وہ گھر کی چھوٹی بیٹی تھی۔۔۔👸

عموما گھر کے چھوٹے بچے لاڈلے ہوتے ہیں، وہ بھی گھر کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھی، وہ تو سارے گھر کی رونق تھی، گھومتی پھرتی، ہنستی مسکراتی، چہچہاتی، ڈھیروں باتیں کرتی، بنا وجہ ہنستی اور سب کو ہنساتی تھی، ضرورت سے زیادہ بولتی، کبھی کبھی تو خود کی ہی کسی بات پر پاگلوں کی طرح ہنستی تھی_چپ رہنا یا کم ہنسنا جیسے اس کی فطرت میں ہی نہیں تھا۔ وہ ایک ایسی لڑکی تھی جس کی زندگی میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی بھی بڑی اہمیت تھی، ساری فکروں سے آزاد، اپنی ہی دنیا میں مست و مگن رہنے والی ایک لا پرواہ سی لڑکی تھی اسے دنیا کی پرکھ ہی نہ تھی، وہ نازک سی کلی دنیا کی رنگت سے نا واقف تھی_

اسے ہر قدم پر محبت، ہمدردی اور فکر ملی۔ بابا کی لاڈلی تھی، انتہا کی ضدی، شرارتی بہت چنچل، شوخ اور کسی حد تک معصوم چلبلی تتلی کے مانند تھی، خواہشوں کا ایک انبار تھا جو کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتا تھا، سب کو تنگ کرتی اور بہت نخرے کرتی، اسے لگتا تھا کہ زندگی ہمیشہ اسی طرح اس پر مہربان رہے گی، محبتیں ملتی رہیں گی اور اس کی چھوٹی سی دنیا ہمیشہ آباد رہے گی۔

لیکن پھر اچانک وقت نے کروٹ بدلی۔

ذمہ داریوں نے اس کے سر پر دستک نہیں دی بلکہ آ کر ٹھہر گئیں۔ پڑھائی کہیں پیچھے چھوٹ گئی، کتابوں کے سبق ادھورے رہ گئے اور زندگی نے اپنے سبق سکھانا شروع کر دیے۔

اب وہ محبت کی دنیا سے نکل کر مطلبی، فریبی اور بے حس دنیا میں قدم رکھ چکی تھی، اب وہ دنیا کو سمجھنے لگی تھی، لوگوں کے رویّوں کو سمجھنے لگی تھی۔ وہ جو دو میٹھے بول سن کر لوگوں کو اپنا محسن سمجھ بیٹھتی تھی، اب ان کی منافقت اور مکاریوں کو پہچاننے لگی تھی، وہ دھیرے دھیرے محتاط ہونے لگی، لوگوں سے فاصلہ رکھنے لگی اور پھر لوگوں کی بھیڑ سے نکل کر تنہائی کو اپنا ساتھی چن لیا_

زندگی کی تلخیاں بڑھتی گئیں اور ان کے اثرات اس کی شخصیت پر بھی پڑنے لگے، اس کے لہجے میں تلخی اترنے لگی، معصومیت کہیں کھونے لگی۔ آہستہ آہستہ وہ شرارتیں، وہ مستیاں، وہ ضد اور وہ بے شمار خواہشیں، سب جیسے وقت کی گرد میں کہیں گم ہو گئیں۔

اور پھر اسی بیچ اس کا سب سے بڑا سہارا اس کے بابا بھی اسے اس بے رحم دنیا کی بھیڑ میں تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔
اس کے بابا صرف ایک باپ نہیں بلکہ محبت، تحفظ، اپنائیت اور بے فکری کا احساس تھے_

اس نے اپنے بہن بھائیوں کو اپنی زندگی میں مصروف ہوتے ہوئے دیکھا، اب وہ اکیلی رہ گئ زندگی کے ہر طوفان کا سامنا اب اسے تنہا ہی کرنا تھا اور پھر ہوا بھی یہی زندگی کے ہر موڑ پر ہر غم اور خوشی میں وہ اکیلی رہ گئ اس نے ہر حالات اور آزمائش کا سامنا تنہا رہ کر ہی کیا، والدین کو بوڑھا ہوتے ہوے دیکھا، اپنے پیارے بابا کو بیماری سے لڑتے ہوے دنیا سے رخصت ہوتے دیکھا اور اس جدائ کا گہرا زخم بھی سہا_

اب وہ پہلے جیسی نہیں رہی، لوگوں کے ہجوم سے دور، تنہائی میں سمٹی ہوئی، اپنے اندر جانے کتنے احساسات لیے ایک مردہ دل کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔

وہ صرف لوگوں کے رویّوں سے نہیں بدلی، زندگی کی ذمہ داریوں سے بھی بدلی، وقت کے تجربات سے بھی بدلی، اور اس جدائی سے بھی جس نے اس کے اندر بہت کچھ خاموش کر دیا۔ اب وہ ہر بات پر نہیں ہنستی، ہر کسی پر اعتبار نہیں کرتی، ہر دکھ بیان نہیں کرتی، کچھ باتیں اپنے اندر رکھ لیتی ہے، کچھ آنسو تنہائی کے حوالے کر دیتی ہے اور کچھ یادوں کو دل میں لیے خاموش بیٹھی رہتی ہے۔

وہ لڑکی جو کبھی پورے گھر کی رونق ہوا کرتی تھی، آج خود اپنے اندر کی رونق کھو چکی ہے۔

اب جب وہ کبھی اپنے ماضی کے دریچے میں جھانکتی ہے اور اپنے پرانے وجود کو یاد کرتی ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی اور کی زندگی کا حصہ تھا، وہی چہرہ وہی وجود مگر اب وہ بے فکری، وہ شوخیاں اور وہ بے ساختہ ہنسی کہیں کھو گئ جو معمولی سی بات پر بھی ہنس پڑتی تھی، بےفکری سے اپنی خواہشیں بیان کرتی تھی، جسے دنیا کی پیچیدگیوں کا اندازہ نہیں تھا۔ اب اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے صرف کچھ لوگ یا کچھ خوشیاں نہیں کھوئیں، بلکہ وقت کے ساتھ اپنے اندر کی وہ لڑکی بھی کہیں کھو دی ہے، جس کا لوٹ آنا اب اس کے لیے ایک خواب سا بن گیا ہے۔
وہ نہ چاہتے ہوے بھی وقت سے پہلے بڑی اور مضبوط بننے پر مجبور ہو گئ_

اب وہ کہتی ہے:

شوخ چنچل اور شرارت میں مگن بھرپور تھی
گزرے جو پل ان دنوں میں بھی بہت مسرور تھی
 ت اعظمی✍️