*بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرحیم*
*الیکشن اور مسلمان کی ذمہ داری*
*حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا*
*روزِ قیامت درجے اور مقام کے* *اعتبار سے سب سے بدترین شخص وہ ہوگا جس نے کسی کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت برباد کر لی*
یہ حدیث الیکشن کے زمانے میں ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے جب الیکشن آتے ہیں تو ماحول بدل جاتا ہے لہجہ بدل جاتا ہے اور مخالفت اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ سامنے والا مسلمان ہو تب بھی اس کی کوئی پروا نہیں کی جاتی اس پر الزامات لگائے جاتے ہیں اس کی نیتوں پر حملے کیے جاتے ہیں اس کی برائیاں ڈھونڈی جاتی ہیں مجلسوں کا مقصد ہی یہ بن جاتا ہے کہ کسی طرح مخالف کو زیادہ سے زیادہ برا کہا جائے، یہ سب کھلی غیبت ہے بلکہ کئی جگہ تو صریح بہتان ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ غیبت اور بہتان کے بارے میں شریعت نے کتنی سخت وعیدیں سنائی ہیں۔
*ایک اور بڑی خرابی جو الیکشن کے ماحول میں عام ہو جاتی ہے* وہ یہ ہے کہ اللہ کے غیر کا بہت زیادہ ذکر کیا جاتا ہے فلاں یہ کر دے گا فلاں وہ کر دے گا فلاں کے ہاتھ میں سب کچھ ہے باتوں باتوں میں دلوں سے یہ یقین نکل جاتا ہے کہ نفع و نقصان عزت و ذلت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے یہ طرزِ گفتگو اور طرزِ فکر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے اور ایک مسلمان کو اس سے بہت ڈرنا چاہیے
اب سوال یہ ہے کہ *مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم الیکشن میں کیا کردار ادا کریں؟* اس کا جواب بہت سادہ ہے ہم ایسے شخص کو ووٹ دیں جو موجودہ حالات میں *کم سے کم نقصان دہ ہو* میں یہ نہیں کہتا کہ وہ ہمیں فائدہ ہی فائدہ پہنچائے بلکہ صرف یہ کہ اس سے نقصان کم ہو آج کی سیاست کس رخ پر چل رہی ہے یہ ہم سب جانتے ہیں اس لیے عقل کے ساتھ فیصلہ کرنا ہی درست راستہ ہے
ایک بات اور بھی بہت اہم ہے اور وہ یہ کہ *سیاست کی وجہ سے اپنے رشتے خراب نہ کریں* آج جو لوگ ایک دوسرے کے سیاسی حریف بنے ہوئے ہیں کل وہی ایک ہی میز پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہوں گے ایک دوسرے کے ساتھ مسکرا رہے ہوں گے لیکن ہم جو ان کے لیے لڑ جھگڑ کر ایک دوسرے سے بول چال بند کر چکے ہوں گے وہ رشتے آسانی سے واپس نہیں آئیں گے سیاست چند دن کی ہے، مگر رشتے زندگی بھر کے ہوتے ہیں،
اکثر سیاسی لوگ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں دین کے نام پر ایمان کے نام پر نعرے لگوائے جاتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اکثر وہ لوگ کرواتے ہیں جو خود *حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی* سنت یعنی داڑھی کا ایک بال بھی برداشت نہیں کرتے ذرا سا داڑھی کا بال نکل آئے تو فوراً صاف کر لیتے ہیں انگریزی لباس سے محبت رکھتے ہیں اور دین کو صرف ووٹ بٹورنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ایسے نعروں میں آ کر اگر ہم اندھے ہو جائیں تو یاد رکھیں ہم کسی کی دنیا تو بنا رہے ہوں گے مگر اپنی آخرت کو خطرے میں ڈال رہے ہوں گے
اسی لیے اس حدیث کو سامنے رکھ کر ہمیں بار بار اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہو رہا کہ ہم دوسروں کی دنیا کے لیے اپنی آخرت برباد کر رہے ہوں اختلاف رکھیں رائے رکھیں ووٹ دیں مگر رشتوں کی قربانی دیکھ کر نہیں اللہ ہمیں عقل کے ساتھ درست فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
*✍🏻از قلم عاقب شیخ غلام محمد دھولیہ مہاراشٹرا*