Translation unavailable. Showing original.
سورہ کہف جامعہ کے دن کس وقت پڑھی جائے ؟
25 ستمبر، 2026
سورۂ کہف جمعہ کے دن غروبِ آفتاب سے پہلے کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔ اسے فجر کے فوراً بعد پڑھنا یا نمازِ جمعہ سے پہلے ہی پڑھ لینا ضروری نہیں؛ اس لیے کہ حدیثِ مبارک میں *"فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ"* کے الفاظ وارد ہوئے ہیں، اور جمعہ کا دن غروبِ آفتاب تک باقی رہتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«"مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهُ النُّورُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ."» مشکاۃ المصابیح، کتاب فضائل القرآن، الفصل الثالث، ص: 189، ط: المکتبۃ الأشرفیۃ، دیوبند۔
ترجمہ:
"جس شخص نے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھی، اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن کر دیا جاتا ہے۔"
*جمعہ اور جمعہ کے دن سورۂ کہف کی فضیلت*
احادیثِ مبارکہ میں شبِ جمعہ (جمعہ کی رات) اور جمعہ کے دن دونوں میں سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ بعض روایات میں صرف جمعہ کی رات کا ذکر ہے اور بعض میں صرف جمعہ کے دن کا۔
شراح حدیث نے ان روایات میں تطبیق کی صورت یہ بیان فرمائی ہے کہ جن روایات میں صرف رات کا ذکر ہے، ان میں *رات اپنے دن سمیت مراد ہے، اور جن روایات میں صرف دن کا ذکر ہے، ان میں دن اپنی گزشتہ رات سمیت مراد ہے۔*
چنانچہ شبِ جمعہ، یعنی جمعرات کی مغرب سے جمعہ کے دن کی مغرب تک سورۂ کہف پڑھنے سے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت حاصل ہونے کی امید ہے۔
لہٰذا جمعرات کی مغرب کے بعد، جمعرات کی رات، جمعہ کی صبح، دوپہر، نمازِ جمعہ سے پہلے یا نمازِ جمعہ کے بعد، کسی بھی وقت سورۂ کہف پڑھی جا سکتی ہے۔ کسی ایک مخصوص وقت میں پڑھنے کو شرعاً لازم قرار نہیں دیا گیا۔
«"عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ."» سنن الدارمي، 2/546، دار الكتاب العربي۔
ترجمہ:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جس شخص نے جمعہ کی رات سورۂ کہف پڑھی، اس کے لیے اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نور روشن کر دیا جائے گا۔
علامہ مناوی رحمہ اللہ فیض القدیر میں حدیثِ مبارک کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
«"مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ". (ك هق) عن أبي سعيد.»
پھر فرماتے ہیں:
«"(من قرأ سورة الكهف في يوم الجمعة أضاء له من النور ما بين الجمعتين) فيندب قراءتها يوم الجمعة وكذا ليلتها كما نص عليه الشافعي رضي الله عنه، قال الطيبي: وقوله: "أضاء له"، يجوز كونه لازمًا، وقوله: "ما بين الجمعتين" ظرف؛ فيكون إشراق ضوء النهار فيما بين الجمعتين بمنزلة إشراق النور نفسه مبالغةً، ويجوز كونه متعديًا، والظرف مفعول به، وعليهما فسر: {فلما أضاءت ما حوله} ... (ك) في التفسير من حديث نعيم بن هشام عن هشيم عن أبي هاشم عن أبي مجلز عن قيس بن عبادة عن أبي سعيد (هق عن أبي سعيد) الخدري قال الحاكم: صحيح، فردّه الذهبي، فقال: قلت: نعيم ذو مناكير، وقال ابن حجر في تخريج الأذكار: حديث حسن، قال: وهو أقوى ما ورد في سورة الكهف".» 1فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، 6/198۔
یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس شخص نے جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھی، اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن کر دیا جاتا ہے۔"
اور علامہ مناوی رحمہ اللہ واضح فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنا مستحب ہے، اسی طرح جمعہ کی رات میں بھی پڑھنا مستحب ہے۔
*شبِ جمعہ اور یومِ جمعہ کی روایات میں تطبیق*
اسی کتاب فیض القدیر میں آگے لکھا ہے:
«"(من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة أضاء له من النور ما بينه وبين البيت العتيق) قال الحافظ ابن حجر في أماليه: كذا وقع في روايات يوم الجمعة وفي روايات ليلة الجمعة ويجمع بأن المراد اليوم بليلته والليلة بيومها".» فیض القدیر، 6/199۔
یعنی علامہ مناوی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ بعض روایات میں یومِ جمعہ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں اور بعض روایات میں لیلۃ الجمعہ کے، اور ان دونوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ دن سے مراد اس کی رات سمیت دن ہے اور رات سے مراد اس کے دن سمیت رات ہے۔
> اس تطبیق کی روشنی میں جمعرات کی مغرب سے جمعہ کے دن غروبِ آفتاب تک سورۂ کہف پڑھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
فقہِ حنفی کی معروف کتاب رد المحتار علی الدر المختار (فتاویٰ شامی) میں علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«**"مطلب ما اختص به يوم الجمعة»
«(قوله: قراءة الكهف) أي يومها وليلتها، والأفضل في أولهما مبادرةً للخير وحذراً من الإهمال".**» رد المحتار علی الدر المختار، 2/164، دار الفکر۔
ترجمہ:
"جمعہ کے دن کے مخصوص اعمال کے بیان میں مصنف کا قول 'سورۂ کہف پڑھنا'، اس سے مراد جمعہ کا دن اور اس کی رات دونوں ہیں، اور ان دونوں میں ابتدا ہی میں پڑھ لینا افضل ہے؛ تاکہ خیر کے کام میں جلدی ہو اور بھول جانے یا غفلت کا اندیشہ نہ رہے۔"
*لہٰذا مسئلہ کی صحیح اور جامع صورت یہ ہے کہ:*
سورۂ کہف جمعہ کے دن غروبِ آفتاب سے پہلے کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔ اسے فجر کے فوراً بعد پڑھنا یا نمازِ جمعہ سے پہلے ہی پڑھ لینا ضروری نہیں ہے۔ حدیث میں مطلقاً "فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ" کے الفاظ آئے ہیں، اس لیے جمعہ کے دن کے اندر کسی بھی وقت اس کی تلاوت کی جا سکتی ہے۔
اسی طرح احادیث میں شبِ جمعہ میں بھی سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ لہٰذا جمعرات کی مغرب سے جمعہ کے دن غروبِ آفتاب تک سورۂ کہف پڑھنے کی گنجائش ہے۔
البتہ کسی خاص وقت کو بذاتِ خود زیادہ فضیلت والا قرار دینے کی کوئی صریح دلیل موجود نہیں؛ البتہ فقہائے کرام نے ابتدا ہی میں پڑھ لینے کو اس لیے افضل قرار دیا ہے کہ خیر کے کام میں جلدی ہو اور بعد میں مصروفیت یا غفلت کی وجہ سے تلاوت رہ نہ جائے۔
پس اگر کسی نے جمعرات کی مغرب کے بعد سورۂ کہف پڑھ لی تو بھی فضیلت کی امید ہے، اور اگر جمعہ کی صبح، دوپہر، نمازِ جمعہ سے پہلے یا بعد میں پڑھی تو بھی درست ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
> مفتی محمد ابراہیم غفاری
> مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ