مہکتی کتابیں

نام کتاب: گنج ہائے گرانمایہ
مصنف: رشید احمد صدیقی
صنف: خاکہ نگاری
ناشر: نگارشات بک اسٹور دیوبند

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

’’کس بلا کے بولنے اور لکھنے والے تھے۔ بولتے تو معلوم ہوتا بوالہول کی آواز اہرام مصر سے ٹکرا رہی ہے، لکھتے تو معلوم ہوتا کرپ کے کارخانے میں توپیں ڈھل رہی ہیں یا پھر شاہجہاں کے ذہن میں تاج کا نقشہ مرتب ہورہا ہے۔‘‘

مولانا محمد علی جوہر کی شان میں مرحوم رشید احمد صدیقی کی یہ تان پڑھ کر کیا طبیعت میں کھلبلی نہیں مچتی کہ آگے بھی پڑھا جائے؟ یہ چند جملے پڑھ کر فیصلہ کیجیے کہ جس قلم نے کسی شخصیت کے بولنے کو بوالہول کی آواز، لکھنے کو توپوں کی ڈھلائی اور فکر کو تاج محل کے نقشے سے تعبیر کیا ہو، وہ قلم محض خاکہ نگار کا قلم ہوسکتا ہے؟

نہیں! یہ قلم آدمی کو صرف دیکھتا نہیں، پکڑ لیتا ہے؛ صرف بیان نہیں کرتا، مجسم کردیتا ہے؛ صرف ہنساتا نہیں، ہنسی کے پردے میں ایک پورا عہد دکھا دیتا ہے۔

رشید احمد صدیقی کی گنج ہائے گرانمایہ اسی کمالِ نظر اور کمالِ فن کا نام ہے۔

بعض کتابیں محض پڑھ لی جاتی ہیں، بعض کتابوں کے کچھ حصے یاد رہ جاتے ہیں اور بعض کتابیں پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے کتاب نہیں پڑھی بلکہ کسی زمانے میں چند ساعتیں زندگی بسر کی ہیں۔ گنج ہائے گرانمایہ اسی آخری قسم کی کتاب ہے۔

یہاں شخصیتیں کاغذ پر کھڑی نہیں ہوتیں، چلتی پھرتی ہیں؛ گفتگو کرتی ہیں، مسکراتی ہیں، کبھی چونکاتی ہیں اور کبھی اپنی کسی چھوٹی سی عادت سے اپنا پورا قد دکھا دیتی ہیں۔ مصنف کا کمال یہ ہے کہ وہ کسی شخص کی پوری سوانح لکھنے نہیں بیٹھتے؛ شخصیت کے کسی ایک روشن گوشے پر انگلی رکھتے ہیں اور پھر وہی ایک گوشہ پورا چہرہ روشن کردیتا ہے۔

رشید احمد صدیقی کے یہاں طنز ہے مگر تضحیک نہیں، مزاح ہے مگر ابتذال نہیں، محبت ہے مگر خوشامد نہیں۔ وہ اپنے آدمیوں کو فرشتہ بنا کر پیش نہیں کرتے؛ ان کی انسانیت سمیت پیش کرتے ہیں۔ خوبی دیکھتے ہیں تو داد دیتے ہیں، کمزوری نظر آتی ہے تو اس پر مسکرا دیتے ہیں، مگر مسکراہٹ میں بھی ایک ایسی تہذیب ہوتی ہے کہ جس پر ہنسی آتی ہے، اس سے محبت کم نہیں ہوتی۔ یہی اس کتاب کا جادو ہے۔

گنج ہائے گرانمایہ میں صرف افراد نہیں، علی گڑھ کی ایک پوری تہذیبی دنیا محفوظ ہوگئی ہے۔ وہ لوگ جن کی آوازیں وقت کے شور اور تحت الشعور کی گہرائیوں میں کہیں گم ہوگئیں، جن کے ساتھ بیٹھکیں ختم ہوگئیں، جن کی محفلیں اجڑ گئیں، جن کے حقے سرد اور شربت کی ضیافتیں قصۂ پارینہ ہوگئیں، رشید احمد صدیقی نے انہیں اپنے قلم کی روشنی اور نظر کے کیمرے سے پھر سے سجا دیا، پھر سے بٹھا دیا۔ قاری صفحات الٹتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی پرانی مگر شاندار محفل کا دروازہ کھل گیا ہو۔

یہاں ایک طرف بڑے بڑے نام ہیں اور دوسری طرف ان ناموں کے پیچھے چھپے ہوئے انسان۔ یہی وجہ ہے کہ رشید صاحب کے خاکے تعریف نامے نہیں بنتے، تصویریں بن جاتے ہیں۔

ان کے یہاں لفظ صرف معنی نہیں دیتے، منظر بھی بناتے ہیں۔ جملہ صرف بات نہیں کہتا، کیفیت پیدا کرتا ہے۔ تشبیہ محض آرائش و زیبائش نہیں رہتی بلکہ شخصیت کی کوئی ایسی خصوصیت پکڑ لیتی ہے جو عام نگاہ سے اوجھل ہوسکتی تھی۔

اسی لیے رشید احمد صدیقی کو پڑھتے ہوئے کبھی قہقہہ بے اختیار نکل جاتا ہے، کبھی لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ٹھہر جاتی ہے اور کبھی اچانک محسوس ہوتا ہے کہ ہم جس شخص کے خاکے پر ہنس رہے تھے، اس کے زمانے کے گزر جانے کا غم بھی ہمارے دل میں اتر آیا ہے۔

خاکہ نگار کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہنساتے ہنساتے رلا دے اور اپنی محبت پاش تعبیرات سے روتوں کو ہنسا دے۔ یہی تو بڑے مزاح نگار اور بڑے خاکہ نگار کی پہچان ہے: وہ آپ کو ہنساتا ہے، مگر ہنسی کے بعد آپ کو اپنے آپ سے بھی ملوا دیتا ہے۔

گنج ہائے گرانمایہ کا نام بھی کتنا موزوں ہے!

گنج یعنی خزانہ، اور گرانمایہ یعنی گراں قدر، قیمتی، انمول۔

واقعی یہ کتاب نام کی طرح ایک خزانہ ہے؛ مگر اس خزانے میں سونا چاندی نہیں، انسان ہیں۔ ایسے انسان جنہیں ایک صاحبِ نظر ادیب نے اپنے حافظے کی تجوری سے نکالا، اپنے مشاہدے کی کسوٹی پر پرکھا، اپنے مزاح کی روشنی میں دیکھا اور اپنے قلم سے اس طرح محفوظ کردیا کہ وقت کی گرد بھی ان کے نقوش کو دھندلا نہ سکی۔

اردو خاکہ نگاری کی دنیا میں بہت سے خاکے لکھے گئے، بہت سی شخصیتیں قلم بند ہوئیں، مگر رشید احمد صدیقی کا امتیاز یہ ہے کہ ان کے یہاں خاکہ شخصیت کا تعارف نہیں، شخصیت سے ملاقات بن جاتا ہے۔

گنج ہائے گرانمایہ کو پڑھتے ہوئے ہمیں بار بار یہ احساس ہوتا ہے:

کتاب ختم ہورہی ہے، مگر محفل ابھی ختم نہیں ہوئی۔

دنیائے اردو کو رشید احمد صدیقی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے الفاظ و تراکیب، استعارات و تشبیہات اور تمثیلات و ترکیبات کو محض کاغذ کی زبان نہیں رہنے دیا بلکہ انہیں روشنائی کی ایسی تصویر دے دی جس میں زندگی کے رنگ نمایاں ہیں۔

یہ ایسی تصویر ہے جس سے سیری نہیں ہوتی، ایسی کتاب ہے جس کی یاد ذہن سے محو نہیں ہوتی۔ کچھ تو ایسی بات ہے کہ ہزاروں کتابوں کے مطالعے کے باوجود گنج ہائے گرانمایہ کا وزن مزید بڑھتا محسوس ہوتا ہے، اس کی باتیں مزید پختہ، اس کے مشاہدات مزید گہرے اور اس کا اسلوب مزید شستہ محسوس ہوتا چلا جاتا ہے۔

(دس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)