غیر مسلم مفکرین کی نظر میں حضرت محمد ﷺ کا اخلاق و کردار
مؤلف :-مفتی محمد سرور فاروقی ندوی)
------------------------------------------
🖊️ بدیع الزماں ثاقبی ارریاوی 
------------------------------------------
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اخلاق و کردار ایسے عظیم تھے کہ صرف مسلمانوں ہی نے نہیں بلکہ غیر مسلم اہلِ علم اور مفکرین نے بھی آپ ﷺ کی شخصیت، سیرت اور کامیابی کا اعتراف کیا ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کرنے والے بہت سے غیر مسلم مصنفین نے آپ ﷺ کی سچائی، دیانت، صبر، عزم، قیادت اور اعلیٰ اخلاق کی تعریف کی ہے۔

امریکی مصنف مائیکل ایچ۔ ہارٹ (Michael H. Hart) نے اپنی معروف کتاب The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History میں حضرت محمد ﷺ کو پہلے نمبر پر رکھا۔ ان کے مطابق حضرت محمد ﷺ تاریخ کی ان شخصیات میں منفرد ہیں جنہوں نے مذہبی اور دنیاوی، دونوں میدانوں میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔

یہ بات غور طلب ہے کہ ایک غیر مسلم مصنف نے بھی حضرت محمد ﷺ کی زندگی کے اس پہلو کو تسلیم کیا کہ آپ ﷺ صرف ایک مذہبی پیشوا ہی نہیں تھے بلکہ ایک عظیم رہنما، قائد اور معاشرتی مصلح بھی تھے۔

اسی سلسلے میں بعض مغربی مفکرین نے اس بات پر غور کیا کہ دنیا میں بہت سے مذاہب اور مذہبی تحریکیں آئیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی اصل تعلیمات میں تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ اسلام کے بارے میں یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو تعلیمات لے کر آئے، وہ آج بھی مسلمانوں کی زندگی میں موجود ہیں اور قرآن و سنت کی صورت میں نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آ رہی ہیں۔

حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اسلام کی عملی تصویر تھی۔ آپ ﷺ نے جو تعلیم دی، پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھایا۔ آپ ﷺ کی سچائی، امانت، عدل، رحم، صبر، عفو و درگزر اور حسنِ معاشرت نے لوگوں کے دلوں کو متاثر کیا۔

لامارتین کی نظر میں حضرت محمد ﷺ

مشہور فرانسیسی مصنف الفونس ڈی لامارتین (Alphonse de Lamartine) نے اپنی کتاب Histoire de la Turquie میں حضرت محمد ﷺ کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر انسانی عظمت کو مقصد کی بلندی، وسائل کی کمی اور حیرت انگیز نتائج کے ذریعے پرکھا جائے تو تاریخ میں حضرت محمد ﷺ کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ اس نے حضرت محمد ﷺ کو فلسفی، خطیب، پیغمبر، قانون ساز، جنگجو اور افکار کے فاتح کے طور پر بیان کیا اور آخر میں انسانی عظمت کے معیار سے یہ سوال اٹھایا کہ کیا کوئی شخص محمد ﷺ سے بھی بڑا ہو سکتا ہے؟

یہ اعتراف اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت نے صرف اپنے زمانے کے لوگوں کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ صدیوں بعد بھی آپ ﷺ کی سیرت اہلِ علم کے لیے غور و فکر کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

مہاتما گاندھی کی رائے

مہاتما گاندھی نے بھی حضرت محمد ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا اور آپ ﷺ کی سادگی، بے لوثی، وعدوں کی پابندی، اپنے ساتھیوں سے محبت، شجاعت اور اللہ پر کامل اعتماد کو اسلام کی کامیابی کے اہم اسباب میں شمار کیا۔

گاندھی سے منسوب ایک معروف بیان میں یہ مضمون ملتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں اس کی کامیابی صرف تلوار کی وجہ سے نہیں ہوئی، بلکہ حضرت محمد ﷺ کی سادگی، بے غرض زندگی، اپنے ساتھیوں سے محبت، عہد کی پابندی اور اللہ پر اعتماد جیسی صفات نے لوگوں کے دل جیتے۔

یہ بات ہمارے لیے بھی بہت بڑا سبق ہے کہ دین کی دعوت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ کردار اور عمل سے بھی مؤثر ہوتی ہے۔

حضرت محمد ﷺ کی سچائی

حضرت محمد ﷺ کی سچائی کا ایک بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کے ابتدائی ایمان لانے والوں میں آپ ﷺ کے اپنے گھر والے اور قریبی رشتہ دار شامل تھے۔ وہ آپ ﷺ کی نجی اور گھریلو زندگی سے سب سے زیادہ واقف تھے۔ اگر آپ ﷺ کی زندگی میں جھوٹ یا دھوکے کا کوئی پہلو ہوتا تو سب سے پہلے یہی لوگ آپ ﷺ کی مخالفت کرتے، لیکن انہوں نے آپ ﷺ کی صداقت کو تسلیم کیا۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو نبوت سے پہلے بھی مکہ کے لوگ الصادق اور الامین کے لقب سے یاد کرتے تھے۔

ہمارے لیے اصل پیغام

دوستو! غیر مسلم مفکرین کا حضرت محمد ﷺ کی تعریف کرنا یقیناً قابلِ توجہ بات ہے، لیکن ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم خود اپنے نبی کریم ﷺ کی سیرت کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگی میں نافذ کریں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اخلاق اچھے ہوں، ہماری گفتگو میں سچائی ہو، ہمارے معاملات میں دیانت ہو، ہمارے دل میں دوسروں کے لیے رحم ہو اور ہمارے اندر صبر و برداشت پیدا ہو، تو ہمیں سیرتِ رسول ﷺ سے رہنمائی لینی چاہیے۔

آج ہمیں صرف یہ کہنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے نبی ﷺ سب سے عظیم اخلاق کے مالک تھے، بلکہ ہمیں اپنے کردار سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ہم واقعی آپ ﷺ کے امتی ہیں۔

آئیے! ہم عہد کریں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے، سچائی اور امانت کو اختیار کریں گے، والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور تمام انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں گے، اور اپنے اخلاق و کردار کے ذریعے اسلام کی خوبصورتی دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت ہمارے لیے صرف پڑھنے کی چیز نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے، آپ ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق دے اور ہمارے اخلاق و کردار کو بھی آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کے مطابق بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بدیع الزماں ثاقبی ارریاوی 🖊️