سنو سنو!!
سوشل میڈیائی الٹیاں
ناصرالدین مظاہری
انسانی طبیعتیں مختلف ہیں ، بعض معدے لکڑ پتھر ہضم کرلیتے ہیں بعض نازک ہوتے ہیں اور وہ خلاف مزاج اشیاء کو ہضم نہیں کرپاتے تو الٹی کردیتا ہے۔
یہی حال سوشل میڈیا کا ہے، آپ کوئی بھی پلیٹ فارم کھول لیں ہر جگہ گند ملے گی، بازاروں میں اتنے منتشر الافکار اور مختلف الخیال اتنے نہیں ملیں گے جتنے بیک وقت سوشل میڈیا پر مل جائیں گے۔بازار اگرچہ ابغض البلاد ہیں مگر اس ابغض البلاد میں کچھ اچھے اور سچے لوگ مل جائیں گے اور پہچانے بھی جائیں گے یہاں تو حال ہی بے حال ہے کچھ پتہ نہیں کون کس قماش کا بندہ ہے ، کون کس خیال کا ہے، حتی کہ مذہب کا بھی پتہ نہیں ہے، کیونکہ سوشل میڈیا مذہبی حدود و قیود سے بالاتر ہے اسے تو کمائی کرنی ہے اور کمائی مذہب نہیں دیکھتی ہے۔
آپ کسی بھی بڑی شخصیت کے خلاف کچھ بھی بکواس کرکے دیکھ لیں آپ کے ہزاروں ہمنوا مل جائیں گے، آپ گالیاں دیتے ہیں ،گالیاں لکھتے ہیں تو گالیوں کے شوقین آپ کو فالو کرلیں گے، آپ مذہب کی مخالفت یا کسی بھی موضوع پر مخاصمت شروع کردیں ہزاروں لامذہب اکٹھے ہو جائیں گے۔
کسی نے بھی کچھ بھی لکھ دیا، بس شئیر کرنے والوں نے کار ثواب یا فتنہ سمجھ کر آگے بڑھا دیا حالانکہ جھوٹ بولنا بھی جرم ہے پھیلانا بھی جرم ہے ۔
حیرت یہ ہے کہ آج کا انسان کھانے پینے کی چیز خریدتے وقت بھی تاریخِ تنسیخ دیکھتا ہے، مگر خبر کی تاریخِ تنسیخ نہیں بھی دیکھتا۔
دہی خراب ہو تو ناک فوراً خبر دے دیتی ہے، دودھ پھٹ جائے تو آنکھ پہچان لیتی ہے، مگر خبر جھوٹی ہو تو عقل کہتی ہے:
’’واہ! کیا زبردست خبر ہے، آگے بھیجنی چاہیے!‘‘
سوشل میڈیا نے ہر شخص کو ناشر بنا دیا ہے، مگر ہر ناشر کو محقق نہیں بنایا۔
اب ہر آدمی کے ہاتھ میں اخبار ہے، مگر ایڈیٹر کوئی نہیں۔
ہر شخص کے پاس منبر ہے، مگر منبر کی ذمہ داری کا احساس کم ہی لوگوں کو ہے۔
ہر شخص تبصرہ نگار ہے، مگر مطالعہ کہاں ہے؟
ہر شخص فیصلہ سنانے کو تیار ہے، مگر تحقیق سے واسطہ کتنا ہے؟
اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہم اپنی بات سے زیادہ دوسروں کی بات پر یقین کرتے ہیں، بشرطیکہ وہ ہماری پسند کی بات ہو۔
جو بات ہماری خواہش کے مطابق ہو، وہ فوراً ’’مصدقہ اطلاع‘‘ بن جاتی ہے اور جو ہماری رائے کے خلاف ہو وہ سازش اور جھوٹ لگتی ہے۔
یہ سوشل میڈیا کا عجیب معدہ ہے؛
اپنی پسند کی ہر چیز ہضم،
اور ہر ناپسندیدہ چیز کی فوراً الٹی!
سوشل میڈیا پر لکھنا بری بات نہیں، مگر بلا سوچے اور جانے ہر لکھی ہوئی بات کو آگے بڑھانا بھی کوئی دینی، علمی یا اخلاقی فریضہ نہیں۔ کبھی لائک نہ کرنا بھی عقل مندی ہے، کبھی کمنٹ نہ کرنا بھی دانش مندی ہے، اور کبھی فارورڈ نہ کرنا تو باقاعدہ خدمتِ خلق ہے!
کیونکہ ایک غلط بات جب ایک آدمی کے ذہن میں ہو تو صرف ایک آدمی متاثر ہوتا ہے؛ وہی بات جب دس ہزار آدمیوں تک پہنچ جائے تو دس ہزار ذہنوں میں کچرا بھر سکتی ہے۔ اس لیے ہر خبر کو اپنے موبائل یا کمپیوٹر سے آگے بھیجنے سے پہلے ذرا غور و فکر کر لیجیے۔
ممکن ہے جو چیز آپ فارورڈ کرنے جارہے ہیں، وہ خبر نہ ہو؛
کسی کی الٹی ہو!
(نو ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)