*ایک غلط نظریہ اور ٹوٹتا ہوا خاندان*
انسان کا گھر برباد کرنے کے لیے کبھی کبھی کسی بم، کسی ہتھیار یا کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی،کبھی کبھی ایک غلط نظریہ، ایک بے بنیاد شک، ایک جاہلانہ غیرت ہی پورے خاندان کو ملیامیٹ کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے،کسی کی زندگی کے لیے بعض اوقات صرف اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ وہ غلط وقت میں غلط جگہ پر ایک بے قصور شخص سمجھ لیا جائے۔
کہانی ایسی جسکی کوئی حقیقت نہیں لیکن معاشرے کا یہ رویہ عمل ہے،کہانی شروع ہوتی ہے ایک عام سے دن سےایک گھر کے دروازے پر ایک اجنبی لفافہ پھینکا جاتا ہے،گھر کی بہو نے دروازہ کھولا، لفافہ اٹھایا، اسے کھولا تو حیرانی ہوئی کہ اندر ایک ایسی چٹھی تھی جس پر نہ اس کا نام تھا نہ اس کا پتا،تحریر میں جذبات اور لغویات کا انبار تھا بہو نے دیکھا، سمجھا، اور فوراً کہہ دیا،یہ خط غلطی سے آیا ہے، میرا نہیں ہے
یہ کہہ کر وہ خط ایک طرف رکھ دیا دل مطمئن تھا، ضمیر مطمئن تھا کیونکہ حقیقت یہی تھی وہ بے قصور تھی اس میں اسکی کوئی غلطی نہیں تھی،اور کسی پاکیزہ عورت کو یہ سب شعبہ بھی نہیں دیتا،میں اس چیز کا قائل نہیں کہ ایسی عورتیں نہیں، ہیں ہمارے معاشرے میں لیکن بہت نا معلوم،لیکن مجھے اپنی ہیڈ لائن سمجھانا ہے اسکے علاوہ کچھ بھی نہیں اور مجھے امید ہے ذی شعور لوگ سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
آگے یہ ہوتا ہے کہ کچھ ساسیں، ساس کے نام پر دھبہ ہوتی ہیں اب اس معزز عورت کی بدنصیبی یہ تھی کہ وہ خط سب سے پہلے ساس کی نظر سے چڑھ چکا تھا،وہی ساس جس کے دل میں بہو کے لیے پرانی رنجشیں تھیں،جس کی زبان میں ہمیشہ زہر، اور آنکھ میں ہمیشہ شک بسا رہتا تھا،جس کے لیے بہو کی کوئی بھی صفائی معتبر نہیں تھی،اس کے ذہن میں ایک پل میں پورا فسانہ تیار ہو گیا،یہ بہو تو موقع ڈھونڈ رہی تھی یہ تو خط و کتابت کر رہی ہے یہ تو عاشقی لڑا رہی ہے،یہ تو ہمارے گھر کی عزت کو کھوکھلا کر رہی ہے،
دل میں بھرا ہوا بغض،زبان کے ذریعے شوہر کے کان میں اترنے کو بےتاب تھا۔
شوہر گھر آیا تو اس کو الگ لے جا کر ساس نے بڑے اعتماد سے سارا ڈرامہ سنایا،آنکھوں میں مصنوعی آنسو، لہجے میں خودساختہ غیرت، اور ہاتھ میں وہ خط یہ دیکھو تمہاری بیوی کی کرتوت وہ ہمیں معاشرے میں رہنے نہیں دے گی،وہ ہماری عزت سے کھلواڑ کر رہی ہے،اور ہمیں معاشرے میں ذلیل کرانا چاہتی ہے اسکی یہ حرکتیں مجھے گوارا نہیں تمہاری غیرت کیسی ہے یہ بھی پتا نہیں بیوی کیا گل کھلا رہی ہے،جتنا ہو سکتا تھا کان بھرے گئے اور اسے بے قابو کر دیا گیا۔
شوہر نے سچائی کا ایک لمحہ بھی مہلت نہ دی نہ سوال کیا، نہ صفائی سنی، نہ خط کے پتے کو دیکھا، نہ یہ سوچا کہ جس عورت کے ساتھ وہ کئی سال گزار چکا ہے اس کی پوری زندگی میں کبھی یہ حرکت سامنے نہیں آئی،غصّہ اندھا ہو گیا، غیرت پاگل ہو گئی، اور عقل بالکل مفلوج اسی وقت اس نے اپنی بیوی کو بلایا
اُس کی ایک بات بھی نہیں سنی
بس جاہلانہ غیرت کے نشے میں آکر اسے رسی سے باندھ کر مار مار کر لہولہان کر دیا،اس کی چیخیں گھر کے ہر کونے سے ٹکرائی لیکن سنی نہیں گئیں کیونکہ انسان جب بےغیرتی کو غیرت سمجھ لے، تو پھر حق کی آواز بھی اسے گناہ لگتی ہے،وہ پٹتی رہی اور کہتی رہی خدارا یہ میرا قصور نہیں یہ میرا خط نہیں اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،لیکن جہالت کے تمام درجوں کو وہ پار چکا تھا اور اسکی غیرت انسانی مفقود ہو چکی تھی،اور باتوں کے نشے میں پاگل ہو گیا تھا۔
وہ بے غیرت ساس دیکھتی رہی اور وہ بیوی رحم کی بھینک مانگتی رہی ظلم کے بعد خط کو اس بے غیرت ساس نے شوہر کے ہاتھ میں تھما دیا
شوہر نے پڑھا،محبت بھرے جملے، میٹھی سیچائیاں، بےہودہ فقرے،پاگلوں والی حرکتیں پڑھتا رہا اور غصے میں چور ہوتا رہا،اور اپنے آپکو کوستا رہا،وہ درد کی ماری نہ نہ کرتی رہی گویا یہ میری تحریر *کتنا مشکل ہوتا ہے ایسے گناہ کا اقرار کرنا جس کے ہم مرتکب نا ہوں* ہوں کا دوسرا پہلو ہے۔
اس کے بعد ساس نے دشمنی کو پختہ کرنے کے لیے لڑکی کے بھائی اور ماں کو بھی فون کر دیا،آؤ اپنی بدچلن بیٹی کو لے جاؤ ہمارے گھر کی عزت تباہ کر دی اس نے ہم نے پکڑ لیا اسے خط لکھتے ہوئے،اور بے ہودہ باتیں کرتے ہوئے،ادھر لڑکی زخموں سے چور بستر پر پڑی تھی،ادھر بھائی غیرت کے نام پر بھڑکتا ہوا آیااس نے نہ بہن کی حالت دیکھی، نہ خون دیکھا، نہ سسکیاں،صرف وہ بدگمانیاں دیکھیں جو ساس اور شوہر نے اس کے دماغ میں بھر دی تھیں،اس نے بہن کو گھسیٹ کر نیچے گرا دیا، تھپڑوں، لاتوں اور گالیوں کی بارش کر دی۔
لڑکی روتی رہی، ہاتھ جوڑ کر کہتی رہی،میرا اس خط سے کوئی تعلق نہیں یہ غلطی سے آیا ہے،لیکن اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے بہن نے بھائی سے قرآن کو ہاتھ میں لیکر قسم کھانے کا فیصلہ کیا،قرآن پاک منگوایا گیا،لڑکی نے وضو کیا،پوری لرزتی آواز سے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا
*خدا کی قسم میں بےقصور ہوں*
لیکن جب کسی کی عقل پر غلط نظریہ بیٹھ جائے،تو قرآن کی قسمیں بھی بیکار ہو جاتی ہیں،ساس نے آگ پر تیل چھڑکا،اور بولی ہمیں ایسی عورت کا بھروسہ نہیں،جو بیوی شوہر سے غداری کر سکتی ہے، وہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بھی بو سکتی ہے۔
بس یہ بات بھائی کے دماغ میں کیل بن کر گڑ گئی،اس نے منٹ بھر توقف نہ کیا پستول نکالی،اور اپنی ہی بہن کے سر میں چار گولیاں مار دیں
وہ سسکتی، اپنے بچوں کی طرف دیکھتی ہوئی دنیا سے رخصت ہوگئی،اور کہ گئی ایک دن انصاف کا ضرور ہے😭
چھ معصوم بچوں نے اپنی ماں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مارتے دیکھا
پہلے باپ کے ہاتھوں،پھر ماموں کے ہاتھوں وہ روتے رہے، گڑگڑاتے رہے
امی کو نہ مارو،امی کو نہ مارو کے نعرے لگاتے رہے،مگر غیرت کے نام پر عقل مر چکی تھی، دل پتھر ہو چکے تھے،اور عزت نفس کو بے ہودہ باتوں کی حقیقت جانے بغیر ہی بیچ چکے تھے،اور جب لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے پھر وہ شیطان کے ہر بہکاوے میں آ جاتے ہیں، خدارا اسلام نے ہر جرم کو ثابت کرنے کے کچھ شرائط و قوانین رکھیں ہیں اور آپ صرف ایک ناکردہ جرم پر زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے والے کون ہو۔
جب پولیس نے خط کا ریکارڈ نکالا تو پوری حقیقت دنیا پر کھل گئی وہ خط غلط پتے پر آیا تھا وہ خط کسی اور کے لیے تھا،وہ خط اس بےگناہ عورت کا نہیں تھا۔
قاتل بھائی نے سچ سن کر جیل میں خودکشی کر لی شوہر، ساس اور ماں سب گرفتار ہوئے،اور اپنے جرم پر آنسو بہاتے رہے،لیکن اب کیا ہونا تھا،پورا خاندان اجڑ چکا تھا،زندگیاں بے چین ہو چکی تھی اور پورا خاندان ملیامیٹ ہو چکا تھا۔
بھائی خدا کے لیے کسی کو مجرم قرار دینے سے پہلے جرم کی حتی الامکان تفتیش کریں اور سہی سمت میں فیصلہ کریں ورنہ یاد رکھنا ایک بہت بڑی عدالت اللہ کی بارگاہ میں بھی لگنی ہے جہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا جائے گا،اور وہاں آپکے پاس صفائی کا راستہ بھی موقوف ہو جائے گا۔
اللہ کریم ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق بخشے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*