مطالعہ کیوں اور کیسے کریں؟
بہت سے طلبہ مطالعہ کرتے کرتے بعض اوقات اسے چھوڑ دیتے ہیں، بعض تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں، اور کتنے ہی نوجوان ایسے ہیں جو مطالعے میں ناکامی کی وجہ سے عمر بھر کے لیے خود اعتمادی کھو بیٹھتے ہیں۔ اس لیے مطالعے کو ہر حال میں جاری رکھنا چاہیے، چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔
مطالعہ ایک فن ہے۔ یہ طالب علم کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ کیسے غور و فکر کرے، کس طرح بحث و مباحثہ کرے اور کس طرح کسی مسئلے کا مشاہدہ و مطالعہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ مطالعہ انسان کو یہ صلاحیت بھی عطا کرتا ہے کہ وہ اپنی بات دلیل اور اچھے انداز کے ساتھ دوسروں کے سامنے پیش کر سکے۔
مطالعے کے مقاصد
مطالعے کے بنیادی طور پر دو مقاصد ہیں:
1. علم و معرفت کی ایک متعین مقدار حاصل کرنا۔
2. مختلف امور کی انجام دہی میں ضروری مہارت اور لیاقت حاصل کرنا۔
اس لیے صرف کتابیں پڑھ لینا ہی مطالعہ نہیں، بلکہ پڑھی ہوئی بات کو سمجھنا، اس پر غور کرنا، اسے یاد رکھنا اور ضرورت کے وقت اسے صحیح انداز میں پیش کرنا بھی مطالعے کا حصہ ہے۔
مطالعہ کیسے کریں؟
یہ جاننا بہت اہم ہے کہ مطالعہ کیسے کیا جائے۔ اگر مطالعے کا کوئی مناسب طریقہ اور منصوبہ نہ ہو تو انسان وقت صرف کرنے کے باوجود مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں کر پاتا۔
مطالعے کی اسکیم
سنجیدہ مطالعہ سستی، کاہلی، بے ترتیبی اور ضیاعِ وقت کے خلاف ایک جنگ اور نفس کے ساتھ ایک محاذ آرائی ہے۔ ہر کامیاب معرکے کے لیے ایک ٹھوس اسکیم اور مستحکم منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے۔
مطالعے کا پروگرام طالب علم کو اپنی ضروریات، صلاحیتوں اور حالات کی روشنی میں خود مرتب کرنا چاہیے۔ البتہ اس سلسلے میں ایک مفید طریقہ یہ ہے کہ طالب علم رات کو اپنے کمرے میں جائے اور بستر پر لیٹنے سے پہلے کاغذ اور قلم لے کر پورے دن کا محاسبہ کرے۔
گزشتہ رات سونے سے لے کر آج رات سونے تک اپنے چوبیس گھنٹوں کا جائزہ لے اور یہ لکھے کہ ہر گھنٹے میں اس نے کیا کام کیا۔ اس عمل سے اسے اندازہ ہوگا کہ اس کا کتنا وقت مفید کاموں میں صرف ہوا اور کتنا وقت فضول کاموں میں ضائع ہوا۔
اس محاسبے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان آہستہ آہستہ فضول کاموں کو چھوڑنے لگے گا اور اپنے وقت کو صحیح جگہ استعمال کرے گا۔ اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ ہر وقت کے لیے ایک متعین کام اور ہر کام کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر ہو۔
فضول کاموں میں اپنا قیمتی وقت برباد نہ کریں، کیونکہ وقت ایک ایسی نعمت ہے جو گزر جانے کے بعد واپس نہیں آتی۔
مطالعے کے فوائد
مطالعے کے بے شمار فوائد ہیں۔ طالب علم کے لیے یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم علم کو محفوظ کرنے کے لیے اسے لکھنے کا اہتمام بھی فرمایا کرتے تھے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مجھ سے زیادہ حدیث روایت کرنے والا کوئی نہیں، سوائے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے؛ کیونکہ وہ احادیث لکھ لیا کرتے تھے جبکہ میں نہیں لکھتا تھا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے احادیث کا جو مجموعہ تحریر کیا تھا، اسے ’’الصحیفۃ الصادقۃ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس سے طالب علم کو یہ سبق ملتا ہے کہ جو باتیں وہ مطالعے کے دوران اہم سمجھے، انہیں صرف ذہن میں محفوظ رکھنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ مناسب جگہ پر لکھ بھی لیا کرے۔
طالب علم کے لیے یہ بھی مفید ہے کہ بعض اہم عبارتیں، قواعد اور ضروری خلاصے ضرور یاد کرے۔ پھر جو بات اسے اچھی طرح یاد ہو، اسے دوسروں تک بھی پہنچانے کی کوشش کرے، تاکہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے اور اس کا اپنا علم بھی مزید پختہ ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً»
یعنی: ’’میری طرف سے پہنچاؤ، اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔‘‘
اسی طرح حدیث میں آتا ہے:
«رُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ»
یعنی: ’’بسا اوقات جس شخص تک بات پہنچائی جاتی ہے، وہ براہِ راست سننے والے سے زیادہ اسے محفوظ رکھنے والا ہوتا ہے۔‘‘
اسی لیے مطالعے کو اپنی زندگی کا اہم حصہ بنانا چاہیے۔ جہاں اپنے اساتذۂ کرام سے کوئی اچھی اور مفید بات سنیں یا کسی دوسرے شخص سے کوئی ایسی بات معلوم ہو جو اصلاح اور تربیت کے لیے مفید ہو، اسے فوراً لکھنے کی کوشش کریں اور پھر وقتاً فوقتاً اس کی نظرِ ثانی بھی کرتے رہیں۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مفید اور سنجیدہ مطالعے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے علم میں برکت عطا فرمائے، ہمیں غور و فکر کرنے والا بنائے اور جو کچھ پڑھیں اور سیکھیں اسے ہمارے لیے نافع بنائے۔
آمین ثم آمین
از قلم بدیع الزماں ثاقبی ارریاوی 🌿