شادی بیاہ: سادگی کی روایت سے نمود و نمائش تک

قاری محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری، میرٹھ

اسلام نے نکاح کو ایک پاکیزہ، بابرکت اور آسان رشتہ قرار دیا ہے۔ نکاح صرف دو افراد کے درمیان ازدواجی تعلق کا نام نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان ایک مضبوط رشتے کی بنیاد ہے۔ اسی لیے شریعت نے نکاح میں سادگی، آسانی، پاکیزگی اور اعتدال کو پسند کیا ہے۔ مگر افسوس کہ موجودہ دور میں شادی بیاہ کی تقریبات رفتہ رفتہ سادگی اور برکت کے بجائے نمود و نمائش، رسم و رواج اور فضول خرچی کا میدان بنتی جارہی ہیں۔

آج بہت سے خاندان شادی کو اپنی معاشی حیثیت اور سماجی مرتبے کی نمائش کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔ بارات کی شان و شوکت، بڑے بڑے شادی ہال، مہنگی سجاوٹ، قیمتی لباس، انواع و اقسام کے کھانے، مہندی اور سنگیت کی الگ الگ تقریبات، ڈی جے، اسٹیج پروگرام، پری ویڈنگ فوٹو شوٹ، سینیمیٹک ویڈیوز، ڈرون کیمرے اور سوشل میڈیا پر ان تقریبات کی نمائش—یہ سب مل کر شادی کے اصل مقصد کو کہیں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔

نکاح عبادت ہے، نمائش نہیں

اسلام نے نکاح کو آسان بنانے کی ترغیب دی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَعْظَمَ انِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً"
یقیناً سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں اخراجات سب سے کم (یا آسان) ہوں)
یہ حدیث ہمارے معاشرے کے لیے ایک واضح پیغام رکھتی ہے کہ نکاح کی برکت اخراجات کی کثرت میں نہیں بلکہ آسانی اور اعتدال میں ہے۔ لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ بعض جگہ نکاح سے زیادہ اس کی نمائش اہم ہوگئی ہے۔

دولہا اور دلہن کے مہنگے لباس، خصوصی میک اپ، فوٹو گرافی کے مختلف پیکیجز، پری ویڈنگ شوٹس اور کئی کئی گھنٹوں پر مشتمل ویڈیوز پر بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ بعض تقریبات میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نکاح نہیں بلکہ کسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا چند گھنٹوں کی نمائش کے لیے اتنا مال خرچ کرنا واقعی ضروری ہے؟

پری ویڈنگ شوٹ اور سینیمیٹک کلچر

جدید شادیوں میں پری ویڈنگ فوٹو شوٹ اور سینیمیٹک ویڈیو ایک نیا رجحان بن چکا ہے۔ شادی سے پہلے نوجوان جوڑے مختلف مقامات پر فوٹو اور ویڈیو شوٹس کراتے ہیں، پھر انہیں فلمی انداز میں ایڈٹ کرکے سوشل میڈیا پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ صرف مالی اخراجات کا مسئلہ نہیں؛ اس کے ساتھ شرعی حدود، پردے، غیر محرموں کے سامنے تصاویر اور بعض اوقات ایسے مناظر بھی شامل ہوجاتے ہیں جو اسلامی تہذیب و حیا کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔

شادی کی خوشی منانا اپنی جگہ، لیکن خوشی کے نام پر حیا، پردہ اور اسلامی اقدار کو قربان کرنا کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں۔

مہندی، سنگیت اور ڈی جے کی دوڑ

ہندوستانی معاشرے میں شادیوں کے ساتھ مختلف علاقائی اور ثقافتی رسوم صدیوں سے چلی آرہی ہیں۔ ہر رسم کو محض اس لیے برا نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نئی ہے یا غیر عربی ہے؛ اصل معیار شریعت ہے۔ جو رسم شرعی حدود سے متصادم ہو، اس میں گناہ، بے حیائی، اسراف یا غیر اسلامی تہذیب کی نقالی شامل ہو، اس سے بچنا ضروری ہے۔

آج بعض شادیوں میں مہندی اور سنگیت کے نام پر ڈی جے، فلمی گانوں، مرد و زن کے اختلاط، اسٹیج ڈانس اور غیر مناسب تفریح کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ شادی کی خوشی کو گناہ کے ماحول میں تبدیل کردینا کسی بھی طرح دانش مندی نہیں۔

کھانوں کی کثرت، مہمانوں کی تعداد اور اسراف

شادی کی تقریبات میں کھانے کی کثرت بھی ایک بڑا مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ کئی کئی قسم کے سالن، متعدد میٹھے، مختلف مشروبات، فاسٹ فوڈ، چائنیز، مغربی اور دیگر کھانوں کے نام پر اتنا اہتمام کیا جاتا ہے کہ کھانے کا بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔

قرآن کریم کا واضح حکم ہے:

"وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ"

"اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"

شادی میں مہمانوں کو اچھا کھانا کھلانا باعثِ اجر ہوسکتا ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ کھانا بنانا، صرف لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے انواع و اقسام کے کھانے سجانا اور پھر ان کا ضائع ہوجانا اسراف کے دائرے میں آتا ہے۔

جہیز: خوشی کے نام پر ایک خاموش بوجھ

ہمارے معاشرے کا ایک نہایت سنگین مسئلہ جہیز ہے۔ بعض خاندانوں میں لڑکی کی شادی اس وقت تک ممکن نہیں سمجھی جاتی جب تک اس کے ساتھ فرنیچر، برقی آلات، زیورات، گاڑی، نقد رقم اور دیگر قیمتی سامان نہ دیا جائے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور متوسط طبقے کو ہوتا ہے۔ ایک باپ برسوں اپنی بیٹی کی شادی کے لیے رقم جمع کرتا ہے، قرض لیتا ہے، اپنی ضروریات قربان کرتا ہے اور بعض اوقات اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی صرف چند گھنٹوں کی تقریب میں خرچ کردیتا ہے۔

یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جس نکاح کو اسلام نے آسان بنایا، ہم نے اسے اپنی رسموں کے ذریعے اتنا مشکل کیوں بنا دیا؟

شادی کی دوڑ میں غریب کہاں جائے؟

امیر خاندان جب لاکھوں روپے خرچ کرکے شادی کرتے ہیں تو متوسط اور غریب طبقے پر بھی اسی معیار کو برقرار رکھنے کا سماجی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ پھر ایک خاندان دوسرے کی نقل کرتا ہے، دوسرا تیسرے کی، اور یوں مقابلے کی ایک ایسی دوڑ شروع ہوجاتی ہے جس کی کوئی آخری منزل نہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ والدین بیٹی کی شادی کے لیے قرض لیتے ہیں۔ بعض لوگ سودی قرض تک لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ شادی ختم ہوجاتی ہے مگر قرض کی قسطیں برسوں باقی رہتی ہیں۔

سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض غریب بچیوں کے رشتے صرف اس لیے مؤخر ہوجاتے ہیں کہ والدین مہنگی شادی اور جہیز کا انتظام نہیں کرسکتے۔

کیا یہ اسلامی معاشرے کی علامت ہوسکتی ہے؟

اصل عزت سادگی میں ہے

ہمیں یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انسان کی عزت شادی کی شان و شوکت سے نہیں بلکہ اس کے کردار، تقویٰ، اخلاق اور خاندان کی نیک نامی سے ہوتی ہے۔

جس شادی میں لاکھوں روپے خرچ ہوں، مگر اس کے بعد والدین قرض کے بوجھ تلے دب جائیں، کھانا ضائع ہو، پردے کی خلاف ورزی ہو اور کئی غیر شرعی امور انجام پائیں، وہاں ظاہری چمک دمک کے باوجود برکت کا سوال ضرور پیدا ہوتا ہے۔

اس کے برعکس ایک سادہ نکاح، محدود مہمان، مناسب کھانا، شرعی حدود کی پابندی اور فضول اخراجات سے اجتناب یہ سب شادی کو بوجھ کے بجائے خوشی اور برکت کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔

تبدیلی کا آغاز کہاں سے ہو؟

اصلاح صرف تقریروں سے نہیں ہوگی۔ ہمیں عملی طور پر کچھ فیصلے کرنے ہوں گے۔

والدین طے کریں کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کو نمائش کا ذریعہ نہیں بنائیں گے۔ نوجوان عہد کریں کہ وہ غیر ضروری رسموں اور فضول اخراجات کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ خاندان یہ فیصلہ کریں کہ شادی کو مقابلہ نہیں بنائیں گے۔

مساجد کے ائمہ، علماء، مدارس، دینی تنظیمیں اور سماجی ادارے بھی اس سلسلے میں عوامی شعور بیدار کرسکتے ہیں۔ نکاح کی مجالس میں صرف فضائلِ نکاح بیان کرنا کافی نہیں، بلکہ جہیز، اسراف، غیر شرعی رسومات اور شادی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے نقصانات پر بھی مسلسل گفتگو کی ضرورت ہے۔

نوجوان نسل کے نام پیغام

اے نوجوانو!

یاد رکھو، شادی ایک دن کی تقریب نہیں بلکہ پوری زندگی کا سفر ہے۔ چند گھنٹوں کی تقریب میں لاکھوں روپے خرچ کرکے سوشل میڈیا پر چند تصویریں اور ویڈیوز حاصل کرنے کے بجائے اپنی نئی زندگی کو مضبوط بنانے پر توجہ دو۔

مہنگی تقریب کے بجائے اچھا اخلاق اختیار کرو۔ غیر ضروری رسموں کے بجائے سنت کو اپناؤ۔ قرض کے بجائے اعتدال اختیار کرو۔ دکھاوے کے بجائے برکت تلاش کرو۔

اور والدین بھی یہ سمجھیں کہ بیٹی کوئی بوجھ نہیں اور اس کی شادی خاندان کی معاشی حیثیت دکھانے کا موقع نہیں۔ بیٹی کی عزت اس جہیز میں نہیں جو اس کے ساتھ بھیجا جائے، بلکہ اس تربیت، کردار اور محبت میں ہے جو اسے اپنے گھر سے ملتی ہے۔

آئیے نکاح کو آسان بنائیں

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر شادی بیاہ کے بارے میں اپنی سوچ تبدیل کریں۔ نکاح کو مہنگا بنانے کے بجائے آسان بنائیں، شادی کو مقابلہ بنانے کے بجائے عبادت اور خوشی کا ذریعہ بنائیں، رسم و رواج کے بوجھ سے آزاد کریں اور فضول خرچی کے بجائے ضرورت مندوں کی مدد کو ترجیح دیں۔

اگر ایک خاندان سادگی اختیار کرے تو شاید لوگ اسے کم سمجھیں، لیکن اگر ایک محلہ سادگی اختیار کرے تو معاشرہ بدل سکتا ہے۔ اور اگر پورا معاشرہ نکاح کو آسان بنانے کا عزم کرلے تو نہ جانے کتنے غریب گھروں کی بیٹیوں کے لیے خوشیوں کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:

"إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ"

یقیناً فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔

لہٰذا ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی شادیوں میں برکت چاہتے ہیں یا صرف چمک دمک؟

شادی کا اصل حسن مہنگے لباس، بڑے ہال، قیمتی اسٹیج، ڈرون کیمروں اور لاکھوں روپے کی سجاوٹ میں نہیں، بلکہ نکاح کی پاکیزگی، سنت کی پیروی، خاندانوں کی خوشی، والدین کے اطمینان اور نئی زندگی کی برکت میں ہے۔

آئیے! شادی کو آسان بنائیں، رسموں کا بوجھ کم کریں، جہیز کے مطالبات ختم کریں، فضول خرچی سے بچیں اور اپنی نئی نسل کو ایک ایسا معاشرہ دیں جہاں بیٹی کی شادی والدین کے لیے بوجھ نہیں بلکہ خوشی اور رحمت کا موقع ہو۔