دھرم (مذہب) کا جنون نہیں، وطن کی ترقی کا جذبہ چاہیے

مذہب ہر انسان کا ذاتی عقیدہ اور آستھا ہے۔ ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن مذہب کے نام پر غنڈہ گردی کرنا، نفرت پھیلانا یا دوسروں کو تکلیف پہنچانا کسی بھی صورت درست نہیں۔

اگر ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ مذہب اپنی جگہ قابلِ احترام ہے، لیکن کسی بھی مذہبی شناخت کے نام پر ملک کے قانون کو چیلنج کرنا یا قانون سے بالاتر سمجھنا مناسب نہیں۔ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

ملک اسی وقت ترقی کرتا ہے جب اس کے شہری تعلیم، محنت، دیانت داری اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ جب ہر فرد اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرتا ہے تو اس کی ترقی، ملک کی ترقی کا سبب بنتی ہے۔

اس لیے ہمیں مذہبی تعصب اور نفرت کو چھوڑ کر محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے۔ جب تمام مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے ملک کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں گے، تبھی ہمارا وطن حقیقی معنوں میں ترقی کرے گا۔ کیونکہ ملک کی ترقی ہی ہماری اپنی ترقی ہے۔
بدیع الزماں ثاقبی ارریاوی