مرنے کے بعد کوئی کسی کا نہیں ہوتا
آج میں ایک جگہ گیا۔ سلام کرنے کے بعد میں نے پوچھا: ’’آپ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’بس، اس کمرے کی صفائی کر رہا ہوں۔‘‘
ان کے گھر میں تقریباً دس بارہ دن پہلے ایک شخص کا انتقال ہوا تھا۔ باتوں ہی باتوں میں انہوں نے بتایا کہ فلاں صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کے جو کپڑے اور دیگر سامان ہیں، ان میں سے جو چیزیں اچھی
حالت میں ہوں گی، انہیں غریبوں میں تقسیم کر دیں گے،
یا جو ہمارے کام کے ہوۓ ہم رکھ لیں گے اور جو خراب ہوں گی، انہیں پھینک دیں گے۔
جب میں نے یہ الفاظ سنے تو کچھ دیر کے لیے دنگ رہ گیا اور دل میں یہ خیال آیا کہ انسان اپنی پوری زندگی دنیا حاصل کرنے کے لیے کتنی مشقتیں اور محنتیں کرتا ہے، لیکن جب وہ دنیا سے چلا جاتا ہے تو اس کا سب کچھ یہیں رہ جاتا ہے۔
انسان جس نام اور شہرت کے لیے پوری زندگی کوشش کرتا ہے، مرنے کے بعد اس کی حیثیت بھی بدل جاتی ہے۔
جس مال و دولت اور سامان کو جمع کرنے کے لیے انسان دن رات محنت کرتا ہے، موت کے بعد وہ سب دنیا ہی میں رہ جاتا ہے۔
لیکن تیسری چیز یعنی اعمالِ صالحہ وہ چیز ہے جو انسان کے ساتھ قبر تک جاتی ہے اور وہاں کی مشکل گھڑی میں کام آتی ہے۔ افسوس کہ ہم پوری زندگی دنیا اور اس کے سامان کی فکر کرتے رہتے ہیں، لیکن اپنے اعمال کی فکر بہت کم کرتے ہیں۔
اس تحریر کا مقصد صرف یہ یاد دلانا ہے کہ اپنی زندگی میں کچھ ایسے نیک کام ضرور کر جائیں جو ہمارے مرنے کے بعد بھی ہمارے لیے ایصالِ ثواب اور اجر کا ذریعہ بنتے رہیں۔
نیک اولاد چھوڑ کر جائیں جو ہمارے لیے دعا کرے اور نیک اعمال کرے، کسی دینی یا فلاحی کام میں حصہ لیں، اللہ کی راہ میں کوئی ایسا کام کر جائیں جس کا فائدہ لوگوں کو ہمارے بعد بھی پہنچتا رہے۔ کوشش کریں کہ مرنے سے پہلے کوئی ایسا نیک عمل ضرور چھوڑ جائیں جس کا اجر ہمارے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ہمیں ملتا رہے۔
دنیا میں ہم جو کچھ جمع کرتے ہیں، وہ سب یہیں رہ جاتا ہے؛ لیکن جو نیکی اللہ کے لیے کرتے ہیں، وہ ہمارے لیے آگے کام آ سکتی ہے۔
بس اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ جب تک ہمیں زندہ رکھے، ایمان پر زندہ رکھے، اور جب دنیا سے رخصت فرمائے تو ایمان پر ہمارا خاتمہ فرمائے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ تمام امتِ مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور ہمیں دنیا سے جانے سے پہلے آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
بقلم: بدیع الزماں ثاقبی ارریاوی