*اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے کبھی منہ نہیں پھیرتا۔*
انسانی زندگی میں بعض اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جب دنیا کے تمام دروازے بند دکھائی دیتے ہیں۔ جن سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں وہی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ جنہیں اپنا سمجھا جاتا ہے وہی بے وفائی کر جاتے ہیں۔ دولت، منصب اور اقتدار کے سامنے رشتوں کی محبت دم توڑنے لگتی ہے۔ لیکن ایک ذات ایسی ہے جو اپنے بندے کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتی۔ جس کی رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی اور جس کے دروازے سے کوئی سائل محروم نہیں لوٹتا۔ وہ ذات اللہ رب العزت کی ہے۔ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب ایک حکایت میں اسی حقیقت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
روایت ہے کہ ایک بادشاہ سخت بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ بیماری کی شدت اس قدر بڑھ گئی کہ وہ اپنے بستر سے اٹھنے اور کروٹ بدلنے کے قابل بھی نہ رہا۔ سلطنت کے بڑے بڑے حکیم اور طبیب بلائے گئے۔ ہر ایک نے اپنی مہارت کے مطابق علاج کیا لیکن کسی کو بھی مرض کی اصل حقیقت معلوم نہ ہوسکی۔ بالآخر ایک حکیم نے عرض کیا کہ میرے ایک بزرگ استاد ہیں جو علم و تجربے میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ آپ کے مرض کی تشخیص بھی کرلیں گے اور علاج بھی تجویز فرمائیں گے۔ بادشاہ نے فوراً شاہی سواری روانہ کی اور اس بزرگ حکیم کو دربار میں حاضر کیا گیا۔ حکیم نے بادشاہ کی حالت دیکھی اور نبض پر ہاتھ رکھ کر مرض کی تشخیص کرلی۔ اس نے بتایا کہ بیماری کا علاج ممکن ہے لیکن اس کے لیے ایک سات یا آٹھ سال کے بچے کے خون سے دوا تیار کرنی ہوگی اور اس کے لیے بچے کی جان لینا ضروری ہوگا۔ بادشاہ نے پوری سلطنت میں اعلان کروادیا کہ جو شخص اپنا بچہ بادشاہ کی جان بچانے کے لیے پیش کرے گا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا اور اس کی زندگی بھر کی ضروریات شاہی خزانے سے پوری کی جائیں گی۔ سپاہیوں نے پورے ملک میں اعلان کیا لیکن کوئی بھی والدین اپنے جگر کے ٹکڑے کو دولت کے عوض قربان کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ بالآخر سپاہیوں کی نظر سمندر کے کنارے آباد ایک غریب خاندان پر پڑی۔ وہاں ایک میاں بیوی اپنے سات یا آٹھ سالہ بیٹے کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ بچہ بڑی دعاؤں اور منتوں کے بعد پیدا ہوا تھا اور والدین کی آنکھوں کا نور تھا۔
شاہی سپاہیوں نے انہیں مال و دولت کا لالچ دیا اور کہا کہ اپنا بچہ بادشاہ کے حوالے کردو اور اس کے بدلے اتنی دولت حاصل کرلو کہ ساری زندگی آرام و آسائش سے گزر جائے۔ *افسوس کہ دولت کی چمک نے والدین کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا کہ وہ اپنے لخت جگر کی محبت بھی بھول گئے اور اپنے ہی بچے کو سپاہیوں کے حوالے کردیا۔ بچے کو شاہی دربار میں لایا گیا اور ایک جگہ قید کردیا گیا۔ *اب بادشاہ نے اپنے قاضی کو طلب کیا اور ایسا فتویٰ لکھنے کا حکم دیا جس کے مطابق بادشاہ کی جان بچانے کے لیے ایک نابالغ بچے کو قتل کرنا جائز قرار پائے۔ قاضی نے بھی حق و انصاف کا دامن چھوڑ دیا اور دولت و اقتدار کے سامنے جھک کر ایک بے گناہ بچے کے قتل کو جائز قرار دے دیا۔* فتویٰ دربار میں پہنچا تو بادشاہ نے حکیم کو علاج شروع کرنے کا حکم دیا۔
بچے کو لایا گیا اور جلاد کو بلاکر قتل کی تیاری شروع کردی گئی۔ *بچہ بادشاہ کے سامنے لٹایا گیا اور جب جلاد نے تلوار اٹھائی تو بادشاہ نے محسوس کیا کہ بچہ اپنے ہونٹ ہلا رہا ہے جیسے وہ کسی سے فریاد کر رہا ہو۔* چند لمحوں بعد اچانک بادشاہ نے بلند آواز سے حکم دیا کہ رک جاؤ اور اس بچے کو قتل نہ کیا جائے۔ دربار میں موجود تمام لوگ حیران رہ گئے کیونکہ وہ بادشاہ جسے مہینوں سے بستر سے اٹھنا نصیب نہ ہوا تھا اچانک اپنے قدموں پر کھڑا ہوگیا تھا۔ بادشاہ نے بچے کو آزاد کروایا اور اپنے قریب بلاکر پوچھا کہ بیٹا میں نے بڑے بڑے عبادت گزاروں سے دعائیں کروائیں اور بڑے بڑے حکیموں سے علاج کروایا لیکن مجھے شفا نہ ملی۔ تم نے چند لمحے اپنے ہونٹ ہلائے اور میری بیماری ختم ہوگئی۔ آخر تم نے کیا دعا مانگی تھی۔ *بچے نے نہایت معصومیت سے عرض کیا کہ بادشاہ سلامت میں نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی تھی کہ *اے اللہ دنیا میں انسان کے لیے سب سے زیادہ محبت کرنے والے اس کے والدین ہوتے ہیں لیکن میرے والدین نے دولت کے لالچ میں مجھے تمہارے حوالے کردیا اور مجھ سے منہ پھیر لیا۔ پھر میں نے اس قاضی کی طرف دیکھا جس سے لوگ انصاف کی امید رکھتے ہیں لیکن اس نے بھی دولت اور اقتدار کے سامنے اپنا ضمیر فروخت کردیا اور میرے قتل کو جائز قرار دے دیا۔ پھر میں نے آپ کی طرف دیکھا کہ بادشاہ اپنی رعایا کا محافظ ہوتا ہے لیکن آپ نے اپنی جان بچانے کے لیے ایک بے گناہ بچے کی جان لینے کا فیصلہ کرلیا۔ اے میرے پروردگار میرے لیے دنیا کے تمام سہارے ختم ہوگئے۔ میرے والدین نے مجھے چھوڑ دیا۔ انصاف کرنے والے نے انصاف نہیں کیا اور رعایا کے محافظ نے بھی میری حفاظت نہ کی۔ اے میرے اللہ کیا تو بھی اپنے اس بے بس بندے سے منہ پھیر لے گا۔ کیا تیرے دروازے سے بھی مجھے مایوسی ملے گی۔* حکایت کے مطابق بچے کی یہ فریاد سن کر بادشاہ کی آنکھیں کھل گئیں اور اس نے بچے کو آزاد کردیا۔
اس حکایت سے پہلا سبق یہ ملتا ہے کہ دولت کبھی رشتوں کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ مال و دولت انسان کی ضروریات تو پوری کرسکتی ہے لیکن محبت، خلوص، وفاداری اور اپنائیت نہیں خرید سکتی۔ ذرا سوچیے کہ جن والدین نے برسوں دعائیں مانگ کر ایک بچے کو حاصل کیا اگر وہی والدین چند دنیاوی آسائشوں کی خاطر اپنے جگر کے ٹکڑے کو قربان کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو اس سے بڑی محرومی کیا ہوسکتی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں ہم بھی اپنے معمولی مفادات کے لیے اپنے قیمتی رشتوں کو قربان تو نہیں کررہے۔ کہیں مال کی محبت ہماری محبتوں کو نگل تو نہیں رہی۔ یاد رکھیے کہ دولت آج ہے اور کل نہیں بھی ہوسکتی لیکن کسی اپنے کا ٹوٹا ہوا دل اور کھویا ہوا اعتماد شاید پوری زندگی واپس نہ مل سکے۔ *دوسرا سبق یہ ہے کہ منصب اور ذمہ داری کے ساتھ انصاف لازم ہے۔ قاضی کا کام حق و انصاف کا ساتھ دینا ہے چاہے اس کے مقابلے میں بادشاہ ہی کیوں نہ کھڑا ہو۔ اگر انصاف کرنے والا ہی دولت اور اقتدار کے سامنے جھک جائے تو مظلوم کہاں جائے گا۔* اسی طرح حکمران کی ذمہ داری رعایا کی جان و مال کی حفاظت ہے نہ کہ اپنے مفاد کے لیے کسی بے گناہ کی جان لینا۔
یہ سبق صرف قاضی اور بادشاہ کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہے جسے کسی بھی درجے میں اختیار اور ذمہ داری حاصل ہے۔ استاد ہو یا والد، افسر ہو یا حاکم، ہر شخص کو یاد رکھنا چاہیے کہ اختیار ایک امانت ہے اور ہر امانت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے یہاں جواب دہی ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم سبق یہ ہے کہ جب دنیا کے تمام سہارے ٹوٹ جائیں تب بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ بچہ اپنے والدین سے محروم ہوگیا، انصاف کے محافظ نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا اور بادشاہ نے بھی اس کی جان لینے کا فیصلہ کرلیا لیکن اس نے اپنے رب سے امید نہیں چھوڑی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ *{وَلَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللّٰهِ}* ترجمہ: اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔انسان کبھی لوگوں کی بے وفائی سے ٹوٹ جاتا ہے اور کبھی حالات کی سختی سے پریشان ہوکر مایوس ہونے لگتا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے حال سے بے خبر نہیں۔ دعا کی قبولیت ہمیشہ ہماری خواہش اور ہمارے مقرر کردہ وقت کے مطابق نہیں ہوتی۔ کبھی وہی چیز عطا ہوتی ہے جو ہم مانگتے ہیں کبھی اس سے بہتر عطا ہوتی ہے اور کبھی کسی مصیبت کو ہم سے دور کردیا جاتا ہے۔ اس لیے بندے کو چاہیے کہ ہر حال میں اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھے اور اس کی رحمت سے امید وابستہ رکھے۔
اس حکایت کا ایک اور اہم سبق یہ ہے کہ کسی مجبور اور بے بس انسان کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ کسی کا حق نہ دبایا جائے اور کسی کے آنسوؤں کا سبب نہ بنا جائے۔ جس شخص کے پاس دنیا میں کوئی طاقت نہیں ہوتی اس کے پاس بھی اپنے رب سے فریاد کرنے کا حق موجود ہوتا ہے۔ اس لیے کسی کمزور کو حقیر نہ سمجھیے اور نہ ہی کسی کی بے بسی کو اپنی کامیابی کا ذریعہ بنائیے۔ دنیا میں انسان کے سہارے بدلتے رہتے ہیں۔ آج جو ساتھ ہے ممکن ہے کل نہ ہو اور آج جس پر بھروسا ہے ممکن ہے کل وہی مایوس کردے لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جب کوئی آپ کا ساتھ چھوڑ دے تو اپنے رب کا دامن تھام لیجیے۔ جب کوئی آپ کی فریاد نہ سنے تو اپنے رب سے کہیے۔ جب دنیا کے دروازے بند ہوجائیں تو اس ذات کے دروازے پر دستک دیجیے جس کی رحمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ کیونکہ ہمارا رب وہ ہے جو دلوں کے بھید جانتا ہے، خاموش آنکھوں کے آنسو دیکھتا ہے اور بے زبانوں کی فریاد بھی سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے رشتوں کی قدر کرنے، حق و انصاف پر قائم رہنے، کسی پر ظلم نہ کرنے اور ہر حال میں اپنی رحمت سے امید وابستہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*