چراغِ علم بجھ گیا
حضرت مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ کی رحلت پر پُرسوز تاثرات
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ایک شخص گیا، اور کچھ لوگ رخصت ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے علم و ادب کا ایک پورا باب بند ہوگیا، تربیت و شفقت کا ایک سایہ اٹھ گیا اور اہلِ علم کی بزم کا ایک روشن چراغ بجھ گیا۔ حضرت مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ کی وفات بھی اسی نوعیت کا ایک عظیم علمی و دینی سانحہ ہے۔
حضرت مولاناؒ محض ایک عالمِ دین نہ تھے، بلکہ وہ علم و عمل، درس و تدریس، عربی زبان و ادب، تصنیف و تالیف اور دعوت و تربیت کا حسین امتزاج تھے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی خدمت میں ان کی طویل وابستگی نے انہیں اس ادارے کی تاریخ کا ایک نمایاں کردار بنا دیا۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ علم کی شمع روشن کرنے اور نئی نسل کے ہاتھوں میں دین و ادب کی امانت منتقل کرنے میں گزرا۔
آج جب ان کی وفات کی خبر اہلِ علم تک پہنچی تو دل بے اختیار پکار اٹھا:
آہ! ایک اور چراغِ علم گل ہوگیا،
ایک اور سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا۔
جن کی آواز سے درس گاہیں آباد تھیں، جن کے قلم سے علمی صفحات سجتے تھے، جن کی مجلس سے طلبہ فیض پاتے تھے، آج وہ خاموش ہیں۔ مگر اہلِ علم جانتے ہیں کہ علماء کی زندگی ان کے جسم کے ساتھ ختم نہیں ہوتی؛ ان کا علم، ان کی تحریریں، ان کے شاگرد اور ان کی علمی خدمات ان کے بعد بھی ان کی زندگی کا اعلان کرتی رہتی ہیں۔
حضرت مولاناؒ نے اپنی زندگی اپنے لیے نہیں، بلکہ علم، دین اور ملت کے لیے گزاری۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جدائی کا غم صرف ان کے خاندان کا غم نہیں، بلکہ مدارس، جامعات، طلبہ، اساتذہ اور اہلِ علم سب کا مشترکہ غم ہے۔
آج ندوہ کی فضا یقیناً اداس ہوگی، درس گاہیں اپنے ایک شناسا وجود کو تلاش کر رہی ہوں گی، اور وہ شاگرد جنہوں نے برسوں ان سے علم و تربیت حاصل کی، اپنے محسن استاذ کی جدائی کو محسوس کر رہے ہوں گے۔
موت یقینی ہے، مگر بعض اموات انسان کو یہ احساس دلا دیتی ہیں کہ وقت گزر رہا ہے اور اہلِ علم ایک ایک کرکے ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔ ایسے مواقع ہمیں صرف غم زدہ نہیں کرتے بلکہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتے ہیں کہ جن لوگوں نے اپنی زندگیاں علم کی حفاظت میں صرف کردیں، ہم ان کی علمی میراث کو کس طرح آگے بڑھائیں گے؟
حضرت مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ کی وفات پر دل غمگین ہے، آنکھیں نم ہیں اور زبان پر بے اختیار یہی دعا ہے:
اے اللہ! اس مردِ علم و فضل کی لغزشوں سے درگزر فرما، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرما، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرما، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما اور ان کے اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین اور تمام اہلِ علم کو صبرِ جمیل عطا فرما۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
حضرت مولاناؒ دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کا علم باقی ہے، ان کی یاد باقی ہے، ان کے شاگرد باقی ہیں اور ان کی علمی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے فیض کو تادیر جاری رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
محمد شارق
ابن محمد اخلاق عالم