وہ ایک دن میرے سینے پر سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی اور میں موبائل پر شفیق جونپوری کا مجموعہ ۔خرمن۔ پڑھ رہا تھا اچانک اس نے میری طرف بھنویں چڑھا کر دیکھا اور بولی
سنیے جی
میں نے کتاب سے نظریں ہٹائے بغیر کہا جییی کہیے
وہ چند لمحے خاموش رہی پھر پوچھنے لگی
آپ کو زندگی میں کچھ بننے کا موقع ملے تو آپ کیا بننا پسند کریں گے؟
میں نے موبائل ایک طرف رکھا ہلکا سا مسکرایا اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا
جانی
مجھے زندگی میں اگر کچھ بننے کا موقع ملے نا تو میں تمہارا تکیہ بننا چاہوں گا
وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگی جیسے میری بات ابھی اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی
میں نے مسکراتے ہوئے کہا
ہاں تمہارا تکیہ تاکہ دن بھر کی تھکن سے چور ہو کر جب تم اپنا سر مجھ پر رکھو تو تمہارے تمام بوجھ خاموشی سے اپنے اندر سمیٹ لوں جب دنیا کی الجھنیں تمہیں پریشان کریں تو تم میرے پاس آ کر سکون سے آنکھیں بند کر سکو تمہاری بےچین راتوں کو سکون دے سکوں تمہارے آنسوؤں کو اپنے دامن میں چھپا سکوں اور تمہارے ان خیالوں کا ساتھی بن سکوں جو تم کسی سے کہہ نہیں پاتیں
میں چاہوں گا کہ تم جب بھی تھک جاؤ تمہیں کسی مضبوط ہونے کا دکھاوا نہ کرنا پڑے تم میرے پاس ویسی ہی رہ سکو جیسی تم حقیقت میں ہو اپنی خوشیوں اداسیوں ضد اور خاموشیوں سمیت
میں وہ تکیہ بننا چاہوں گا جسے تم ہر رات اپنے قریب رکھو جس پر سر رکھتے ہی تمہارے دل کو اطمینان ہو کہ اب کسی بات کی فکر نہیں اب تم محفوظ ہو
کیونکہ میری محبت کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ نہیں کہ تم ہمیشہ میرے ساتھ مسکراتی رہو بلکہ یہ ہے کہ اگر کبھی تمہاری آنکھیں نم ہوں دل بوجھل ہو اور دنیا تمہیں تھکا دے تو تمہیں سکون کی تلاش میں کہیں اور نہ جانا پڑے
میں تمہاری زندگی کا وہ گوشہ بننا چاہتا ہوں جہاں تمہیں محبت مانگنی نہ پڑے سکون تلاش نہ کرنا پڑے اور خود کو سمجھانا نہ پڑے جہاں تم بس اپنا سر رکھو اور تمہارا دل کہے بس اب سب ٹھیک ہے میرا اپنا میرے پاس ہے🙃
کاظم شیرازی