چاہیے۔ بیمار انسان کو صرف صبر کا درس نہیں چاہیے۔ اسے دوا بھی چاہیے۔ بے روزگار انسان کو صرف تسلی نہیں چاہیے۔ اسے روزگار کا راستہ بھی چاہیے۔ اور محتاج انسان کو صرف دور کھڑے ہوکر دعائیں دینے کے بجائے کبھی کبھی اپنے ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامنا بھی پڑتا ہے۔شاید ہمارے دیے ہوئے چند روپے کسی کے لیے معمولی ہوں لیکن کسی غریب کے لیے وہ ایک دن کا کھانا بن سکتے ہیں۔ کسی بیمار کی دوا بن سکتے ہیں۔ کسی بچے کی فیس بن سکتے ہیں۔ کسی ماں کے گھر کا راشن بن سکتے ہیں اور شاید کسی ایسے انسان کو مایوسی کے اس کنارے سے واپس لاسکتے ہیں جہاں سے واپسی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔
اس لیے اپنے اردگرد دیکھیے۔ زکوٰۃ نکالیے۔ صدقات دیجیے۔ محتاجوں کی خبر گیری کیجیے۔ کسی ضرورت مند کو تلاش کیجیے۔ کیونکہ اسلام نے ہمیں صرف مال جمع کرنا نہیں سکھایا بلکہ مال کے ذریعے انسانیت کو زندہ رکھنا بھی سکھایا ہے۔اور اس ملاقات کے بعد میرے دل میں یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہوگئی کہ اسلام کے احکام محض چند رسمی قوانین نہیں۔ یہ انسان کی فطرت۔ معاشرے کی ضرورت اور زندگی کے حقیقی مسائل کو سامنے رکھ کر عطا کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو فرض کرکے صرف غریب کا حق مقرر نہیں کیا بلکہ امیر کے مال کو بھی پاک کیا اور معاشرے کو ٹوٹنے سے بچانے کا ایک مضبوط ذریعہ عطا فرمایا۔ واقعی اسلام کا ہر قانون قانونِ فطرت ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس قانون کو سمجھیں بھی اور اپنی زندگی میں نافذ بھی کریں۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*